طلبہ میں ادب کا ذوق کیسے پروان چڑھایا جائے ؟

Updated: November 16, 2020, 12:22 PM IST | Mubasshir Akbar

اساتذہ ، شعراء اور ادباء سے گفتگو کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ طلبہ کو ادب کی جانب راغب کرنے کیلئے کیا مشورے دیں گے

Library - Pic : INN
لائبریری ۔ تصویر : آئی این این

  گزشتہ دنوں ہی پنڈت نہرو کا یوم پیدائش ’یوم اطفال ‘ کے طور پر پورے ملک میں منایا گیا۔ اس دوران یہ سوال بھی اٹھا کہ بچوں کو اور خاص طورپر طلبہ کو مطالعہ کی طرف کیسے راغب کیا جائے اور کیسے ان میں ادب کا ذوق پیدا کیا جائے۔ یہ بات تو بالکل واضح ہےکہ اکیسویں صدی میں بچوں  اور بڑوں دونوں کا کاغذ سے رشتہ متزلزل ہورہا ہے، عوامی ذرائع ابلاغ روز افزوں ترقی پذیر ہیں۔ بچوں کے حفظان صحت کا عملی کھیل بھی ایک چھوٹی سی ڈبیا یعنی موبائل  میں قید ہو کر رہ گیا ہے اور اس سلسلے میں اسکول و گھر دونوں کی صورت حال یکساں ہے۔ بچے اور بڑے سبھی کاغذ قلم سے اپنا رشتہ منقطع کرنے پر آمادہ و بیقرار نظر آرہے ہیں۔ ایسی صورت میں بچوں کو اور خاص طور پرطلبہ کو  ادب پڑھنے کی طرف کس طرح راغب کیا جائے کیوں کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے اس قدر یلغار کی ہے کہ اس کے سامنے ٹھہرنا محال ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں کیا حکمت عملی اپنائی جانی چاہئے جس کی مددسے ہم  بڑی کلاس کے طلبہ میں ادب کا ذوق پروان چڑھاسکیں۔اس تعلق سے ہم نے اپنے اساتذہ ، شعراء اور ادباء سے گفتگو کی  اور ان سے جاننے کی کوشش کی کہ  وہ طلبہ کو  ادب کی طرف راغب کرنے کیلئے کیا مشورے دیں گے ۔
 ممتاز شاعر اور’ کوئز ٹائم‘ جیسے انقلابی سلسلہ کے روح رواں حامد اقبال صدیقی  نےکہا کہ طلبہ کو ادب پڑھانے کےلئے اور ان میں وہ ذوق بیدار کرنے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ان کے لئے ادب لکھا جائے ۔ اس وقت ہم اردو والوں نے اپنے بچوں کے ساتھ نا انصافی کی انتہا کر رکھی ہے کہ ہم انہیں وہ ادب پڑھانے کی کوشش کررہے ہیں جو ان کی ذہنی سطح سے یا تو بہت اونچا ہے یا پھر ادنیٰ۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ہم کم از کم ۸؍ویں سے ۱۲؍ ویں تک کے طلبہ کی عمر اور ان کی ذہنی سطح کو دھیان میں رکھتے ہوئے ادب تخلیق کریں ۔ حامد اقبال صدیقی، جوگزشتہ کچھ برسوں سے’نئے قلمکاروں کی تلاش ‘جیسا انوکھا اور اپنے آپ میں منفرد پروگرام بھی چلارہے ہیں اور جس کے امید افزا نتائج ملنے کی توقع اردو حلقوں میں کی جارہی ہے ، کہتے ہیں کہ صرف ادب کی تخلیق یا اسے پڑھادینا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے طلبہ کو شعراء و ادباء کی عظمت و اہمیت کا احساس بھی کرانا ہو گا تبھی ان میں یہ ذوق پیدا ہو گا اور اس بات کی امنگ جاگےگی کہ وہ بھی کرشن چندر ، پریم چند ، پروین شاکر یا ادا جعفری بن سکتے ہیں۔ حامد اقبال ،جو دامے، درمے، سخنے اور قدمے اردو کی خدمت میں مصروف ہیں، نے  بتایا کہ وہ نئے قلمکاروں کی تلاش کے پروجیکٹ کے تحت جلد ہی اردو ٹریننگ کورسیز کی شروعات کریں گے ۔ فی الحال ان کی منصوبہ بندی جاری ہے جو جلد ہی عملی شکل اختیار کرے گی ۔
 معروف صحافی  ، افسانہ نگار اور صدر مدرس مشتاق کریمی کا کہنا ہے کہ طلبہ میں ادب کا ذوق بیدار کرنے کے لئے اور ان کی ذہنی نشو و نما کے لئے ضروری ہے کہ اسکولوں میں چھوٹی چھوٹی ادبی محفلوں کا انعقاد کیا جائے ،  درسی کتب سے ہٹ کر کلاسیکل لٹریچر کی کہانی ، نظمیں یا غزلیں طلبہ سے پڑھوائی جائیں اوران کی تشریح بھی کی جائے ۔ ساتھ ہی بچوں کے لئے خاص طور پر لکھی گئی کہانیوں کا ایک خصوصی سیشن ہر ہفتے منعقد کیا جاسکتا ہے جس سے طلبہ میں کہانی پڑھنے اور اسے سمجھنے کا ذوق پیدا ہوگا۔ یہی کام شاعری کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے۔ مشتاق کریمی جو  جلگائوں اور اطراف میں انتہائی منظم انداز سے جاری ’ مطالعہ بیداری مہم ‘  کے قائدین میں شامل ہیں ، نے مزید کہا کہ کسی بھی اسکول میں طلبہ میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنے کا بنیادی کام لائبریری کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ اگر طلبہ کو لائبریری جانےکی عادت لگادی جائے تو وہ خود بخود مطالعہ کی طرف بھی راغب ہوںگے اور ادب پڑھنے کیلئے بھی آمادہ رہیں گے ۔ان حالات میںاسکول کے صدر مدرس کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکول کی لائبریری کو بہتر طور پر آراستہ کروائے اور وہاں طلبہ کے ذوق و شوق کی زیادہ سے زیادہ کتابیں اور رسائل مہیا کروائے۔ مشتاق کریمی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ ہمارے معاشرے میں خط لکھنے کا چلن بالکل ختم ہو تا جارہا ہےاسے دوبارہ زندہ کرنے سےبھی ہم طلبہ کو اپنی وراثت کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی قریب کرسکیں گے ۔
 سہ ماہی تکمیل کے نائب مدیر عامر اصغر کے مطابق  ٹیکنالوجی کے دور میں ہمارے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہے  وہ  طلبہ میںادبی رجحان کو فروع دینا ہے کیوں کہ یہ نسل انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز کے حصار میں قید ہو چکی ہے  اس لیے اسے  ادب سے کوئی سروکار نہیں ہے ایسے میں اساتذہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کمرہ جماعت میں موجود طلبہ میں ا دبی ذوق کو پروان چڑھا نےکیلئے ہر ممکن طریقہ اختیار کریں ۔ ورنہ   ہمارے بعد کی نسلیں تعلیم یافتہ تو ہو جائیں گی لیکن وہ صرف سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کا چلتا پھرتا   اشتہار ہو ں گی ، ان میں وہ ادبی ذوق نہیں ہو گا جو کسی بھی معاشرے کے زندہ  اور بیدار ہونے کی نشانی ہے۔ عامر اصغر جو پیشے سے معلم ہیں  ، کہتے ہیں کہ طلبہ میں ادبی ذوق  بیدار کرنا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر قاری بن سکیں ۔  اس کے لئے سب سے پہلا طریقہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ بچوں میں ابتدائی عمر سے ہی کہانیاں پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، بچوں کو ہمارے کلاسک ادبی سرمایہ سے متعارف کرایا جائے، طلبہ کے مابین مضمون نویسی اور کہانی نویسی کا مقابلہ کرایا جائے اور ان کی  حوصلہ افزائی کے  لئے ان کہانیوں اور مضامین کو اخبارات میں شائع کیا جائے یا پھر اسکول کے وال میگزین پر چسپاں کیا جائے تا کہ دیگر طلبہ بھی اس جانب راغب ہو سکیں۔طلبہ  کے لئے  اسکول  لائبریری میں جانا لازمی قرار دیا جائے اور سال میں سب سے زیادہ کتابیں اسکول لائبریری سے حاصل کرنے  والے طالب علم کو اسکول کی سالانہ تقریب کے وقت اعزاز  سے نوازا جائے۔ 
   معروف معلم اور ادب کا ستھرا ذوق رکھنے والے عبد الرحیم ریاض احمد  کے مطابق کسی بھی انسان  میں اچھی عادتیں پروان چڑھانے کا درست وقت بچپن ہی ہو تا ہے ۔ دادی نانی سے کہانیاں سننا ماضی قریب میں بچوں کا معمول تھا جس سے ان میں کہانیوں کے تئیں شوق پیدا ہوتا تھا  پھر جب یہ بچے طالب علمی کے دور میں داخل ہوتے تو اپنے شوق کی تکمیل کے  لئے کتابوں کی طرف راغب ہوتے اور یہ بنیادی شوق انہیں رفتہ رفتہ ادب کی دیگر اصناف سے روشناس کراتا مگر آج کے دور میں جانے انجانے میں یہ رسم گھروں سے آٹھ گئی ہے ۔اب اس کی جگہ موبائل نے لے لی ہے۔آج بھی قاعدہ وہی ہے کہ ہمیں اس رسم کو گھروں میں دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ماں باپ میں سے کوئی ایک اس بات کو لازم کرلے کہ وہ اپنے بچوں کو کہانیاں سنائے۔ اپنے گھروں میں کہانیوں کی کتابیں ضرور رکھیں۔جب یہ بچے اسکولوں تک آئیں گے تو انہیں خود بخود  پڑھنے کیلئے بہت کچھ ملے گا اور تب ہم نہایت آسانی سے انہیں ادب کی جانب راغب کرسکتے ہیں۔ عبد الرحیم سر کے مطابق  دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم   اسکولوں کے خالی پیریڈس میں طلبہ کو خاموش بٹھائے رکھنے پر زور دینے کے بجائے انہیں کہانیاں سنانے یا پڑھنے کی طرف راغب کریں۔ اس سے کافی فرق پڑتا ہے کیوں کہ ایک کلاس کے ۷۰؍ میںسے کم از کم ۲۰؍ بچے ایسے ضرو ر مل جائیں گے جو باقاعدہ مطالعہ کی طرف راغب ہوں اور اسے اپنی عادت میں شامل کرلیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں لائبریری کے سسٹم کو فعال بنایا جانا بھی بہت ضروری ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK