الفرقان مکی سورۃ ہے۔ اس کی آخری آیات (۶۳۔۷۷) میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ ہم انہیں اختیار کریں۔
EPAPER
Updated: January 05, 2024, 2:23 PM IST | Abu Amkaf | Mumbai
الفرقان مکی سورۃ ہے۔ اس کی آخری آیات (۶۳۔۷۷) میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ ہم انہیں اختیار کریں۔
’’رحمٰن کے خاص بندے وہ ہیں جوزمین پر وقار اور متانت کی چال سے چلتے ہیں۔‘‘
(الفرقان: ۶۳)
الفرقان مکی سورۃ ہے۔ اس کی آخری آیات (۶۳۔۷۷) میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ ہم انہیں اختیار کریں۔ خطاب ’عبادالرحمٰن ‘سے کیا گیا ہے۔ ’’عباد‘‘ عبد کی جمع ہے ۔ عبادالرحمٰن کاترجمہ ہے ’’رحمٰن کے بندے۔‘‘یہاں مراد اللہ کے محبوب بندے ہیں۔ جس طرح ایک ماں اپنے فرماں بردار بچہ کو ’میرا بیٹا کہتی ہے ، جبکہ دوسرے بچے بھی اسی کے ہوتے ہیں ۔ اس سے جہاں فرماں برداری کی توصیف کی جاتی ہے۔ وہیں دوسروں کواس کے اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اسی مضمون کوبنی اسرائیل (۳۷) اور لقمان(۱۸) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
’’ زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔‘‘
حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ ایک شخص کوسر جھکاتے ہوئے چلتے دیکھا تو پکار کرفرمایا :’’ سر اُٹھا کر چل اسلام مریض نہیں ہے۔‘‘
ایک اور شخص کوانہوں نے مریل چال چلتے دیکھا تو فرمایا : ’’ ظالم ، ہمارے دین کو کیوں مارے ڈالتا ہے۔‘‘ کسی مسلمان کوایسی چال چلتے دیکھ کر انہیں خطرہ ہوتاتھا کہ یہ چال دوسروں کےسامنے اسلام کی غلط نمائندگی کرےگی اورخود مسلمانوں کے اندرافسردگی پیدا کردے گی ۔
اسلام در اصل ایک دعوت ہے ، ایک پیغام ہے، ایک تحریک ہے ، ایک قوت ہے۔
قرآن عباد الرحمن سے قوت کے ساتھ چلنے کوپسند کرتا ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار کرنے کا نام ہے۔ جب عبادالرحمٰن اللہ کے سامنے جھکتے ہیں (رکوع وسجود میں ) تو اس سے زیادہ جھکنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بندوں کے سامنے جھکنا تو کسی صورت میں درست نہیں اور اپنی چال میں ضعیفانہ اورمریضانہ چال اختیار کرنا تصنع اور بناوٹ ہے۔ عبادالرحمٰن جب ضیوف الرحمٰن (حج یا عمرہ ادا کرنے کے لئے ) بن کر مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور احرام میں طواف کرتے ہیں تو رمل (تیز قدم) اوراضطباع (داہنا کندھا کھلا رکھنا ) کرتے ہیں ۔ طواف عین عبادت ہے اوراس عبادت میں اظہارِ قوت کوپسند کیا گیا ہے۔ جب عین حالت عبادت میں اظہارِ قوت کو پسند کیا گیا ہے تو عام چال میں مریل اورمریضانہ چال کو کیوں کر پسند کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے تعلق سے حدیث میں ہے کہ’’ آپ ایسا چلتےتھے کہ گویا زمین آپؐ کے لئے سمٹتی جارہی ہے۔‘‘ (معارف القرآن) آپ ﷺ کے چلنے کا تذکرہ حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے’’ جیسے آپ بلندی سے ڈھلوان کی طرف جارہے ہیں۔‘‘ (دعوۃ القرآن)
تجربہ کرکے دیکھئے، کسی پہاڑی پر چڑھ جائیے اورڈھلوان کی طرف سے آتے ہوئے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آپ کواترتے ہوئے سینہ سیدھا رکھ کر ، بلکہ تان کر اترنا ہوگا ورنہ گرنے کا امکان ہے ۔ گویا عبادالرحمٰن قوت کے ساتھ نسبتاً تیز قدم رکھتے ہوئےسینہ سیدھا رکھ کر چلتے ہیں ۔ اس طرح کا چلنا دل کے لئے مفید ہے ۔ دل کی صحت کے لئےسیدھا چلنا مفید ہے، جھک کر چلنے کے مقابلہ میں ۔نسبتاً تیز چلنا مفید ہے آہستہ چلنے کے مقابلہ میں۔عبادالرحمٰن کی خصوصیات کے تذکرہ میں چا ل کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے ۔ انسان کی چال در اصل اس کے ذہن کی عکاسی کرتی ہے ۔ جب آدمی چلتا ہے تو اپنی پوری شخصیت کو لے کر چلتا ہے جس کے ساتھ اس کا جسم اور کپڑوں کے علاوہ اس کی سوچیں ، اس کے جرائم ، ا س کا نصب العین اس کےساتھ چلتے ہیں ۔ اس کی چال سے اس کی شخصیت کا تعارف ہوتا ہے ۔ اسی لئے صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں : ’’ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بدمعاش کی چال، ایک ظالم وجابر کی چال، ایک خود پسند، متکبر کی چال، ایک باوقا ر مہذب آدمی کی چال ، ایک غریب ومسکین کی چال اوراسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے ۔‘‘ (تفہیم القرآن)
’’ھونا‘‘ (الفرقان:۴۳) کے تحت راستے اورلباس کے سارے آداب سمٹ کر آجاتے ہیں۔ آپ پُر وقار اسی وقت چل سکتےہیں جب آپ کا لباس پُر وقار ہے اورآپ راستے کے آداب ملحوظ خاطر ہیں۔ حضرت ابوا لا حو ص ؓ کے والد اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس وقت میرے جسم پر گھٹیا اور معمولی کپڑے تھے ۔آپؐ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا ۔ جی ہاں! دریافت فرمایا ، کس طرح کا مال ہے ؟ میں نے کہا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے ۔ اونٹ بھی ہیں ، بکریاں بھی ہیں ، گھوڑے بھی ہیں اورغلام بھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب اللہ نے تمہیں مال ودولت سے نوازا ہے تو اس کے فضل واحسان کا اثر تمہارے جسم پر ظاہر ہونا چاہئے ۔ (مشکوٰۃ ) (آداب زندگی)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کے دل میں ذرہ بھر بھی غرور ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا ۔ ایک شخص نے کہا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے عمدہ ہوں ، اس کے جوتے عمدہ ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ خود صاحب جمال ہے اورجمال کو پسند کرتا ہے (یعنی عمدہ نفیس پہنا وا غرور نہیں ہے۔ (غرور تو در اصل یہ ہے کہ آدمی حق سے بے نیازی برتے اور لوگوں کو حقیر وذلیل سمجھے (مسلم )
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ ایک جوتا پہن کر کوئی نہ چلے یا دونوں پہن کر چلو یا دونوں اتار کر چلو۔ (ترمذی) اسی طرح ایسے عجیب وغریب اورمضحکہ خیز کپڑے بھی نہ پہنئے جس کے پہننے سے آپ خواہ مخواہ عجوبہ بن جائیں اورلوگ آپ کو ہنسی اور دل لگی کا موضوع بنالیں۔(آدابِ زندگی)لباس ہماری شخصیت کا حصہ ہے ۔ چال اسی وقت پُر وقار ہوگی جب لباس پُر وقار ہو۔ صاف ستھرا عمدہ اورعرف کے مطابق ہو۔عبادالرحمٰن جب چلتے ہیں توان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی ہوتی ہے ۔ جواب دہی کے احساس سے بھری چال دوسروں کی خوشی اورمدد کا سامان کرتی ہے۔ راستہ کا حق ادا کرتے ہوئے چلنے والے عبادالرحمٰن اللہ کے پسندیدہ ہونے کے ساتھ انسانوں کے بھی پسندیدہ ہوجاتے ہیں۔ عبادالرحمٰن جب چلتے ہیں توپیر گھسیٹ کر نہیں چلتے، دھواں نہیں اڑاتے، پانی جمع ہوتو پانی نہیں اچھالتے، سیٹیاں نہیں بجاتے، لوگوں کو دھکے نہیں دیتے، جب مرضی آئے جہاں چاہیں نہیں تھوکتے ۔ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کوہٹانے والے راستہ میں کوئی چیز نہیں پھینکتے۔ کوڑا کچرا حتی کہ ٹشو بھی نہیں پھینکتے ۔ مصروف راستوں سے سواریوں کا لحاظ کرتے ہوئے گزرتے ہیں ۔ سگنل پر باری کا انتظار کرتے ہیں، جس رُخ سے چلنا چاہئے اس کی رعایت کرتے ہیں، الٹے رُخ چل کر نہ خود تکلیف اُٹھاتے ہیں نہ دوسروں کو دیتے ہیں۔
فی زمانہ سواریوں (سائیکل ، اسکوٹر، آٹورکشہ ، موٹر گاڑی وغیرہ) کااستعمال زیادہ ہونے لگا ہے سواری چلانے والا اپنی چال سواری کے حوالے کرتا ہے ۔ عبادالرحمٰن کی سواری کی چال عبادالرحمٰن کی چال ہوگی۔ جوکچھ ’’ھونا‘‘ کے مطابق عبادالرحمٰن سے درکار ہے وہی اس کی سواری سے مطلوب ہوگی ، سواری صاف ستھری ہوگی۔دھواں پھینکتے ہوئے دوسروں کو تکلیف نہیں دے گی۔ رفتار نہ اتنی سست ہوگی کہ پیچھے والوں کو الجھن ہو اور نہ اتنی تیز کہ دوسرے گھبرا جائیں۔ اس کی رفتار ٹریفک اصولوں کےمطابق ہوگی ریڈ سگنل پر رک جائے گی۔ اپنی باری کا انتظارکرے گی ۔ مڑنے سے پہلے اشارہ دے گی۔ عبادالرحمٰن کی گاڑی صحیح طریقے سے صحیح جگہ پارک ہوگی۔
’’ھونا‘‘ کی صفات کوہم اپنے اندر جذب کرکے عمل کا مستقل حصہ بنالیں توفساد وحادثات کم ہوں گے اورخوشگواری کا ماحول پیدا ہوگا اور ہمارا شمار عبادالرحمٰن میں ہوگا۔