اس تحریر میں ابن صفی ؔکےاسلوب اور کرداروں کی بازیافت کی کوشش اس طرح کی گئی ہے جیسے ابن صفی دورِ حاضر میں لکھ رہے ہوں لہٰذا اس میں موبائل بھی ہے اور ٹویوٹا بھی۔ ابن صفی کے یوم ولادت و وَفات ( ۲۶؍ جولائی) تک روزانہ ایک تحریر کا سلسلہ۔ آج تین قسطوں پر مشتمل اس کہانی کی پہلی قسط ملاحظہ فرمائیں
ابن صفی۔ تصویر : آئی این این
جب سے سرحد پر چین کی در اندازی بڑھی تھی وزارت داخلہ نےمرکزی ادارۂ تحقیقات کو حکم دیاتھا کہ چینی سفارت خانے کے علاوہ بڑے شہروںمیں چینی ہائی کمیشنوں، قونصل خانوں اور ملک میں رہنے والے چینی باشندوں کی نگرانی بڑھا دی جائے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ شر پسند عناصر یا مشتعل شہری کوئی تخریبی کاروائی نہ کرسکیں۔یہ نگرانی محکمۂ پولیس کے باوردی افراد بھی کر رہے تھے اور محکمۂ خفیہ کے سادہ لباس والے بھی۔ خود کرنل فریدی نے بھی اب یہ معمول بنا لیا تھا کہ وہ اکثر دفتر جاتے وقت یا لوٹتےہوئے چینی سفارتخانے کے سامنے سے گزرتا۔آج بھی لنچ کے بعد کرنل فریدی اور کیپٹن حمید جب آرلکچنو سے نکلے تو حمید نے پوچھا ’’اب کہاں؟‘‘
چینی سفارت خانے سے ہوتے ہوئے دفترچلیںگے‘‘فریدی نے لنکن کا رخ موڑتے ہوئے کہا۔ اسی دوران حمید نے خاموشی سے جیب سے پائپ نکالا توفریدی نے اسے ٹوک دیا۔ ’’نہیں، تمباکو نوشی سےپر ہیز کیا کرو‘‘
حمید نے لا پروائی سے کندھے اچکائے اور پائپ واپس کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ جب سے حکومت نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی تشہیر شروع کی تھی کرنل فریدی نے تمبا کو نوشی ترک کر دی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ حمید بھی یہ لت چھوڑدے !
’’ارے یہ یہاں کہاں؟‘‘فریدی کے تحیر آمیز لہجے نے حمید کو بھی چونکا دیا ’’کون؟‘‘ .........’’وہ دیکھو سفارت خانے کے گیٹ میں داخل ہو رہا ہے‘‘
حمید نے دیکھا کہ وہ گرے سوٹ میں ملبوس ایک انتہائی لمبا اور دبلا پتلا شخص ہے۔ تبھی حمید نے پوچھا: ’’کون ہے یہ؟‘‘حمید نے پوچھا۔
’’نہیں پہچانا؟ یہ سنگ ہیؔ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا‘‘ فریدی نے سفارتخانے سے تھوڑے فاصلے پر گاڑی روکتے ہوئے کہا۔
پھر فریدی نے اپنے موبائل پر کسی کو سنگ ہیؔ کاحلیہ بتاکر ہدایت دی کہ اس کی جائے قیام کا پتہ چلایا جائے اور چوبیس گھنٹے سختی سے نگرانی کی جائے۔
’’بلیک فورس؟‘‘ حمید سے استفسار کئےبنا نہ رہا گیا جس کا جواب فریدی نے سر ہلا کر دیا۔ فریدی گاڑی کو سڑک کنارے لگائے کسی کا انتظار کرتا رہا۔ وہ بار بار بیک ویو مرر میں سفارتخانے کے مین گیٹ کا جائزہ بھی لے رہا تھا۔ اس دوران حمید پر اونگھ طاری ہوگئی۔ پتہ نہیں سچ مچ یا فریدی کو چڑانے کیلئے۔
کچھ دیر بعد موبائل پر کوئی اطلاع ملی تو فریدی نے کار اسٹارٹ کر دی۔
دفتر میں حمید فریدی کا سامنا کرنے سے کتراتارہا۔ جیسے ہی پانچ بجے وہ فریدی کو بتائے بغیراپنی موٹر سائیکل پردفتر سے بھاگ نکلا۔ آج شام ہائی سرکل نائٹ کلب میں ایک چینی بیلے ڈانس اور جمناسٹوں کے گروپ کا خصوصی پروگرام تھا۔ حمید نے کئی ہفتے قبل ہی منیجر سے بات کرکے دو افراد کیلئے ایک میز محفوظ کرا لی تھی۔ ظاہر ہے یہ دوسرا فرد قاسم کے سوا کون ہو سکتا تھا؟
دوپہر والے واقعے نے حمید کی روح فنا کر دی تھی۔ وہ فریدی سے چھپتا پھر رہا تھا کہ مبادا وہ کوئی کام بتادے اور آج کی حسین شام کا خون ہو جائے۔
گھر پہنچ کر حمید غسل خانے میں گھس گیا۔ شیو اور غسل سے فارغ ہو کر اس نے سفید بے داغ کالر والی قمیص اور بہترین پریس کیا ہوا سرمئی سوٹ پہنا، میچنگ ٹائی لگائی اور دبے پاؤں باہر نکلا۔ نوکر سے فریدی کے بارے میں پوچھا۔ یہ جان کر اُس کی جان میں جان آئی کہ فریدی ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ حمید فریدی کے آنے سے پہلے ہی گھر چھوڑ دینا چاہتا تھا اس لیے تیزی سے گیریج سے اپنی نئی ٹویوٹا کار لے کر قاسم کے دفتر کی طرف نکل گیا۔گھر سے نکلتے ہی اس کے حواس معمول پر آ گئے اور موڈ خوشگوار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ابن صفی کا جہان اور فریدی و عمران
قاسم اپنے عالیشان دفتر میں بہت بے چینی سےحمید کا انتظار کر رہا تھا۔ دراصل قاسم کے والد عاصم صاحب کاروباری دورے پر ایک ہفتے کیلئے چین گئے ہوئے تھے۔ انہیں اپنے ٹیکسٹائل کارخانوںکیلئےجدید چینی مشینیں خریدنی تھیں۔ اس لئے راوی قاسم کیلئےچین ہی چین اور عیش ہی عیش لکھ رہا تھا۔ آج کی شام حمید اور قاسم دونوں کیلئے بہت خاص تھی۔ ہائی سرکل نائٹ کلب شہر کی سب سے مہنگی تفریح گاہ تھی جہاں ہر کس و نا کس کا گزرممکن نہیں تھا۔ وہاں کے شام کے پروگرام بہت خاص ہوا کرتے تھے جن میں شرکت کی تمنا شہر کی اعلیٰ سوسائٹی کے ہر فرد کے دل میں ہوتی تھی۔ پھر حمید اور قاسم ان تفریحات سے کیسے الگ رہتے؟
سات بجے کا شو تھا۔ حمید اور قاسم پندرہ منٹ پہلے ہی پہنچ گئے۔ تمام میزیں آباد ہو چکی تھیں۔ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا لیکن ہال میںملگجے اندھیرے میں دھیمی زرد روشنی نے ماحول کو بہت رومانی بنا دیا تھا۔ ہلکی ہلکی موسیقی گونج رہی تھی جو باتوں کی بھنبھناہٹ کو دبانے میں ناکام تھی۔ ایک بیرےنے انہیں ان کی میز تک پہنچایا۔ بیٹھنے سے قبل ہی قاسم نے بیرے سے کہا ’’جلدی سے مینو لے آؤ‘‘ بیرا ادب سے سر جھکا کر بولا ’’ابھی لایا جناب‘‘
حمید نے ایک سرسری سی نگاہ چاروں طرف ڈالی اور قاسم کی طرف متوجہ ہو گیا۔ ’’یہاں کے گولڈن فرائی جھینگےبہت لذیذ ہوتے ہیں‘‘
’’لیکن اِتے سے ہوتے ہیں‘‘قاسم نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے نہایت حقارت سے کہا۔ ظاہر ہے چند فرائی جھینگے کھا کر قاسم کی بھوک پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا۔ اتنے میں بیرا مینو کارڈ لے آیا۔ حمید نے بیرے سے نہایت سنجیدگی سے کہا ’’صاحب کیلئےبھینس کے سری پائے لاؤ‘‘ قاسم نے گھور کر حمید کو دیکھا اور دانت پیستے ہوئے بیرے سے بولا ’’ان کیلئے تندوری چڑیا لاؤ‘‘بیرے نے ہنس کر دانت نکال دیئے۔
دوسری قسط
حمید اور قاسم یہاں کے بیروں کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ ہر بیرے کی دلی خواہش ہوتی تھی کہ حمید اور قاسم اسی کی میز پر بیٹھیں کیونکہ انہیں اچھی خاصی رقم ٹپ میں مل جایا کرتی تھی۔ قاسم نےاپنے لیے بکرے کی ایک تندوری ران، دو مرغ مسلم، چارپلیٹ مٹن قورمہ اور بیس عدد روٹیاں اور حمید کیلئےایک پلیٹ گولڈن فرائی جھینگےکا آرڈر لکھوایا۔ پھر بے صبری سے بیرے سے پو چھا ’’خانا آنے میں قتنی دیر لغے غی؟‘‘بیرے نے جواب دیا ’’کم از کم بیس منٹ‘‘ قاسم نےغصے سے کہا ’’قیوں اتنی دیر؟‘‘ بیرا بولا ’’ آرڈر کے بعد ہی کھانا تیار کیا جاتاہےجناب‘‘، ’’ٹھیخ ہے ٹھیخ ہے۔ فوری طور پر قیامل سکتا ہے؟‘‘ قاسم نے بیتابی سےپیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔’’چکن تکہ تیار ہےجناب‘‘ ’’تو چھ پلیٹ چقن تقا لے آؤ۔ لیکن دیخو، خانا جلدی لے آنا‘‘اگر کلب میں نہ ہوتا تو قاسم اپنے منہ میں آئے پانی کی پچکاری زمین پرمار دیتا ۔
بیرا چلا گیا تو حمید بولا ’’ابے لمڈھگ! یہاں تفریح کرنے آئے ہو یا اپنے پیٹ کادوزخ بھرنے؟قاسم نے غرا کر کہا ’’اس کی نہیں ہوتی۔ جہنم میں گئی تپھری وپھری۔ تمہیں کتنی بار قہا ہے کہ مجھے خانے کے بارے میں مت ٹوکا کرو‘‘اس سے پہلے کہ بات بڑھتی بیرے نے دو پلیٹیں چکن تکہ ٹیبل پر رکھتے ہوئےکہا ’’ شروع کیجیے جناب۔ دو منٹ میں اور لاتا ہوں‘‘ قاسم نے دونوں پلیٹیں اپنی طرف کھینچتے ہوئے بیرے سے کہا ’’ان کے جھینگے بھی جلد لے آؤ‘‘ اس نےحمید سے مروتاً بھی کھانے کیلئے نہیں پوچھا اور بڑی تیزی سے چکن تکوں پر ہاتھ صاف کرنے لگا۔حمیدنےبھی چھیڑنا مناسب نہیںسمجھااور ہال میں ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ اسے ایک میزپر وہی دبلا پتلا لمبوترا شخص جو چینی قونصل خانے کے باہر نظرآیا تھا،ایک بھاری بھرکم خاتون کےساتھ بیٹھا دکھائی دیا۔ اس سے تھوڑےہی فاصلے پر ایک میزپرفریدی بھی موجود تھا۔ حمید نے ایک لمبی سی ٹھنڈی سانس بھری۔ وہ آج کی حسین شام کی بربادی کے اندیشے سے دل ہی دل پیچ و تاب کھا نے لگا۔اسے اس بات پر حیرت تھی کہ فریدی اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی کر کے ایک مشتبہ فرد کے سامنے اصلی شکل و صورت میں کھل کر کیوںآ گیا؟
اسی درمیان بیرے نے چکن تکے کی بقیہ ڈشیں اور گولڈن فرائی جھینگےکی پلیٹ میزپر لگا دی۔ حمید نے فریدی اور سنگ ہی سے توجہ ہٹا لی اور کانٹا چھری لےکر کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ قاسم پوری توجہ سے کھانے میں منہمک تھا۔حمید نے اسے سنگ ہی کے ساتھ بیٹھی تنو مند خاتون کی طرف متوجہ کیا۔ لیکن اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر وہ پھر پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دو چکن تکے ایک ساتھ منہ میں رکھتے ہوئے بولا ’’غاؤں غاؤں ۔۔۔ غمید بھائی، چین سے خا لینے دو۔ غاؤں غاؤں ۔۔‘‘
ٹھیک سات بجے لاؤڈ اسپیکر پر پرو گرام شروع ہونے کا اعلان ہوا۔ حمید نے اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں منیجر چند دبلی پتلی خوبصورت چینی لڑکیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ منیجر نے ان کا تعارف کرایا۔ پہلے دو لڑکیوں نے جمناسٹک کے کرتب دکھائے۔حمید بھی بہت انہماک سے ان کے کرتب دیکھ رہا تھا۔ لڑکیاں اپنےجسم اور اعضاء کو انتہائی تیزی سے موڑ رہی تھیں۔ ان کے لچکیلے جسموں میں گویا بجلیاں سی بھری ہوئی تھیں۔جمناسٹک پروگرام ختم ہونے پر ناظرین نے زور و شور سے تالیاں بجائیں۔حمید کی نظریں غیر ارادتاً فریدی کی میز کی طرف اٹھ گئیں لیکن فریدی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا۔ حمید نے سنگ ہی کی میز پر نظر ڈالی۔ وہاں صرف وہ بھاری بھرکم عورت بیٹھی تھی۔ سنگ ہی غائب تھا۔ حمید نے بے تعلقی سے کندھے اچکائے اور اسٹیج کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اب چار لڑکیاں بیلے ڈانس پیش کر رہی تھیں۔قاسم کے کھانوں سے پورا ٹیبل بھر چکا تھا۔ بیرے کو حمید نے کافی لانے کیلئےکہا۔ قاسم نے اس بار حمید کو بھی کھانے کیلئے پوچھا۔ حمید طنزاً بولا ’’تمہیں کم ناپڑجائے؟‘‘’’ٹھینگے سے‘‘کہہ کر قاسم کھانےپرٹوٹ پڑا۔ اس نے تفریحی پروگرام پر بمشکل ہی چند نظریں ڈالی ہونگی۔ اول تو جب اس کے سامنے کھانا ہو تو پھر اسکا کسی دوسری طرف متوجہ ہونا ناممکنات میں سے تھا۔ دوسرے یہ کہ تمام جمناسٹ اور رقاص لڑکیاں پستہ قد اور دبلی پتلی تھیں۔ قاسم نے تو انہیں دیکھتےہی نفرت سے ہونٹ سکیڑ کر کہا تھا ’’مرگھلیاں، مرتی قیوں نہیں؟‘‘
اچانک ہال کی روشنی گل ہو گئی اور اندھیرے میں ایک تیز چیخ بلند ہوئی بہت سےلوگوں نے اپنے موبائل کی ٹارچ روشن کر لیں۔لیکن ان کی روشنی ناکافی تھی۔ لوگ نیم اندھیرے میں ادھر ادھر بھاگ اور ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر گر رہے تھیں۔ کرخت گالیاں اور سریلی چیخیں گونج رہی تھیں۔ کہیں کہیں گھونسے اور تھپڑبھی چل رہے تھے۔ اتنے میں کوئی قاسم کی میز سے ٹکرایا اور پلیٹیں گرنے کا شور بلند ہوا۔ قاسم بھی ڈکرا کر کھڑا ہو گیا۔ اسکے پیٹ کی ٹکر سے کھانے کی میز الٹ گئی۔ قاسم زور سے چلایا ’’یہ قیا ہو رہا ہے؟ قلب ہے یا قباڑخانہ؟ چین سے خانا بھی نہی خا سکتے یہاں
منتظمین چلا چلا کر لوگوں سے اپنی جگہ بیٹھے رہنے کی اپیلیں کر رہے تھے۔ لیکن شور و غوغا میں ان کی آوازیں دب گئی تھیں۔جلد ہی روشنیاں لوٹ آئیں۔منتظمین نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ ایک چینی رقاصہ کا قتل ہو گیا ہے لہٰذا پولیس کے آنے تک کلب کے سب دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ کوئی بھی ہال سے باہر نہ جائے۔بہت سے لوگوں کے کپڑے میزیں الٹنے اور کھانا گرنےسے خراب ہو گئے تھے جن میں قاسم اور حمید بھی شامل تھے۔فریدی اور سنگ ہی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ موٹی عورت بھی سراسیمگی کی حالت میں اپنی میز پر اکیلی بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوفزدہ تھی۔پولیس کے آنے کے بعد بھی دو گھنٹوں تک کسی کو باہر نکلنے کا موقعہ نہیں ملا۔ پولیس سب سےپوچھ تاچھ کر رہی تھی۔ لیکن قتل کس نے اور کیوں کیا کا کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔پولس آفیسر کیپٹن حمید کو جانتے تھے اس لیے تفتیش کے وقت سنگ ہی کی ساتھی موٹی عورت کے قریب رہنے کا موقع اسے آسانی سے مل گیا۔ اس نے بھی پولیس کو کوئی خاص بات نہیں بتائی۔ لیکن حمید کو یقین تھا کہ اسے قتل کے متعلق بہت کچھ معلوم ہے جسے اس نے پولیس سے چھپایا ہے۔قاسم کا موڈ بھی بگڑا ہوا تھا بلکہ وہ ہتھے سے اکھڑا ہوا لگ رہا تھا اور بار بار حمید کو کوس رہا تھا ’’تم سالے ہو ہی منحوس۔ جہاں جاتے ہو کتل کھون جرور ہوتا ہے۔‘‘
تیسری اور آخری قسط
فریدی نے دیکھا سنگ ہی اپنی میز سے اٹھا ہے تو وہ بھی اٹھ گیا۔سنگ ہی غسل خانے کی طرف جا رہا تھا۔ فریدی گیلری کے پاس ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے غسل خانے کا دروازہ نظر آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سنگ ہی غسل خانےسے نکلا اور ہال کے باہر نکل گیا۔ فریدی بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر آیا۔ اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا ۔ سنگ ہی نے مین سوئچ پر ہاتھ صاف کر دیا تھا۔فریدی نے فوراً اپنے موبائل کی ٹارچ روشن کی۔ اتنے میں ایک تیز نسوانی چیخ بلندہوئی۔ فریدی تیزی سے چیخ کی سمت بڑھا تب ہی اس کا مو بائل بجا، اُسے بتایا گیا کہ سنگ ہی کلب سےنکلنےمیں کامیاب ہو گیا اور بلیک فورس کے دو آدمی اسکا تعاقب کر رہے ہیں۔سنگ ہی کا رخ اس کی قیام گاہ کی طرف ہے ۔فریدی نے جھٹ اپنے موبائل کی ٹارچ بندکی اور تیزی سے باہر نکل آیا۔ باہر روشنی تھی۔ اُس نے اپنی لنکن نکالی اور سنگ ہی کی قیام گاہ کی طرف چل پڑا۔ لنکن بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی ۔
سنگ ہی کی قیام گاہ پر بلیک فورس کے آدمی تھے۔ فریدی نے پوچھا ’’مکان کی پشت پر کوئی ہے ؟‘‘......’’جی ہاں، ۱۲ نمبر وہاں موجود ہے۔‘‘
سنگ ہی سیدھا اپنی قیام گاہ پہنچا تھا ۔ فریدی بھی کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہو گیا۔ وہاں رکھوالی کے کتے نہیں تھے۔فریدی نے عمارت کا جائزہ لیا اور پائپ کے سہارے عمارت کی چھت پر پہنچ گیا۔نیچے اترنے کا راستہ اسے جلد ہی مل گیا۔بہت احتیاط سے وہ نیچے اترا۔ یہاں گہرا اندھیرا تھا۔ فریدی نے کوٹ کی جیب سے ننھی سی ٹارچ نکالی اوراسکی روشنی کے ننھے سے دائرے میں آگے بڑھا۔ ایک کمرے میں روشنی نظرآئی۔ اُس نےدیکھا کہ سنگ ہی ایک چھوٹے سے سوٹ کیس میں کپڑے رکھ رہا ہے ۔ یقیناً وہ فرار کی تیاری کر رہا تھا۔ فریدی نے اپنے کوٹ کی جیب سے واکی ٹاکی نما ایک آلہ نکالا،اس کا اینٹنا باہر کھینچا اور اسے آن کر دیا۔ اس کے اسکرین پر ایک ننھا سا لال بلب جل اٹھا ۔ یہ فریدی کا اپنا ایجاد کر دہ ایک آلہ تھا جس کی مدد سے نہ صرف الیکٹروگس اور لیزر پسٹل کی موجودگی کا پتہ چل جاتاتھا بلکہ وہ ان کے حملوں کو بھی ناکام بنا دیتا تھا ۔ اُس نے دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا اور کمرے میں داخل ہو کر سنگ ہی کو للکارا ’’ سنگ ! اپنے آپ کو میرےحوالے کر دو ‘‘ سنگ ہی نے فوراً اپنے کوٹ کی جیب سے لیزر پسٹل نکال لیا۔ فریدی کی طرف پسٹل تانتے ہوئے انتہائی زہر خند لہجے میں بولا ’’آئیے آئیے کرنل ! مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور آئینگے۔ آج موت ہی آپ کو یہاں کھینچ کر لائی ہے۔ ‘‘ سنگ ہی نے لیزر پسٹل سے فائر کردیا مگر لیزر شعاعیں فریدی کے ہاتھ کے پاس پہنچ کر غائب ہوگئیں۔ اس آلہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ آس پاس مو جود بر قی اور لیزر شعاعوں کواپنی طرف کھینچ کر انھیں مثبت انرجی میں تبدیل کرتا اور مخصوص بیٹریوں میں انھیں ذخیرہ کر لیتا۔ سنگ ہی نے دو تین فائر کیے لیکن بے سود۔ اس نے لیزر پسٹل جیب میں رکھ کر لمبا سا چاقو کھول لیا اور سانپ کی سی پھپکار سے بولا ’’ تو آپ پوری تیاری سے آئے ہیں ہمیشہ کی طرح میرا کام بگاڑنے؟ مگر میں آج آپ کو زندہ نہیں چھوڑونگا ۔‘‘ فریدی مسکرا دیا، کہا ’’ میرا بھی یہی فیصلہ ہے ۔‘ ‘ اچانک سنگ ہی نے فریدی پر چھلانگ لگائی۔ فریدی تیار تھا۔سنگ کا چاقو والا ہاتھ فریدی نے گرفت میں لیکر ایک داؤ لگایا۔ چاقوسنگ ہی کے ہاتھ سے گر گیا لیکن وہ فریدی سے لپٹ پڑا اور فریدی کو اپنےہاتھوں اور پاؤں کی گرفت میں لیکر ریڑھ کی ہڈی دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔ فریدی نے تیزی سے چار پانچ مکے پوری طاقت سے اس کی کنپٹی پرجڑ دیئے۔سنگ ہی مردہ چھپکلی کی طرح پٹ سے زمین پر گر پڑا ۔ فریدی نے اپنی جیب سےہتھکڑی نکالی اور سنگ ہی کے ہاتھ اس کی پشت پر لاکران میں ڈال دی۔ پھر اس کے پیر باندھ کر اُسے بلیک فورس کے حوالے کردیا اور فورس والوں سے کہا’’ اب تم لوگ جا سکتے ہو۔‘‘
حمید قریباً ۱۲؍ بجے گھر پہنچا۔ فریدی ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ حمید نے فریدی کا انتظار کرنےپرچین سے سونے کو ترجیح دی اور اپنی خواب گاہ میں گھس گیا۔ صبح سویرے ۸؍ بجے ہی فریدی نے اس کے کمرے کا دروازہ پیٹ پیٹ کر اسے زبردستی بیدار کر دیا۔ حمید اس ا فتاد سے بچنے کیلئے احتیاطاً اپنا موبائل بندکر کے سویا تھا لیکن فریدی کے آگے یہ احتیاط کچھ کام نہ آئی۔ جھنجلا کر اس نے دروازہ کھولا اور برہمی سے بولا ’’اتوار کو تو چین سے سونے دیا کیجیے‘‘
’’چین سے تو بس قبر میں ہی سو سکوگے‘‘فریدی سنجیدگی سے بولا۔’’مجھے تو ڈر ہے کہ آپ میری قبر میں بھی آ گھسیں گے‘‘حمید نے چنچناتے ہوئے کہا۔ ’’صرف پندرہ منٹ میں فارغ ہو کر ناشتے کی میز پر پہنچ جاؤ‘‘کہتے ہوئے فریدی مڑگیا۔ ناشتے کی میز پر سنگ ہی اور چینی رقاصہ کا قتل ہی زیر گفتگو رہا۔ فریدی نے حمید کو تمام واقعات سے آگاہ کیا ۔’’تب تو یہ قتل منصوبہ بند معلوم ہوتاہے۔‘‘حمید نے اپنی رائے ظاہر کی۔’’ ہاں‘‘ فریدی بولا ’’ لیکن وہ ہماری حکومت اور چین کے درمیان مو جودہ رنجش کو ہوا دینے کی ایک سازش کے تحت یہاں آیا تھا اگر وہ پکڑا نا جاتا تو یقیناً چینی حکومت سے ہمارے تعلقات مزید کشیدہ ہو جاتے۔‘‘ فریدی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’مقتولہ سےمتعلق تفصیلات حاصل ہو گئی ہیں۔ چین کے ایک حکمراں کی لڑکی پربُری نظر تھی لیکن لڑکی اسے گھاس نہیں ڈالتی تھی۔ ایک بار کسی محفل میں لڑکی نے حکمراں کاہاتھ جھٹک دیا تھا اور سب کے سامنے اسے بہت ذلیل بھی کیا تھا۔اسی حکمراں نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئےسنگ ہی کو اس کا قتل کرنے پرآمادہ کیا تھا اسطرح وہ ڈبل ایجنٹ کا رول اداکر رہا تھا۔ ایک طرف چینی حکمراں کا کام کر رہا تھا تو دوسری طرف ایک بڑی طاقت کے ایجنٹ کے طور پر مصروف تھا ۔’’لیکن سنگ ہی تو چین کا فراری مجرم ہے‘‘حمید نے استفسار کیا۔’’اس حکمرا ں سے سنگ ہی کی پرانی دوستی تھی۔ وہ خفیہ طور سے یہ کام سنگ ہی سے لے رہا تھا۔بڑی طاقت نے بھی موقع کا فائدہ اٹھانا چاہا ۔ چینی سفارتخانے پر اسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی تھی اور میں نے اسی لیے اپنا طریقۂ کار بدل دیا اور چھپ کر سنگ ہی کی نگرانی کرانے کی بجائے کھل کر اس کے سامنے آگیا۔ اس سے سنگ ہی گڑبڑا گیا اور بعد میں مشکل بڑھنے کے ڈر سے فوری قتل کر گزرا اور دھر لیا گیا۔‘‘
’’ناشتہ کرنے کے بعد تمہیں اس پتے پر اس لحیم شحیم عورت سے تفتیش کرنے جانا پڑیگا۔ مجھے شک ہے کہ وہ بھی اس سلسلے میں بہت کچھجانتی ہے۔‘‘
’’قاسم کو بھی ساتھ لے جاؤں؟ اس کے ساتھ اس موٹی کا جوڑا کیسا رہے گا؟‘‘ حمید جھنجھلایا مگر اسی وقت فریدی کا موبائل بج اٹھا۔ اسکرین پر نظر ڈالتے ہوئے فریدی بولا ’’آئی جی صاحب کا فون ہے۔ یقیناً کچھ بری خبر ہے۔‘‘
فریدی نے فون آن کر کے کہا’’صبح بخیر جناب‘‘ پھر کچھ سننے کے بعد انتہائی تلخ لہجے میں بولا ’’صبح صبح آپ کا فون آنے کا مطلب کوئی بری خبر ہے۔ جناب میں نے کارِ خاص کے ذمہ داران کو متنبہ کر دیا تھا کہ مجرم بہت شاطر ہے۔ پہرہ سخت رکھیں‘‘پھر کچھ سننےکےبعد بولا ’’جی! میں ۱۱؍بجے دفتر حاضر ہو جاؤنگا۔‘‘ موبائل بند کرکے فریدی حمید کی طرف متوجہ ہو کر بولا ’’سنگ ہی فرار ہو گیا۔ اب اس خاتون سے پوچھ تاچھ کرنے کیلئے مجھے ہی جانا پڑیگا۔