Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانچسٹر اسکول حملہ: طلبہ کے تحفظ میں زخمی، ٹیچر میثم عبداللہ ’’ہیرو‘‘ کہلائے

Updated: June 13, 2026, 10:18 PM IST | Manchester

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ایک سیکنڈری اسکول میں ہونے والے چاقو حملے کے دوران طلبہ کی جان بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والے ۲۷؍ سالہ استاد میثم عبداللہ کو عوام، والدین اور ساتھی اساتذہ کی جانب سے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ حملے میں دو طلبہ اور ایک استاد زخمی ہوئے جبکہ ۱۴؍ سالہ طالبہ پر تین افراد کے قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس فی الحال اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار نہیں دے رہی۔

Maysum Abdullah, a 27-year-old teacher who was injured while trying to save students. Photo: X
طلبہ کو بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والے ۲۷؍ سالہ استاد میثم عبداللہ۔ تصویر: ایکس

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع کوآپ اکیڈمی مانچسٹر میں پیش آئے چاقو حملے کے دوران طلبہ کو بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والے ۲۷؍ سالہ استاد میثم عبداللہ کو ان کی بہادری پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ منگل (۹؍ جون) کو پیش آنے والے اس واقعے میں دو ۱۴؍ سالہ طلبہ اور ایک استاد زخمی ہوئے تھے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں تینوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔ میثم عبداللہ، جو اب گھر پر روبہ صحت ہیں، نے کہا کہ وہ اب بھی اس واقعے کو سمجھنے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران انہوں نے طلبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے مداخلت کی، جس کے نتیجے میں انہیں گردن اور ہاتھوں پر زخم آئے۔

یہ بھی پڑھئے: ایئر انڈیا حادثے میں جاں بحق، سورت کے تاجر عقیل ناناباوا کی یاد میں انڈونیشیا میں مسجد تعمیر کی گئی

ان کی اہلیہ صائمہ عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’میرے شوہر نے تدریس کا پیشہ نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اختیار کیا تھا اور وہ ان بچوں کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے حقیقی معنوں میں ہیرو ثابت ہوئے ہیں۔ ہماری دعائیں ان دونوں طلبہ کے ساتھ بھی ہیں جو اس حملے میں زخمی ہوئے، اور ان تمام طلبہ اور عملے کے لیے بھی جو اس تکلیف دہ واقعے کے گواہ بنے۔‘‘ 
پولیس کے مطابق حملہ مانچسٹر کے علاقے بلیکلی میں واقع اسکول کے احاطے میں پیش آیا۔ واقعے کے بعد اسکول کو لاک کر دیا گیا جبکہ والدین اور مقامی برادری میں شدید تشویش پائی گئی۔ اسکول انتظامیہ اور پولیس نے عملے کے بروقت اور ذمہ دارانہ ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مزید نقصان کو روکنے میں مدد ملی۔ اس واقعے کے سلسلے میں ۱۴؍ سالہ ایک طالبہ پر تین افراد کے قتل کی کوشش کے تین الزامات اور اسکول کے احاطے میں دھاردار ہتھیار رکھنے کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزمہ کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیشی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اندھیری :لاء سی ای ٹی میں محمد رضوان خان کی ۱۰۰؍ پرسنٹائل سے شاندار کامیابی

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ نارتھ ویسٹ کی نگرانی میں جاری ہے، تاہم فی الحال واقعے کو دہشت گردی سے جوڑنے کے شواہد نہیں ملے۔ تفتیش کار مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد طلبہ، والدین اور مقامی افراد نے میثم عبداللہ کی جرات اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک حقیقی ہیرو قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے لیے نیک تمناؤں اور جلد صحت یابی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعہ برطانیہ میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی اور طلبہ کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK