Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمنی کوہ پیما ’’القعقا‘‘ (اسپائیڈرمین) کی لاش آتش فشاں گڑھے سے نکال لی گئی

Updated: June 13, 2026, 9:17 PM IST | Sana

جنوبی یمن کے الضالع گورنری میں واقع حردہ دمت آتش فشاں کے گڑھے میں گرنے والے معروف یمنی کوہ پیما انطار العبسی المعروف ’’القعقا‘‘ (اسپائیڈرمین) کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ القعقا سوشل میڈیا پر خطرناک چٹانوں اور آتش فشانی گڑھوں میں حفاظتی سامان کے بغیر مہم جوئی کی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھے۔

Renowned mountaineer and social media personality Antar Al-Absi, “Al-Qaqa” (Spiderman). Photo: X
معروف کوہ پیما اور سوشل میڈیا شخصیت انطار العبسی، ’’القعقا‘‘ (اسپائیڈرمین)۔ تصویر: ایکس

یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں واقع حردہ دمت آتش فشاں کے گڑھے میں گرنے والے معروف کوہ پیما اور سوشل میڈیا شخصیت انطار العبسی، جو ’’القعقا‘‘ (اسپائیڈرمین) کے نام سے مشہور تھے، کی لاش ریسکیو حکام نے کئی گھنٹوں کے بعد برآمد کرلی ہے۔ حادثے کے بعد یمن کے سول ڈیفنس نے فوری طور پر خصوصی ریسکیو آپریشن شروع کیا تھا۔ صنعاء سے غوطہ خوری اور پانی میں بچاؤ کی تربیت یافتہ ٹیموں کو مکمل آلات اور روشنی کے یونٹس کے ساتھ جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا تھا تاکہ دشوار گزار آتش فشانی گڑھے میں تلاش اور بازیابی کا کام انجام دیا جا سکے۔ مقامی حکام کے مطابق گڑھے کے اردگرد کا علاقہ انتہائی خطرناک اور دشوار رسائی کا حامل ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں۔ 

تاہم تازہ ترین مقامی رپورٹس کے مطابق ریسکیو ٹیمیں بالآخر القعقا کی لاش تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ نوجوان مہم جو چٹانی دیوار پر چڑھائی کے دوران توازن کھو بیٹھا اور گہرے آتش فشانی گڑھے میں جا گرا، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ القعقا گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر خاصی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ ان کی ویڈیوز میں انہیں حردہ دمت کے خطرناک آتش فشانی گڑھے کی دیواروں پر بغیر کسی پیشہ ورانہ حفاظتی سامان کے چڑھتے اور خطرناک کرتب دکھاتے دیکھا جا سکتا تھا۔ ان کے ہزاروں مداح ان کی جرات مندانہ مہم جوئی کو پسند کرتے تھے، تاہم مقامی باشندے اور مبصرین بارہا ان سرگرمیوں کے خطرات سے خبردار بھی کرتے رہے تھے۔ 
حردہ دمت یمن کے معروف قدرتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک قدیم آتش فشانی گڑھا ہے جو ایک پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور اس کی گہرائی تقریباً ۱۲۰؍ میٹر بتائی جاتی ہے۔ گڑھے کے اندرونی حصے میں ہموار راستے یا ہنگامی اخراج کے مناسب انتظامات موجود نہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی کارروائی انتہائی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ حادثے کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے، جن میں القعقا کو گڑھے کے کنارے خطرناک انداز میں حرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان مناظر نے یمن اور عرب دنیا میں ان کے مداحوں کے درمیان غم و افسوس کی لہر دوڑا دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’مَیں دوسرے بچوں کی طرح کیوں نہیں ہوں؟‘: عینک ٹوٹ جانے پر ۷؍ سالہ فلسطینی بچہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا

سول ڈیفنس حکام نے واقعے کے بعد شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پہاڑی، آتش فشانی اور دیگر خطرناک مقامات پر مہم جوئی یا تفریحی سرگرمیوں کے دوران حفاظتی اصولوں کی مکمل پابندی کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ حفاظتی آلات اور تربیت کے بغیر ایسے مقامات پر جانا انسانی جان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ القعقا کی موت نے ایک بار پھر سوشل میڈیا شہرت کے لیے اختیار کیے جانے والے خطرناک اسٹنٹس اور مہم جوئی کے رجحان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی حلقے ایسے مقامات پر حفاظتی نگرانی اور ضوابط سخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK