• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امت اگر نبیؐ کے طریقوں پر عمل نہ کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی؟

Updated: January 23, 2026, 6:00 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

رجب کے مہینہ کو کئی پہلوؤں سے امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ جب رجب کا مہینہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ دُعا فرماتے: ”اے اللہ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لئے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطا فرما۔“

Among acts of worship, prayer has certain characteristics that no other act of worship has. Picture: INN
عبادات میں نماز کو بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں ، جو کسی اور عبادت کو حاصل نہیں۔ تصویر: آئی این این
رجب کے مہینہ کو کئی پہلوؤں سے امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ جب رجب کا مہینہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ دُعا فرماتے: ”اے اللہ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لئے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطا فرما۔“ (المعجم الاسط) اسلام سے پہلے رجب میں قربانی دی جاتی تھی،  جس کو ’’عتیرہ‘‘ کہا جاتا تھا ، ابتداء ِاسلام میں بھی یہ قربانی باقی تھی، بعد کو یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ (حاشیۃ السنوی علی سنن النسائی) سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرام ہیں، جن میں جنگ میں پہل کرنے کی اجازت نہیں، قرآن میں بھی ان مہینوں میں قتال کی ممانعت کی گئی ہے، (التوبہ: ۳۶) ان حرام مہینوں میں ایک رجب کا مہینہ بھی ہے۔ 
سیرت کا ایک اور اہم واقعہ بھی رجب ہی میں پیش آیا، جو معراج ہی سے متعلق ہے اوروہ ہے: پانچ وقتوں کی نمازوں کا فرض ہونا۔یوں تو نمازیں پہلی اُمتوں پر بھی فرض تھیں ، خود قرآن مجید میں اس کا اشارہ موجود ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کرتے ہوئے اپنے ساتھ ساتھ اپنی ذریت کیلئے بھی دُعا فرمائی کہ ’’اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے۔‘‘ (ابراہیم: ۴۰) اس دُعا کی قبولیت کا ایک اثر یہ تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے لوگوں کو نماز پڑھنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے:  ’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔‘‘ (سورۂ مریم: ۵۵) قرآن مجید میں جو واقعات ذکر کئے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی اُمت میں بھی نماز تھی، اوران کی قوم اس سلسلہ میں ان کو طعنہ بھی دیا کرتی تھی: ’’اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں۔‘‘ (سورۂ ہود: ۷ ۸) حضرت لوط ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب علیہم السلام اور ان کی نسلوں کو قرآن مجید کے بیان کے مطابق نماز کا حکم دیا گیا تھا: ’’اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی۔‘‘ (الانبیاء: ۷۳) حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون علیہما السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بھی نماز کا حکم فرمایا گیا: ’’اور اپنے (ان) گھروں کو (نماز کی ادائیگی کے لئے) قبلہ رخ بناؤ اور (پھر) نماز قائم کرو۔‘‘ (یونس: ۸۷) قرآن مجیدنے حضرت زکریا علیہ السلام کے ایک واقعہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت محراب میں نماز ادا فرما رہے تھے: ’’ابھی وہ حجرے میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے  تھے ۔‘‘(آل عمران: ۳۹) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جب  شیر خواری کے زمانے میں معجزاتی طور پر گفتگو کرائی گئی تو اس میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ اللہ نے مجھے نمازکا حکم فرمایا ہے: ’’اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے۔‘‘ (مریم: ۳۱) غرض کہ جس قوم کے پاس بھی وحی ٔ آسمانی پہنچی ، ان کو ایمان کے ساتھ نماز کا حکم دیا گیا ۔
البتہ ضروری نہیں ہے کہ پانچوں نمازوں کا حکم دیا گیا ہو ، یا نماز کی وہی ہیئتیں رکھی گئی ہوں ، جو اُمت ِ محمدیؐ  کے لئے رکھی گئی ہیں؛ بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عشاء اُمت ِ محمدی ؐ کی خصوصیات میں ہے، پچھلی اُمتوں پر یہ نماز فرض نہیں تھی۔ (ابو داؤد ) اُمت محمدیہ پر بھی ایسا نہیں ہے کہ واقعہ ٔمعراج سے پہلے نماز فرض نہ رہی ہو؛ بلکہ قرآن مجید کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ مسلمانوں پر عائد کیا گیا، وہ دعوتِ دین اور نماز ہے؛ کیوں کہ سورۂ علق کی ابتدائی آیت کے نازل ہونے کے بعد سب سے پہلے سورۂ مدثر کی ابتدائی آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر خازن، صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۴۹۲۶) پہلی آیت میں آپؐ سے خطاب ہے،  دوسری آیت میں انذار یعنی دعوت کا حکم ہے ، اور تیسری آیت میں اللہ کی بڑائی بیان کرنے یعنی نماز کا حکم ہے؛ البتہ ابھی دن اور رات میں دو وقت کی نمازیں فرض کی گئی تھیں، دو رکعت طلوع آفتاب سے پہلے اور دو رکعت غروبِ آفتاب سے پہلے ۔ (تفسیر ابن عطیہ) محدثین اور سیرت نگاروں کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ پھر واقعہ معراج ہی کے موقع سے پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ۔ (التمہید لابن عبد البر)
احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں پانچوں نمازیں دو دو رکعت ہی فرض ہوئی تھیں ، بعد کو چار رکعت کر دی گئیں؛ البتہ سفر میں دو رکعت باقی رکھی گئی، یہ بات اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے مروی ہے۔ ( بخاری، مسلم) شب ِمعراج میں پانچ وقت کی نماز تو فرض کی گئی؛ لیکن اس وقت نمازوں کے اوقات متعین نہیں ہوئے تھے، روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ معراج کی اگلی صبح حضرت جبریلؑ  تشریف لائے اور پانچوں وقت نماز پڑھ کر آپؐ کو بتایا  اور آپ ؐنے اسی کے مطابق نماز ادا فرمائی۔ (بخاری ، ، مسلم)  اس طرح یہ پانچ نمازیں فرض ہوئیں ، اور نمازوں کے اوقات متعین ہوئے۔ نماز کے بعض افعال میں بھی ابتداء میں سہولت رکھی گئی تھی، جیسے گفتگو کی ممانعت نہیں تھی، پھر اس سے منع فرما دیا گیا۔ مسبوق یعنی جس کی کچھ رکعتیں چھوٹ جاتی ہیں، وہ اپنی چھو‘ٹی ہوئی رکعتوں کو اپنے لحاظ سے ادا کرتا تھا، امام کی اتباع نہیں کرتا تھا، پھر امام کی اتباع کو لازم کر دیا گیا، غرض کہ یہ دین کا اتنا اہم فریضہ ہے کہ اس کی اہمیت کو ظاہر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ؐ  کو عالم بالا پر مدعو فرمایا ، اور وہاں اُمت ِمحمدیہ کے لئے یہ مبارک ومسعود تحفہ آپؐ کو عنایت فرمایا  جسے ہم نماز کہتے ہیں۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں تقریباً سات سو مواقع پر مختلف حیثیتوں سے نماز کا ذکر آیا ہے۔ اللہ کے رسولؐ  جب اسلام قبول کرنے والوں سے بیعت لیتے تو نماز کا عہد ضرور لیتے۔ (بخاری عن جریر ابن عبد اللہ) وفد عبد قیس بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو آپؐ نے وفد کے لوگوں کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیا، اور چار باتوں سے رکنے کا حکم دیا۔ جن چار باتوں کے کرنے کا حکم دیا، ان میں توحید کی شہادت کے بعد پہلا حکم نماز کا تھا۔ (بخاری عن ابن عباس ؓ) آپؐ   نے مذہب ِاسلام کے اہم اجزاء کو سمجھانے کیلئے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، یہاں بھی آپؐ  نے توحید کی شہادت کے بعد سب سے پہلے نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔ (بخاری عن عبد اللہ ابن عمرؓ) آپؐ نے نماز کی اہمیت واضح کرنے کیلئے اس کو ایمان کا درجہ عطا فرمایا، اور ارشاد ہوا: جس نے نماز چھوڑ دی، گویا اس نے کفر کیا۔ (سنن ترمذی عن بریدہؓ) نماز کا عمل آپؐ کو کس قدر محبوب و مقبول تھا،  اس کا اندازہ آپؐ کے اس قول سے کیجئے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی ) نماز سے آپؐ کو راحت ملتی اور سکون قلب حاصل ہوتا، آپ ؐ  حضرت بلالؓ سے فرماتے: نماز قائم کر کے ہماری راحت کا سامان کرو۔ (ابو داؤد) شریعت میں نابالغ پر عبادتیں فرض نہیں کی گئی ہیں لیکن آپ نے خاص طور پر نماز کے بارے میں فرمایا کہ جب بچہ سات سال کی عمر کا ہو جائے تو اس کو نماز کا حکم دو اورجب د س سال کی عمر ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اس کو تنبیہ کرو۔ (ترمذی) منشاء نبویؐ   یہ تھا کہ بچوں پر اگرچہ نماز فرض نہیں ہے؛ لیکن ان کو شروع سے نماز کی عادت ڈالی جائے ۔
عبادات میں نماز کو بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں، جو کسی اور عبادت کو حاصل نہیں، مثلاً نماز کے علاوہ تمام عبادتیں ایک طبقہ پر ہیں، دوسرے طبقہ پر نہیں،  زکوٰۃ مالداروں پر فرض ہے غریبوں پر نہیں، روزہ صحت مندوں پر ہے بیماروں پر نہیں، سفر حج کی فرضیت کیلئے صحتمند اور صاحب استطاعت ہونا ضروری ہے، جو صحت و استطاعت سے محروم ہوں، ان پر فرض نہیں ہے، قربانی اہل ثروت پر ہے غریبوں پر نہیں لیکن نماز ہر ایسے شخص کے لئے ہے جس کے ہوش وحواس برقرار ہوں ، صحت مند ہو یا بیمار ، جوان ہو یا بوڑھا، طاقت ور ہو یاکمزور، مالدار ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت اور مسافر ہو یا مقیم۔
اسی طرح دوسری عبادتیں یا تو مکمل طور پر فرض ہیں یا فرض نہیں ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اس عبادت کو بہ کمال و تمام انجام نہ دے سکے تو جس حد تک انجام دے سکتا ہو، اس حد تک انجام دینے کا حکم دیا گیا ہو، اگر غروب آفتاب تک فاقہ رہنے کی طاقت نہیں ہے تو ایسا نہیں کہ ظہر تک روزہ رکھ لے، اگر نصاب زکوٰۃ کے نصف کا مالک ہو تو یہ نہیں ہے کہ اس کے بقدر زکوٰۃ فرض ہو، اگر حج کے لئے مکہ مکرمہ تک پہنچنے کی استطاعت نہ ہو تو ایسا نہیں ہے کہ جدہ تک جا کر واپس آجائے؛ لیکن نماز اگر اس کے تمام احکام و آداب کی رعایت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہو تو جس طرح ادا کر سکتا ہو، اس طرح ادا کر لے، قیام فرض ہے؛ لیکن کھڑا نہ ہو سکتا ہو تو بیٹھ کر ادا کرلے، بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پڑھے، غسل کی ضرورت ہو تو غسل کرنا اور وضو کی ضرورت ہو تو وضو کرنا ضروری ہے؛ لیکن اگر پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو تو تیمم کر لے، غرض جس حد تک اس عبادت کو انجام دے سکتا ہو، انجام دینا ضروری ہے، نماز کو بالکل چھوڑ دینا جائز نہیں ۔
نماز کی اس اہمیت کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ یہ توحید اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اعلیٰ ترین مظہر ہے۔ نمازی اللہ کی تکبیر سے اپنی عبادت شروع کرتا ہے، قبلہ کی طرف ہاتھ اُٹھا کر اشارہ سے شرک اور کسی دوسرے کو مالک سمجھنے کی نفی کرتا ہے،  پھر ایک غلام کی طرح نہایت ادب کے ساتھ دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے، آنکھیں بھی اس طرح جھکی ہوئی ہیں  جیسے ایک مجرم دربار شاہی میں نظر اُٹھانے کی ہمت نہیں کرتا، زبان پر اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف کے کلمات ہیں، کبھی کمر تک جھکتا ہے اور کبھی اپنے مالک کے سامنے اپنی جبین ندامت کو زمین پر رکھ دیتا اور خاک آلود کرتا ہے، جب جھکتا ہے تو زبان پر اللہ کی پاکی کا ذکر ہے، اور جب اُٹھتا ہے تو زبان اللہ کی بڑائی کا نعرہ لگاتی ہے، کبھی التجاء کرتا ہے، کبھی اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہے، اس کے جسم کا کوئی حصہ آزاد نہیں، وہی کچھ کہتا ہے جو اللہ کے رسولؐ  نے کہنے کا حکم دیا، وہی سب کرتا ہے جس کی آپؐ   نے ہدایت فرمائی ہے۔  اسی جگہ دیکھتا ہے جہاں نماز کی حالت میں آپؐ   کی نظر مبارک ہوا کرتی تھی، غرض بندے کا پورا وجود خدا کے سامنے بچھ جاتا ہے۔
اللہ کے رسولؐ   کے زمانہ میں کسی مسلمان کے نماز چھوڑ دینے کا تصور ہی نہیں تھا، یہاں تک کہ جو لوگ اندر سے مسلمان نہیں تھے اور بعض فوائد کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، وہ بھی پابندی سے نماز پڑھتے تھے کہ کہیں ان کا یہ نفاق ظاہر نہ ہو جائے؛ لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمان مسجد تو خوبصورت سے خوبصورت بناتا ہے اور اس میں آپس میں مقابلہ بھی ہوتا ہے؛ لیکن مسجدوں کی آبادی کی فکر نہیں کی جاتی، بقول شاعر :
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب  اوصاف ِحجازی  نہ رہے
جن لوگوں پر نماز فرض ہے، اگر وہ سب نماز کا اہتمام کریں تو پانچوں وقت ہر مسجد میں جمعہ کا منظر نظر آئے لیکن حالت یہ ہے کہ اکثر مسجدوں میں عام نمازوں میں مسجد کا ایک چوتھائی حصہ بھی پُر نہیں ہو پاتا۔ بیشتر گھروں میں خواتین کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ نماز پڑھنا صرف بوڑھی عورتوں کیلئے ہے، تعلیم حاصل کرنے والی، ملازمت کرنے والی اور پکوان کرنے والی خواتین پر گویا نماز فرض ہی نہیں ہے، بعض عورتیں سمجھتی ہیں کہ اگر بچہ کپڑے پر پیشاب کر دے تو نماز نہیں پڑھ سکتے؛ حالانکہ یہ بات بہت آسان ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے ایک الگ کپڑا رکھیں، اور جسم کے جس حصہ پر پیشاب لگ گیا ہے، صرف اس کو دھولیں۔ اسی طرح بعض بہنوں کو غلط فہمی ہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد بہر صورت چالیس دن تک نماز معاف ہے؛ حالانکہ جس وقت بھی خون بند ہو جائے او ر پاک صاف ہو جائیں، ضروری ہے کہ غسل کرلیں اور اس کے بعد نماز ادا کریں، خواہ ولادت کے ایک ہی دن بعد خون تھم جائے ۔
مقام عبرت ہے کہ جو عمل نبی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو، اُمت اس میں اپنی آنکھوں کے لئے ٹھنڈک محسوس نہ کرے ، اس سے  بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی ؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK