Updated: April 29, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
تاہم، بنچ نے اعتراف کیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے جو خدشات اٹھائے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کے پیچھے وجہ قانون کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ اس کا ناقص نفاذ ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے مسائل نئے قانونی دفعات بنانے کیلئے عدالتی مداخلت کا جواز فراہم نہیں کرتے۔
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے بدھ کے دن نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کو روکنے کیلئے اضافی ہدایات جاری کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کیلئے موجودہ قانونی ڈھانچہ کافی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جب بات نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کی ہو تو ملک میں کوئی ”قانون سازی کا خلا“ موجود نہیں ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ فوجداری جرائم بنانا یا ان کی حد بڑھانا سختی سے مقننہ کا کام ہے، عدلیہ کا نہیں۔
بنچ نے نوٹ کیا کہ ”آئینی ڈھانچہ... عدلیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ نئے جرائم تخلیق کرے یا عدالتی ہدایات کے ذریعے فوجداری ذمہ داری کے حدود کو وسعت دے۔“ عدالت نے مزید کہا کہ عدالتیں صرف اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کر سکتی ہیں، جبکہ قانون سازی کا کام پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ پر چھوڑنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس کے پروگرام کیخلاف طلبہ کاشدید احتجاج
موجودہ قوانین اور نفاذ کے خدشات
عدالت نے کہا کہ تعزیراتِ ہند اور متعلقہ قوانین کی دفعات پہلے ہی ان اقدامات کا احاطہ کرتی ہیں جو دشمنی کو فروغ دیتے ہیں، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں یا امنِ عامہ کو بگاڑتے ہیں۔ عدالت نے بھارتیہ ناگرک سُرکشا سنہتا کے تحت موجود حفاظتی اقدامات کی طرف بھی اشارہ کیا، جو ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس کے کارروائی نہ کرنے کی صورت میں متبادل قانونی چارہ جوئی کی اجازت دیتے ہیں۔
بنچ نے اعتراف کیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے جو خدشات اٹھائے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کے پیچھے وجہ قانون کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ اس کا ناقص نفاذ ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے مسائل نئے قانونی دفعات بنانے کیلئے عدالتی مداخلت کا جواز فراہم نہیں کرتے۔ ساتھ ہی، عدالت نے تسلیم کیا کہ نفرت انگیز تقاریر اور افواہ سازی براہِ راست آئینی اقدار جیسے بھائی چارے، وقار اور امنِ عامہ کو متاثر کرتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومتیں اگر ضرورت محسوس کریں تو قانون سازی میں تبدیلیوں پر غور کرنے کیلئے آزاد ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سنت کبیر نگر میں مدرسے پر بلڈوزرکارروائی پر ہائی کورٹ کی روک
واضح رہے کہ یہ کیس ۲۰۲۰ء سے دائر متعدد درخواستوں سے شروع ہوا جن میں ”کورونا جہاد“ جیسی مہمات اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی مبینہ میڈیا پر مبنی غلط معلومات جیسے فرقہ وارانہ بیانیے پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ہونے والی سماعتوں میں ”دھرم سنسد“ کے نام سے معروف مذہبی اجتماعات میں دی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں مبینہ طور پر تشدد اور معاشی بائیکاٹ کی اپیلیں کی گئی تھیں۔
پہلے کے احکامات میں، عدالت نے حکام کو فعال طریقے سے کام کرنے کی ہدایت دی تھی اور پولیس سے کہا تھا کہ وہ رسمی شکایات کے بغیر بھی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے باوجود، درخواست گزاروں نے بعد میں الزام لگایا کہ نفاذِ قانون اب بھی کمزور ہے۔
عدالت کے سامنے پیش کئے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن پولیس کی کارروائی اکثر محدود رہی ہے۔ عدالت نے اب نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کئی زیرِ التوا معاملات کو بند کر دیا ہے اور فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ قانونی میکانزم کے ذریعے ریلیف حاصل کریں، تاہم نوئیڈا میں ایک مبینہ نفرت انگیز جرم سے متعلق مخصوص کیس میں عدالت نے اپنی نگرانی برقرار رکھی ہے۔