• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خراب ہوتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے درمیان ’محمد دیپک‘ کا بھائی چارگی کا اعلان

Updated: February 22, 2026, 11:28 AM IST | Ram Puniyani | Mumbai

ہندوستان ایک تکثیری مزاج کا ملک ہے۔یہاں حیرت انگیز مذہبی روایتیں اور قدریں ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان کی ہندو اور مسلم شناخت کااستعمال کرکے’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پالیسی کے بیج بوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندوستان ایک تکثیری مزاج کا ملک ہے۔یہاں حیرت انگیز مذہبی  روایتیں اور قدریں ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان کی ہندو اور مسلم شناخت کااستعمال کرکے’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پالیسی کے بیج بوئے۔ انہوں نے بار بار ماضی کی باتوں کو دہرا کر سماج میں نفرت کو ہوا دی، جس کی وجہ سے آگے چل کر مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا،آر ایس ایس نے تاریخ پر اپنا اپنا نظر یہ پیش کیا۔ نتیجتاً ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کم ہوئی اور نفرتیں بڑھیں۔ یہ نفرت ملک کی تقسیم سے پہلے بڑے پیمانے پر تشدد کا باعث بنی۔ یہ تشدد ماؤنٹ بیٹن کے تیار کردہ تقسیم کے منصوبے کو قبول کرنے کی ایک بڑی وجہ تھا۔ بابائے قوم، امن کے پیامبر کو ’مسلمانوں کا ہمدرد‘ ہونے کے الزام میں اپنے سینے میں تین گولیاں  جھیلنی  پڑیں۔تقسیم کے بعد، پاکستان میں مسلم فرقہ پرستی نے زور پکڑا، جس کی وجہ سے وہاں جمہوریت کے پنپنے کے امکانات ختم ہوگئے۔ اس کا سماجی اور معاشی ترقی پر سنگین اثر پڑا اور پاکستان کے ترقی، امن اور بھائی چارے پر مبنی ایک جدید قوم بننے کے امکانات بہت کم ہوتے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ابھی دور کی بات ہے، اس کیلئے ارباب اقتدار کا مزاج سائنسی ہونا ضروری ہے

ہندوستان میں جواہر لال نہرو کی سربراہی میں ایک سیکولر قیادت تھی، جس نے ایک ایسے ملک کی بنیاد رکھی جو   سیکولرزم اور ترقی پسندی کے اصولوں پر چلنےکو تیار تھا۔ آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک ہم نے اپنی اقدار کو برقرار رکھا اور ترقی بھی کی، تاہم، پچھلی چند دہائیوں میں فرقہ پرست طاقتیں بہت طاقتور ہو گئی ہیں اور اب انھوں نے آزادی کی پہلی چار پانچ دہائیوں کی کامیابیوں  پر پانی پھیر دیا ہے۔ امن و سکون ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ معاشرے میں اپنی طاقت اور اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے، اور وہ ہے: مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینا۔

ہندوستان کو، جو ایک حقیقی جمہوریت بننے کی راہ پر گامزن تھا، کو ایک فرقہ پرست اور قوم پرست ملک میں تبدیل کرنے کی اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر، انہوں نے بنیادی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نئی داستانیں گھڑنا شروع کر دی ہیں۔ صورتحال اب کافی مایوس کن ہو چکی ہے۔ معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا پروان چڑھی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید تر ہوتی جارہی ہے۔ ہندو فرقہ پرست عناصر نے ملک میں ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ مسلمانوں کا باقی معاشرے سے الگ تھلگ ہو کر الگ محلوں میں رہنا عام ہو گیا ہے۔ سبزی خوری پر زور دیا جاتا ہے، اور لو جہاد، لینڈ جہاد، اور کورونا جہاد جیسی کئی اصطلاحات اب عام ہو گئی ہیں۔ اعلیٰ قیادت سے لے کر نچلی سطح کے کارکنوں تک، اس نفرت کو تشدد کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے کا پولرائزیشن ہوتا ہے۔اعلیٰ قیادت ’بٹیں گے تو کٹیں گے‘...’ایک ہیں تو سیف ہیں‘.... ’انہیں کپڑوں سے پہچانا جاسکتا ہے‘... ’ان کی تعداد خرگوشوں کی طرح بڑھ رہی ہے‘....’ہندو اقلیت میںآ جائیں گے‘.... اور’ہندو خطرے میں ہیں‘ جیسے بہت سارے اچھالے جاتے رہے ہیں۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما، جو پہلے کانگریس کے ساتھ تھے اور گزشتہ کچھ برسوں سے بی جے پی کے ساتھ ہیں، نے میاں (بنگالی بولنے والے مسلمانوں) کے خلاف اتنے نفرت انگیز بیانات دیئے ہیں جو اس سے قبل کبھی نہیں سنے گئے تھے۔۲۷؍ جنوری کو شرما نے کہا تھا کہ ’’ایس آئی آر کے ذریعے ۴؍ سے ۵؍ لاکھ میاں کے نام ووٹر لسٹوں سے ہٹا دیئے جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم پر اپوزیشن کی سرد مہری

شرما نے کھلے عام عوام کو بھڑکاتے ہوئے کہا کہ’’انہیں ہر طرح سے ہراساں کیا جائے، اگر رکشا کا کرایہ ۵؍ روپے ہے تو انہیں۴؍ روپے ہی  دیںتاکہ آسام میں رہنا ان کیلئے ناقابل برداشت ہو جائے اور وہ خود یہاں سے چلے جائیں گے۔‘‘اتنا کہنے کے بعدشرما نے   رائفل سے گولیاں چلاتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں گولیاں کچھ ہی فاصلے پرکھڑے ایک آدمی اور ایک لڑکے کو لگ رہی ہیں جو ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ تاہم اب اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد انسانی حقوق کے معروف کارکن اور مصنف ہرش مندر نے ’آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت، ہراساں کرنے اور امتیازی سلوک کو فروغ دینے کے مقصد سے نفرت انگیز تقریر پوسٹ کرنے‘ پر عدالت میں ایک  عرضی داخل کی۔عرضی میں، انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف فوری کارروائی کی درخواست کی۔ جواب میں، شرما نے کہا کہ وہ مندر کے خلاف  این آر سی کے دوران مسلمانوں کی مدد کرنے کا الزام لگا کرمتعدد ایف آئی آر درج کرائیں گے، اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انہیں جیل بھیجا جائے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں صدیوں پرانی ہم آہنگی کی ثقافت کہاں گئی، جہاں آسام کے اذان پیر اور شنکر دیو ہم آہنگی کی بات کرتے تھے اور آسام میں رہتے تھے؟ کھانے، ادب، فن تعمیر اور مذہبی تہوار جیسے شعبوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی اثر و رسوخ کو کیا ہوا ہے؟ موجودہ صورتحال انتہائی مایوس کن اور افسوس ناک ہے۔ان سب کے درمیان اتراکھنڈ کے کوٹ دوار کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معمر مسلم دکاندار گزشتہ ۳۰؍ برسوں سے ’بابا اسکول ڈریسز‘ کے نام سے  ایک دکان چلا رہا تھا۔ بجرنگ دل  کے رضاکاروں نے ان سے کہا کہ وہ اپنی دکان کے نام  میں لفظ ’بابا‘ استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اسے ہندو لفظ سمجھتے ہیں۔ یہ دیکھ کردیپک کمار نامی ایک شخص نے مداخلت کی۔ جب دیپک نے شدت پسند بجرنگ دلیوں کا سامنا کیا تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور بعد میں دیپک کمار اور اس کے دوست کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جبکہ بجرنگ دل کے کارکنوں کے خلاف درج ایف آئی آر میں ملزمین کو نامعلوم کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیرس سے میسور تک

لیکن اس پورے واقعہ کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ جب حملہ آور بجرنگ دل کے کارکنوں نے دیپک سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نےجواب دیا ’محمد دیپک‘۔اس واقعہ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ ہندو قوم پرستی کے حامیوں کی طرف سے نفرت کے سیلاب میں انسانیت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی ہے۔ دیپک ہندوؤں اور مسلمانوں کے مضبوط رشتے کی زندہ مثال ہے جو کبھی عام تھا لیکن اب مستثنیٰ ہو گیا ہے۔ اس استثنا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہم آہنگی کی فضا تھی۔ دیپک کمار کو سو سلام۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دیپک کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیپک آئین اور انسانیت کی حفاظت کیلئے لڑ رہے ہیں، جسے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لوگ  روزانہ اپنے پیروں تلے روندنے کی سازش کرتے ہیں۔ وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کی زندہ علامت ہیں، جو اقتدار میں رہنے والوں کو چبھتی ہے۔‘‘ سنگھ پریوار جان بوجھ کر ملک کی معیشت اور سماج میں زہر پھیلا رہا ہے تاکہ ملک تقسیم رہے اور چند چنندہ لوگ خوف کی بیساکھیوں کے سہارے حکومت کرتے رہیں۔دیپک کے پاس اس سوال کا بہت دلچسپ جواب تھا کہ انہوں نے اپنی شناخت محمد دیپک کے طور پر کیوں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سرسوتی میری زبان پر  ہوئی تھی، اسی وجہ سے میرے منہ سے محمد دیپک کا نام نکلا۔ میں نے سوچا کہ میں ہندو ہوں، یہ جان کر ماحول پرسکون ہو جائے گا لیکن اس کے بجائے، میرے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔‘‘

امید کی جانی چاہئے کہ ہرش مندر اور دیپک کمار جیسے اور بھی بہت سے لوگ معاشرے میں نظر آئیں گے جو ہندوستان کے حقیقی تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK