امام حسینؓ کی شہادت محض تصویر مظلومیت نہیں بلکہ جرأت و اقدام کی علامت ہے

Updated: August 09, 2022, 12:14 PM IST | Maulana Osama Ibn Rajab | Mumbai

امام عالی مقام صرف جذباتیت سے مغلوب ہوکر کوفہ کی طرف نہیں چلے تھے بلکہ منظم پلاننگ اور حکمت عملی کے ساتھ روانہ ہوئے تھے اور عرصے تک اہل کوفہ سے خط و کتابت کے ذریعے انہیں اپنا ہم نوا بنا یا تھا

The incident of Hussain`s martyrdom gives us a lesson that we should never surrender to oppression and tyranny. .Picture:INN
شہادتِ حسینؓ کا واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ظلم و مطلق العنانی کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہ کیا جائے ۔ تصویر:آئی این این

 اسلام دین فطرت اور دین کامل ہے ، اس کے قوانین وضوابط میں ہمہ گیری و جامعیت ہے، اس میں تمام شعبہ  حیات کی رہبری ہے، اس کے وسیع دامن میں اگر عبادات وریاضت کا مقدس تصور ہے تو معاملات و معاشرت کی رہبری بھی ہے۔ اسلام نہ رہبانیت کی انفرادیت کو پسند کرتا ہے نہ جاہلیت کی گروہ بندیوں کو، یہ جہاں فرد کی انفرادی، خانگی اور ذاتی رہبری کرتا ہے، وہیں زندگی کے اجتماعی، معاشرتی، سماجی، ثقافتی اور ملی مسائل کیلئے بھی ایک مرتب و مدلل اور جامع نظام عطا کرتا ہے۔ یہ افراط و تفریط سے حد درجہ انحراف کرتا ہے، خوشی کے شادیانے اور غم کے تازیانے میں بھی اسکی واضح تعلیمات ہیں جو انسان کو اس کی انسانی قدروں سے گرنے نہیں دیتیں۔ اس کی ایک خوبصورت تاریخ ہے جو ہر دور میں نئی نسلوں کے ذہنوں کو پروان چڑھاتی ہے، پژمردگی سے ان کو بچاتی ہے، حالات کی ستم ظریفی میں زندگی کی کشتی کو ڈانواں ڈول ہونے سے محفوظ رکھتی ہے، حکومت و سلطنت، شجاعت و عدالت، سطوت و استقامت کی ایک لمبی اور زندہ جاوید تاریخ جو ہر دور میں خوابیدہ صلاحیتوں کو مہمیز کرتی ہے، بشرطیکہ اسے ایک خاص نظر سے دیکھا جائے۔ واقعات کربلا کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ  آپؓ کی شہادت محض تصویر مظلومیت نہیں بلکہ جرأت و اقدام کی علامت ہے، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والے آہن صفت مرد مجاہد کی داستان ہے، وقت کے طاغوت کے خلاف سپاہِ جالوت کے امیر لشکر کی دہاڑ کی کہانی ہے، وہ اسلامی حکومت کو راج شاہی میں بدلنے سے روکنے کی کوشش کرنے والے ایک مردِ مجاہد کی آپ بیتی ہے، دولت و ثروت اور طاقت کے نشے میں چور ظالموں کے خلاف عزم واستقلال کے پہاڑ کے ثبات و استقامت کا افسانہ ہے اور تلواروں کی چھاؤں میں بھی جبین ناز کو سجدۂ نیاز سے منور کرنے والے شہید کا مرثیہ ہے۔
  حضرت حسینؓ صرف جذباتیت سے مغلوب ہوکر کوفہ کی طرف نہیں چلے تھے بلکہ منظم پلاننگ اور حکمت عملی کے ساتھ  روانہ ہوئے تھے۔ عرصے تک اہل کوفہ سے خط و کتابت کے ذریعے انہیں اپنا ہم نوا بنا لیا تھا، جب خود کوفہ والوں نے حضرت امام ؓ کی قیادت میں یزید سے لوہا لینے کے پرجوش عزم کا اظہار کیا تب حضرت حسینؓ یزید کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوئے، پھر اسکے بعد جو واقعات ہوئے، کہ یزید کی طرف سے کوفہ والوں کو پابندِ سلاسل کردیاگیا، امامؓ کے ہم نواؤں کے سر تن سے جدا کردیے گئے، جس کے بعد اہل کوفہ کے دلوں میں وہ ہیبت بیٹھی کہ امام کی معیت میں یزیدیوں کا خون تو کیا بہاتے خود وہ امامؓ کو دو گھونٹ پانی نہیں پلاسکے۔ مگر ان ہمت شکن حالات میں بھی حضرت حسینؓ حق کی حقانیت کا ببانگ دہل اعلان کرتے رہے اور آخر میں جامِ شہادت نوش کیا۔ شہادتِ حسین کا واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ظلم و مطلق العنانی کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہ کیا جائے، جب اقتدار کے نشے میں چُور بادشاہوں اور حکمرانوں کا ظلم حد سے بڑھ جائے اور اسلام کی بیخ کنی میں مسابقت کی جانے لگے تو ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو دین کی سربلندی کے لیے قربانی  دینے کے ولولے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور اس سیلاب بلاخیز سے ٹکڑا جائیں۔ واقعہ کربلا انقلاب کی قوت کا استعارہ ہے، لیکن اس کے ولولہ انگیز کارناموں کو ہم نہ تو سمجھتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کارناموں کو ہم صرف محرم الحرام میں یاد کرتے ہیں جبکہ ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ کی کوشش سال بھر جاری رہنی چاہئے۔ چونکہ ہم مطالعہ نہیں کرتے اس لئے  شہادتِ حسینؓ کا فکری پہلو ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ آج کی دنیا جو بصیرت آمیز نظر سے محروم اور کھوکھلے نظریات میں گرفتار ہے، اگر خالص دینی بنیادوں پر شہادت حسینؓ کا تجزیہ کرتی تو اسے یہ احساس ضرور جھنجھوڑ دیتا کہ کتابوں کے صفحات پر سیاہی پھیلانا، چند مرثیہ کے اشعار یا کچھ پیراگراف کا مضمون لکھ دینا الگ بات ہے اور اپنے عمل وکردار سے کتابِ دل پر خون کی سرخی سے عنوانِ حیات رقم کرنا ایک الگ بات ۔ اس میں شک نہیں کہ واقعات کربلا آج بھی خون رُلانے کیلئے کافی ہیں  اس لئے ہر مسلمان ان پر رنجیدہ رہتا ہے مگر صرف رنجیدہ ہونا کافی نہیں بلکہ دینی حمیت و حکمت کے ساتھ جذبۂ قربانی کو سمجھنا بھی ضروری ہے، آج کے دور میں ہماری قربانی یہ ہو کہ ہم اجتماعی مفاد پر انفرادی فائدوں کو تج دیں اور جمہوری ملک میں رہتے ہوئے ہر وہ قدم جو جمہوریت کے دائرہ میں رہ کر اُٹھایا جاسکتا ہو، وہ اُٹھائیں اور ایک ایسی ملت بن کر اُبھریں جس کی دُنیا میں قدرومنزلت ہو۔ اقبال کی زبان میں ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خون صد ہزار انجم سے ہی سحر پیدا ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے/ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK