اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت

Updated: January 10, 2020, 4:44 PM IST | Mufti Abdul Qayyum Khan Hazarvi

اسلام الہامی ادیان میں آخری اور کامل دین ہے جو اخروی نجات کا ضابطہ ہونے کے ساتھ معاشرتی دستور العمل بھی ہے۔ اسلام کا مقصود انسانوں کے باہمی رحم و کرم اور عطف و مہربانی پر مبنی معاشرے کی تعمیر ہے جس کی قیادت محبت و بھائی چارے کے ہاتھ میں ہو اور اس پر خیر و بھلائی اور عطاء و کرم کا راج ہو۔

علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

اسلام الہامی ادیان میں آخری اور کامل دین ہے جو اخروی نجات کا ضابطہ ہونے کے ساتھ معاشرتی دستور العمل بھی ہے۔ اسلام کا مقصود انسانوں کے باہمی رحم و کرم اور عطف و مہربانی پر مبنی معاشرے کی تعمیر ہے جس کی قیادت محبت و بھائی چارے کے ہاتھ میں ہو اور اس پر خیر و بھلائی اور عطاء و کرم کا راج ہو۔ اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے۔ اسلام نے خاندان کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کی عمارت کو پائیدار بنانے کے جو اصول و ضوابط متعین کئے ہیں ان میں سے ایک صلہ رحمی ہے۔ صلہ رحمی سے مراد رشتوں کو جوڑنا، رشتے داروں اور اعزاء و اقربا کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کرنا ہے۔
 علمائے امّت کا اتفاق ہے کہ صلہ رحمی واجب اور قطع رحمی حرام ہے۔ احادیث میں بغیر کسی قید کے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان سے تعلق جوڑے رکھنے کا حکم آیا ہے۔ صلہ رحمی اتنی اہم معاشرتی قدر ہے کہ تمام شریعتوں میں اس کا مستقل حکم رہا ہے اور تمام امتوں پر یہ واجب ٹھہرائی گئی ہے۔ اولادِ یعقوب علیہ السلام کے توحید پر ایمان لانے اور والدین سے حسنِ سلوک کے بعد اعزا و اقرباء سے صلہ رحمی کا عہد لیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور (یاد کرو)جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں کے ساتھ (بھلائی کرنا)۔‘‘(البقرة:۸۳) یہ حکم امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی لازم کیا گیا اور صلہ رحمی کرنے والوں سے آخرت میں اُس حسین گھر کا وعدہ کیا گیا ہے جو گل و گلزار اور سجا ہوگا۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’اور جو لوگ ان سب (حقوق اﷲ، حقوق الرسول، حقوق العباد اور اپنے حقوقِ قرابت) کو جوڑے رکھتے ہیں، جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور اپنے رب کی خشیّت میں رہتے ہیں اور حساب سے خائف رہتے ہیں (یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت کا گھر ہے)۔‘‘ (الرعد:۲۱) اور قطع تعلق کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:’’اور جو لوگ اﷲکا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تمام (رشتوں اور حقوق) کو قطع کر دیتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲنے حکم فرمایا ہے اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔‘‘(الرعْد،:۲۵)مزید یہ کہ قطع رحمی کو فساد فی الارض جیسے گھناؤنے جرم کے ساتھ ذکر کر کے اسے منافقت کی علامت قرار دیا اور اس کے مرتکبین کی تہدید کرتے ہوئے فرمایا: ’’پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان)قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اﷲ اور اس کے رسول ؐ نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)۔‘‘(محمد:۲۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا ایک امتیازی اور نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلہ رحمی کرتے، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے اور ان کے ساتھ محبت و خیرخواہی سے پیش آتے۔ آپﷺ جب مدینہ منورہ آئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے جن امور کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی، ان میں سے ایک صلہ رحمی بھی ہے۔ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلہ رحمی کو رزق میں کشادگی کا سبب قرار دیا۔ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اپنی عمر دراز، رزق وسیع اور بری موت سے دور ہونے جیسے خوشی والے امور درکار ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور رشتوں کو جوڑے۔

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK