ایک دہائی میں ملک کا سیاسی کلچر پوری طرح تبدیل ہوگیا

Updated: June 27, 2021, 11:26 PM IST | Yogendra Yadav

کانگریس کے دورِ اقتدار میں نصابی کتابوں میں جتنی آسانی سے ایمرجنسی کے واقعات کو شامل کرلیاگیا تھا، آج اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا

Indira Gandhi.Picture:INN
اندرا گاندھی۔تصویر :آئی این این

`’’ آپ کو پکا یقین ہے پروفیسر صاحب؟ کیا ملک اس بات کیلئے ذہن بناچکا ہے؟‘‘ میں ہر سال اس کہانی کو یاد کرتا ہوں اور اندرا گاندھی کے ذریعہ عائد کی گئیایمرجنسی کی برسی کے موقع پر خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں۔یہ کہانی  ایمرجنسی کے بارے میں نہیں ہے۔ دراصل ، کہانی اس واقعے کی ہے جب ایمرجنسی کے واقعے کو پہلی مرتبہ قومی سطح کی سرکاری درسی کتاب میں شامل کیا گیا تھا.... اور وہ بھی اُس وقت جب مرکز میں کانگریس  کی حکومت تھی۔ وہ۲۰۰۷ء کاسال تھا۔ ماہر تعلیم اور مفکر پروفیسر کرشنا کمار اس وقت نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر تھے اور اسکول کی درسی کتابوںکو پوری طرح سے ایک نئے رنگ و آہنگ میں پیش کرنےکیلئے ایک کوشش کی سربراہی کررہے تھے۔ پروفیسر سہاس پلشیکر اور مجھے دعوت دی گئی کہ نویں جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کی  سیاسیات یعنی پولیٹیکل سائنس کی درسی کتب کو دوبارہ لکھیں  اور نئے سرے سے ترتیب دیں۔ وہ انتہائی جوش و خروش کا دور تھا ، ہر کوئی اس بات کیلئے پُرجوش تھا کہ تعلیم کے شعبے میں کچھ کرنے کا یہ بہترین وقت تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اسکولی نصاب میں جسے ’سی وِکس‘ (شہریت) کہا جاتا ہے  کو  پوری طرح سے تبدیل کردیا جائے۔ ہمارے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنے کی ضرورت نہیں ہے یعنی انہیں بچہ مان کر نہیں چلنا ہے۔اسی طرح یہ بھی طے ہوا کہ پولیٹیکل سائنس کی درسی کتاب میں سیاست سے بھی پرہیز کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ درسی کتاب تو سیاسیات کی ہو لیکن اس میں  سیاست کے پیچیدہ سوالوں سے دامن بچاتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
  پروفیسر کرشنا کمار نے این سی ای آر ٹی میں جو ماحول تیار کیاتھا،اس میں ہمیں کام کرنے کی مکمل آزادی ملی۔سوشل سائنس سے متعلق تیار ہونے والی کتابوں کی دیکھ ریکھ کرنے والے منکسر مزاج پروفیسر’ہری واسودیون‘ کا اس کام میں بھر پورتعاون ملا۔اسی طرح  پروفیسر مرنال مری اور جی پی دیش پانڈے کی قیادت میں تشکیل پانے والی  وسیع النظر ’نیشنل مانیٹرنگ ٹیم‘ نے بھی ہمارا بھر پور ساتھ دیا۔  بارہویں جماعت کیلئے پولیٹیکل سائنس کی کتاب کا نام ہے ’آزاد ہندوستان میں سیاست‘ .... اور اس کتاب کیلئے  ایمرجنسی پر جب  درسی سبق تیار کیا جارہا تھا، تو درج بالا تمام باتوں کاگویا ایک طرح سے امتحان ہوگیا۔
  پولیٹیکل سائنس کے نصاب میں’آزاد ہندوستان میں سیاست‘ نامی کتاب کو شامل کرنا ایک طرح سے  شب خون مارنے کے مصداق تھا، کیونکہ اس سے قبل رجحان یہی تھا کہ اسکول کی درسی کتابوں میں ملک کی آزادی تک کے ہی دور کا احاطہ کیا جاتا تھا... اور اس کے بعد کے دور سے متعلق واقعات نصابی کتابوں میں آنے سے رہ جاتے تھے۔
 باالفاظ دیگر کہیں تو ، طلبہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ۲۰؍ ویں صدی کے نصف آخر  کے واقعات کو جانے کے بغیر۲۱؍ ویں صدی کی سیاست کے بارے میں اپنا ذہن بنا لیں گے۔ ہرکوئی ہمارے اس خیال سے متفق تھا کہ جو طالب علم بارہویں جماعت میں سیاسیات کا مطالعہ کرنے کا متبادل چنتے  ہیں،ان کیلئےہندوستانی سیاست کی تاریخ کا احاطہ کرنے والی ایک مکمل درسی کتاب تو ہونی ہی چاہئے۔ہم نے پروفیسر اُجول کمار کو مدعو کیا کہ اس طرح کی ایک درسی کتاب لکھنے کیلئے ٹیم کی قیادت کریں۔
 یہاں تک تومعاملہ ٹھیک ٹھاک چلا لیکن اصل رکاوٹ تو اس کے بعد ہونی تھی کہ اس تعلق سے تیار ہونےوالی کتاب میں کیا لکھا جائے؟ اس طرح کے نصاب کا اعلان ہوتے ہی ایک تنازع شروع ہوگیا۔ ابھی مجوزہ درسی کتاب کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا تھا کہ میڈیا میں شہ سرخیاں بننے لگیں کہ’’این سی ای آر ٹی کے نئے درسی کتاب میںگجرات فسادات پر سبق تیار کیا  جارہا ہے۔‘‘ہم لوگوں نے جب درسی کتاب کو لکھنا شروع کیا تو آپس میں یہ طے کیاگیا کہ سیاسی تنازعات پیدا کرنے والی باتوں سے نمٹنے کیلئے کچھ ٹھوس اقدامات بھی کرلئے جائیں،اسلئے ہم نے کتاب لکھنے کے انداز کو وضاحتی رکھا۔ جہاں کہیں محسوس ہوا کہ اس پر کوئی  تنازع ہوسکتا ہے ، تواس پر الگ الگ زاویے سے  روشنی ڈالنے کی کوشش کی اور زور اس بات پر دیا کہ جو بھی حقائق کتاب میں درج ہیں،کوئی چاہے تو نہایت آسانی کے ساتھ  اس کی سچائی کو پرکھ سکتا ہے۔ جہاں کہیں یہ محسوس ہوا کہ کسی بات کو سیدھے سیدھے انداز میں کچھ کہنا مشکل ہے تو ان باتوں کو کہنے کیلئے ہم نے تصویروں اور کارٹونوں کا سہارا لیا۔
  پولیٹیکل سائنس کی بارہویں جماعت کی کتاب کے چھٹے باب  ’جمہوری نظام کا بحران ‘ میں ہم نے یہی طریقہ اپنایا۔  یہ باب ایمرجنسی کی سیاست اور ایمرجنسی کے فوراً بعد کے حالات پر مرکوز ہے ۔ سبق میں لکھی جانے والی ہر بات مستند ہو، اس کیلئے  ہم نے حد درجہ احتیاط برتی لیکن کسی بھی چیز کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اس طرح، اس باب میں ایسی بہت ساری چیزوں کااحاطہ کیاگیا تھا جن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ حکمراں جماعت یقینی طور پر نہیں چاہے گی کہ ملک کی اگلی نسل ان باتوں کو یاد رکھے، جیسے اندرا گاندھی کا ذاتی بحران کو ملک کے بحران میں تبدیل کرنا، ایمرجنسی کا اعلان کردینے کے بعد کابینہ کو مطلع کرنا، میڈیا پر نکیل کسنا اور سنجے گاندھی کا خود کو قانون  اور دستورسے بالاتر سمجھنا اور لوگوں کے اسی طرح کا رویہ اختیار کرنا۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے دوران ہونےوالی تمام زیادتیوں کی تفصیل اس باب میں درج کی گئی تھی۔ 
 ایمرجنسی کے دوران ہونے والی زیادتیوں میں اکثر دو واقعات پر بحث کی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ پر ہونے والی انہدامی کارروائی ہے  اور دوسرا واقعہ کیرالا میں پولیس حراست میں پی راجن کی موت ہے۔ کتاب کے چھٹے باب میں  الگ الگ خانےبنا کر طلبہ کو ان دونوں واقعات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران،  ایک عام رجحان خوشامد انہ مزاج کا تھااوراُس وقت اقتدار کی بھی یہی کوشش تھی کہ لوگ اپنی زبان بند رکھیں۔ خوشامدانہ مزاج اور خاموشی اختیار کرنے کی اس  روش کو چھٹے باب میں کچھ چبھتے ہوئے کارٹونوں اور تصاویر کے ذریعے بھی دکھایا گیا ہے۔
 اگلا چیلنج تھا کہ کتاب کے مسودے پرحکومت کی منظوری۔تین نامور اسکالر اور دانشور رام چندر گوہا ، سنیل کھلنانی اور مہیش رنگ راجن نے کتاب کا ابتدائی مسودہ پڑھا تھا۔ اس کے علاوہ این سی ای آر ٹی نے مسودے کو جانچنے کیلئے ایک خاص کمیٹی بھی بنائی تھی۔چھٹے باب کا ہر لفظ بلند آواز سے پڑھا گیا اور پھر بحث و مباحثہ کے بعدمنظور کیا گیا۔
 سب جانتے تھے کہ اصل مسئلہ متن کی سچائی کا نہیں تھا بلکہ مسئلہ  یہ تھا کہ کانگریس کے دور میں نافذ کئے گئے ایمرجنسی کے واقعات کے بارے میں طلبہ کو سچائی  سے آگاہ کرنے کا۔ اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ صرف چھٹا باب  یا پھر وہ کتاب ہی نہیں بلکہ نصاب کی تیاری کا پورا منصوبہ ہی داؤ پر لگا ہوا تھا اور اسی کے ساتھ این سی ای آر ٹی کے سربراہ پروفیسر کرشنا کمارکی ملازمت بھی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ٹھیک ایک ہفتے بعد، پروفیسر کمار نے مجھے اور پروفیسر یشپال سے کہا کہ شاستری بھون میں  وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ سے ملاقات کرنی ہے ، آپ لوگ آجائیں۔ سچ کہوں تو، اُس وقت ایک پل کیلئے میں پریشان ہوگیا تھا کیونکہ ارجن سنگھ کی شبیہ ایک چالاک سیاست داں کی تھی۔ نپے تلے انداز میں بات کرنے والے ارجن سنگھ فوراًہی  موضوع پر آگئے۔ انہوں نے کہا کہ’’میں نے پڑھ لیا ہے ، مجھے کچھ خاص نہیں کہنا ہے لیکن انہیں کچھ پوچھنا  ہے۔‘‘یہاں انہیں سے ان کا اشارہ اپنے سیکریٹری کی جانب تھا۔ انہیں یقینی طورپر  وزیر کے ذہن میں پیدا ہونےوالے اشکال کو دور کرنا تھا۔ ` ان کے سیکریٹری نے ایمرجنسی سے متعلق باب کھولا اور پوچھ تاچھ شروع کردی ۔ ’’سر ! ان لوگوں نے لکھا ہے کہ ایمرجنسی متنازع تھی۔‘‘ سیکریٹری کو جواب نہ دے کر میں وزیر کی جانب مخاطب ہوا۔’’سر! کیا اپنے طویل سیاسی سفر میں ایک حادثے کی شکل میں ایمرجنسی کو متنازع نہیں سمجھتے؟‘‘ اس کے جواب میں مجھے سوچ میں غرق  ایک ’ہاں‘ کی آواز سنائی دی۔
  اگلا سوال تھا ’’سر ! سبق میں شاہ کمیشن کا حوالہ دیاگیا ہے لیکن شاہ کمیشن کا تو کانگریس نے بائیکاٹ کیا تھا۔‘‘ میں نے ایک تکنیکی نکتہ پیش کرتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔’’لیکن سر! آپ بھی اس بات کو تسلیم کریںگے کہ ایمرجنسی کے بارے میں یہی ایک سرکاری دستاویز ہے جسے پارلیمنٹ میں پیش کیاگیااور کبھی مسترد نہیں کیاگیا۔‘‘
 کچھ اور سوالوں کے بعد میرا حوصلہ بس جواب ہی دینےو الا تھا کہ ارجن سنگھ نے ہاتھ اٹھا کر اپنے سیکریٹری کو رُکنے کا اشارہ کیا۔وہ میری طرف مڑے اور پوچھا’’پروفیسر صاحب!کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک اس کیلئے تیار ہے؟‘‘  اس کا جواب میرے پاس پہلے ہی سے تیار تھا۔’’ہماری جمہوریت اب جوان ہوچکی ہے۔اس واقعے (ایمرجنسی) پر غوروفکر کرنا دراصل نظم  و نسق کو مضبوط بنانے کا کام ہے۔ بارہویں جماعت کے طلبہ جلد ہی ووٹ ڈالنے جائیں گے۔اسلئے انہیں ان حقائق سے آگاہ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ وزیر محترم کے چہرے پر ایک ترچھی مسکان بس تیرنے ہی والی تھی۔ میری بات کو درمیان ہی میں روک کر تجربہ کار پروفیسر یشپال نے کہا کہ ’’سر! ان پرندوں کو اب کھلے آسمان میں پرواز کرنے دیجئے۔‘‘ ہم نے دیکھا کہ وزیر کے چہرے پر وہ مسکان پوری طرح سے پھیل گئی۔ میٹنگ ختم ہوئی۔اندازہ ہوگیاتھا کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے، اب وزیر محترم کے ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور اپنی پارٹی کو سنبھالیں۔ انہوں نے ٹھیک یہی کیا لیکن کیسے کیا،اس کا پتہ نہیں۔  چھٹے باب یا یوں کہیں کہ پوری کتاب ایک لفظ بھی ہٹایا گیا، نہ تبدیل کیا گیا۔ ایمرجنسی کا واقعہ جوں کا توں سرکاری اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوا اور وہ بھی کانگریس کے دور اقتدار میں۔ لیکن آئیے! اب پرانی باتوں کو چھوڑ کر ہم ۲۰۲۱ء میں آجائیں ۔ ارجن سنگھ آج نہیں ہیں، نہ ہی ہمارے درمیان پروفیسر یشپال، ہری واسودیون اور جی پی دیش پانڈےموجود ہیں۔ اوپر پیش کی گئی کہانی آج پانچ دہائی پرانی معلوم پڑتی ہے۔ آج  این سی ای آر ٹی ’آزاد ہندوستان میں سیاست‘ سمیت دیگر نصابی کتابوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، کوشش تو یہ بھی کی جارہی ہے کہ قومی سطح پر جاری نصاب کی پوری ہیئت ہی تبدیل کردی جائے۔ نصابی کتب کے صفحات کو پلٹتے ہوئے  میری نظر اس کی تمہید  میں تحریر الفاظ پر رُک گئی جہاں کہاگیا ہے کہ ’’کتاب ہندوستانی جمہوریت کی تکمیل کا ثبوت  ہے۔‘‘میں اپنی پیشانی پر زور دے کر ارجن سنگھ کے سوال کو  پھر سے یاد کر رہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK