• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

شادی بیاہ میں رسم و رواج کاجال اورفضول خرچی:کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ رہ ہیں؟

Updated: December 01, 2023, 12:28 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

بیٹیاں جو شادی سے پہلے باعث رحمت و برکت ہیں، ان کی خصوصیات اور فضیلت شادی کے بعد ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی ان خصوصیات کے ساتھ نئے گھر میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹیاں اللہ رب العزت کی بیش بہا نعمت ہیں ۔ اس کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کو اللہ رب العزت نے اس نعمت سے نوازا ہے۔ پیغمبر اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ رب العزت نے چار بیٹیاں عطا کی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نعمت کی جو قدر دانی فرمائی اور جس خوش اسلوبی سے عظمت کی چادر اڑھاکر رہتی دنیا تک کے لئے بطور مثال پیش کیا وہ تاریخ اسلام کا ایک ممتاز اور زرین باب ہے۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانے میں پیغام حق و صداقت کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے، وہ زمانہ عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کے لئے بدنام ترین زمانہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بیٹیوں کی پیدائش پر اس زمانے کے لوگوں کا قبیح طرز عمل اس طرح مذکور ہے: ’’ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( پیدا ہونے ) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے، جو بری خبر اس کو سنائی گئی، اس کے باعث چھپتا پھرتا ہے کہ رسوائی قبول کرتے ہوئے اس کو رہنے دے یا اس کو مٹی میں دبادے؟ کیا ہی برا اُن کا فیصلہ ہے !‘‘ (النحل : ۵۸۔۵۹)
 افسوس کی بات ہے کہ کہنے کو ہم انتہائی مہذب اور ترقی یافتہ زمانے میں جی رہے ہیں لیکن ہمارا طرز عمل صنف نازک کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے بھی گیا گزرا ہے۔ اس کی عکاسی صاحب آسان تفسیر نے مذکورہ آیت کے ضمن میں کچھ اس طرح کی ہے: ’’یہ تو قدیم جاہلیت ہے ؛ لیکن افسوس کہ عصر حاضر کی جدید جاہلیت میں بھی دختر کُشی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستان میں اس وقت ایک ہزار لڑکوں کے مقابلہ میں نو سو سے کچھ ہی زیادہ لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض ریاستوں میں تو ایک ہزار لڑکوں کے مقابلہ لڑکیوں کی پیدائش چھ سو سے کچھ زیادہ ہے، اس طرح ماں کے رحم میں ہی بچیوں کو مار دیا جاتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عورتوں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے اورمردوں کی بڑھتی جاتی ہے۔ مستقبل میں اس کی وجہ سے جو سماجی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے، وہ محتاج بیان نہیں ....... ایسے واقعات کا بنیادی سبب برصغیر میں شادی میں فضول خرچی، لڑکی والوں پر جہیز، رقمی مطالبات اور ضیافت کا بوجھ ڈالنا ہے، شاید ہم اسی جاہلیت کی طرف لوٹ رہے ہیں جس کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔‘‘ (آسان تفسیر )
 یہ حقیقت ہے کہ شادی کے باب میں مختلف رسم و رواج نے بیٹی جیسی خوبصورت نعمت کو بظاہر ماں باپ کے لئے زحمت بنا دیا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کے الگ الگ علاقوں میں الگ الگ رسم ورواج ہیں جن کی وجہ سے لڑکی کے والدین کو ایک سخت امتحان سے گزرنا ہوتا ہے۔ راقم الحروف جس علاقے میں رہتا ہے اور جس برادری سے تعلق رکھتا ہے شادی کے تعلق سے وہاں کے رسم و رواج کو جان کر ایک منصف مزاج تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اسلامی تعلیمات سے ان رسم و رواج کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سب سے پہلے غیر رسمی طور پر لڑکی کو دیکھنے کے لئے مردو خواتین کی دو تین جماعتیں وقفے وقفے سے لڑکی کے گھر جاتی ہیں اور اس میں مرد حضرات بھی غیر محرم لڑکی کو بہ شوق دیکھتے ہیں اور ہر دورے پر لذیذ پکوان کا مزہ بھی لیتے ہیں ؛ کیونکہ بصورت دیگر پہلے ہی مرحلے میں معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب بات بن جاتی ہے تو باقاعدہ رسمی طور پر مرد و عورت کی ایک بڑی جماعت (پچیس پچاس) `’رونمائی‘کے عنوان سے لڑکی کے گھر جاتی ہے اور پر تکلف دعوت کو اپنا حق سمجھتی ہے۔ اس مرحلے میں بھی محرم و غیر محرم کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کے گھر شادی کی تاریخ لینے کے لئے مٹھائی پہنچانے کا اہتمام ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ افراد دعوت کے مزے اڑاتے ہیں ۔ چوتھے مرحلے میں شادی کا پروگرام ہوتا ہے جس میں باراتیوں کی ایک بڑی تعداد کا بوجھ لڑکی کے والدین پر ڈالا جاتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ شادی کے بعد لڑکا اپنے سسرال میں نو دن ٹھہرتا ہے جس کو ’نو روزی‘ سے موسوم کرتے ہیں ۔ ان دنوں میں الگ الگ پکوان لڑکے کیلئے ضروری سمجھ کر پروسےجاتے ہیں ؛ کیونکہ بصورت دیگر لڑکی کو سسرال میں طعنہ زنی کے تیر سہنے پڑتے ہیں۔ 
 مندرجہ بالا شادی کے اخراجات لڑکی کے والدین کو جوبرداشت کرنے ہوتے ہیں وہ ان اخراجات کے علاوہ ہیں جن کا بوجھ جہیز کی شکل میں سہنا پڑتاہے۔ جہیز کے باب میں جو افراط کا بازار گرم ہے، اس کی تفصیل سے روح کانپ جاتی ہے۔ لڑکے والوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ لڑکی والے ان کے مطالبات کہاں سے پورے کریں گے اور لڑکی والے بیچارے اپنی بیٹی کے مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے اور اس کو لعن طعن سے بچانے کے لئے مطلوبہ جہیز کے انتظام میں کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
 قابل فکر بات یہ ہے کہ یہ افراط و تفریط اور کشمکش کی کیفیت اس بیٹی کے تعلق سے معاشرہ میں پائی جاتی ہے، جس کے تعلق سے رحمۃ للعالمین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات گرامی ہیں : ’’ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی بہتر پرورش کرے، اور انہیں اپنی حیثیت کے مطابق پہنائے، تو یہ لڑکیاں اس کے لئے آگ سے حجاب ہوں گی۔‘‘ (ابن ماجہ) ایک موقع پر فرمایا: جس شخص کے تین بیٹیاں ہوں ، جن کے رہنے سہنے کا وہ انتظام کرتا ہو اور اُن کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہو اور اُن سے شفقت کا برتاؤ کرتا ہو تو یقیناً اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ ایک شخص نے پوچھا: اگر دو ہی (بیٹیاں ) ہوں تو؟ آپؐ نے فرمایا: خواہ دو ہی ہوں (ان سے حسنِ سلوک پر بھی یہی خوش خبری ہے)۔ (ادب المفرد)
 یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ بیٹیاں جو شادی سے پہلے باعث رحمت و برکت ہیں ، ان کی خصوصیات اور فضیلت شادی کے بعد ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی ان خصوصیات کے ساتھ نئے گھر میں منتقل ہوجاتی ہیں ۔ اب نئے گھر والوں پر ہے کہ ان کی خصوصیات سے وہ کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں ! یقینا اگر ہم صرف اسی نکتے پر غور کرلیں اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کو استوار کر لیں تو ہماری بیٹیوں کا سب سے بنیادی اور اہم مسئلہ بآسانی حل ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK