مرکزی حکومت نے پہلے ہر موبائل فون میں ایپ انسٹال کرنے کا نوٹیفکیشن دیا اور پھر ہنگامہ ہونے پر واپس بھی لے لیا ، اس سے سرکار کی منشاء پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
مودی سرکار نے فی الحال اس فیصلے کو واپس لے لیا ہے، اس کا ایک اہم فیکٹر’ ایپل‘ جیسی کمپنی کے ذریعے اس ایپ کو انسٹال کرنے سے انکار کردینا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این
’سنچار ساتھی‘ پر بحث، محض ایک حکومتی اسکیم کا تجزیہ نہیں بلکہ اس وقت پورے معاشرتی ڈھانچے اور شہری آزادیوں کی حفاظت یا زوال کا سوال ہے۔ جب حکومت نے دعویٰ کیاکہ وہ جعلی سم کارڈس کی جانچ، رجسٹریشن میں شفافیت لانے اور آن لائن فریب دہی سے بچانے کے لئے ایک ایپ متعارف کروارہی ہے، تو بظاہر یہ سوچ قابلِ تعریف تھی۔ عوامی فلاح، آن لائن فراڈ سے بچاؤ، شہری شناخت کی تصدیق سب ایسے مقاصد ہیں جن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ نظام براہِ راست ڈیٹا کے ذخیرے اور نگرانی کے امکانات سے جُڑا ہوا ہے، اس لئے اس پر شبہ کو رد کرنا بھی آسان نہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں نے جس طرح اس معاملے کو اٹھایا اور اس کے تئیں سنگین خدشات کا اظہار کیا، اس سے حکومت کو اسے واپس لینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ حالانکہ اِس حکومت میں اس طرح سے کوئی فیصلہ واپس لیا نہیں جاتا ہے لیکن مذکورہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ۔ ممکن تھا کہ اگر حکومت ہٹ دھرمی مظاہرہ کرتی تو سنچار ساتھی ایپ کی مزید کئی خامیاں اپوزیشن پارٹیاں گنوا دیتیں۔ ویسے مودی حکومت نے اسے واپس لے کر درست فیصلہ ہی کیا ہے۔ اس سے حکومت کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ اسے واپس لینے میں ہماری نظر میں ایک اہم فیکٹر’ ایپل‘ جیسی کمپنی کے ذریعے اس ایپ کو انسٹال کرنے سے انکار کردینے کا بھی رہا ہے ۔ اس وقت صرف ایک کمپنی نے انکار کیا تھا ، اگر دیگر موبائل فون مینو فیکچررس بھی انکار کردیتے تو حکومت کی بڑی سبکی ہوتی ۔ اسی لئے اس نے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے میں ہی عافیت جانی ۔
دراصل، ’سنچار ساتھی‘ نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ عوام کی فلاح کا آلہ ہے یا ریاستی کنٹرول کا نیا ہتھیار؟ عوامی بیانیہ یہ تھا کہ ایک عام شہری جان سکے گا کہ اس کے نام پر کتنے موبائل نمبر جاری کئے گئے ہیں ، اگر کوئی جعلی یا غیر قانونی نمبر ہو تو اس سے خود کو محفوظ رکھے اور اگر اسے ڈیجیٹل اریسٹ یا گرفتاری جیسے کسی فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس صورت میں وہ کیا کرے ۔ یہ دعویٰ بہت دلکش ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لئےجنہیں بینک فراڈ، سوشل میڈیا فراڈیا جعلی واقعات سے خوف ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقصود صرف اعتماد بحال کرنا تھا تو پہلے سے موجود نظام کیوں ناکافی ثابت ہوئے؟ کیا سابقہ ’کے وائی سی ‘طریقہ کار اتنا ناکام تھا کہ پورا نیا انفراسٹرکچر تیار کرنا پڑا؟ حکومت اور اس کی ایجنسیاں آخر ڈیجیٹل اریسٹ کیوں نہیں روک پا رہی ہیں؟ اگر حکومت واقعی ناکام ہو رہی ہے تو یہ ذمہ داری کس کی تھی؟
جب حکومت نے شہریوں کے نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبروں، سم کارڈس، ڈیوائس آئی ڈی اور نیٹ ورک کے استعمال کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا شروع کیا تو اس ڈیٹا بیس کی طاقت اس وقت جانی جا سکتی ہے جب فیصلہ ہو کہ اسے کب اور کیسے استعمال کرنا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب اپوزیشن کا شبہ معقولیت اختیار کرتا ہے۔جب حکومتیں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور نگرانی کے آلات بناتی ہیں تو کبھی کبھار وہ یہ دلیل دیتی ہیں کہ یہ سب عوام کی حفاظت کے لئے ہے۔ مگر حالیہ واقعات نےیہ ثابت کیا ہے کہ ابتدا میں حفاظت کا دعویٰ کرنے والے نظام، رفتہ رفتہ تشویش اور نگرانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ عوامی آزادی کی قیمت پر ’سیکوریٹی‘ کی آڑ میں جب ڈیٹا کو رجسٹر اور ذخیرہ کرلیا جائے تو وہ ڈیٹا کسی بھی وقت شہریوں کی پرائیویسی پر قبضے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا نظام جہاں حکومت کے پاس ہر شہری کا موبائل ریکارڈ، ڈیوائس ڈیٹا، نیٹ ورک ٹاورس کا لاگ اور استعمال کی تفصیلات ہوں، دراصل شہریوں کو مسلسل نگرانی کی زد میں لاتا ہے۔
یہ کہنا کہ ’سنچار ساتھی‘ براہِ راست یہ کام نہیں کرتا، ایک تکنیکی جواز ہوسکتا ہے مگر اصل بات یہی ہے کہ سنچار ساتھی اس نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ اگر یہ وسائل مستقبل میں غلط ہاتھوں میںپڑ جائیں تو یہ ایپ عوام کی حفاظت کے بجائے ریاستی نگرانی کا پلیٹ فارم بن جائے گی۔ یہ تشویش محض سیاسی مبالغہ نہیں بلکہ ایک حقیقی خوف ہے جس کی جڑیںڈیجیٹل امکانات میں ہیں۔حکومت کا یہ مؤقف کہ یہ ایپ صرف ڈیجیٹل اریسٹ اورفرضی یا جعلی نمبروں کی روک تھام کے لئے ہے اور اس کا دائرہ محدود ہے، بظاہر ٹھوس لگتا ہے۔ مگر عوامی بھروسہ اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب ایپ کی شفافیت، آزاد نگرانی اور جوابدہی یقینی ہو۔ افسوس کہ مختلف ممالک کی مثالوں نے یہ دکھایا ہے کہ جب ڈیٹا کو کنٹرول کرنے والے ادارے خود بے ضابطہ ہوں یا ان پر کسی قسم کی نگرانی یا جوابدہی نہ ہو تو اس کا غلط استعمال بہت آسان ہو جاتا ہے۔ یہی خطرہ ’سنچار ساتھی‘ سے بھی وابستہ ہے۔
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد صرف قانون یا اسکیم سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ شفافیت، جوابدہی اور شہری حقوق کی پاسداری سے ہوتا ہے۔ اگر ایک اسکیم کو عوامی بھلائی کے نام پر لایا جائے مگر اس کے استعمال کے طریقے، ڈیٹا کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری پر کوئی آزاد ادارہ موجود نہ ہو تو عوامی بھروسہ کمزور پڑجاتا ہے اور جب عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے توایسے اقدامات جن کے وعدے خواہ کتنے ہی شاندار ہوں، بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔عالمی سطح پر بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ ڈیجیٹل نگرانی کا جال ایک مرتبہ بچھ گیا تو پھر اسے ختم کرنے میں یا بے اثرکرنے میں اس سے زیادہ وقت اور جدوجہد لگے گی۔ ایسے نظام جو ابتدا میں صرف فراڈ روکنے کے لئے بنائے گئے تھے، بعد میں مخالفین، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کی آزادی پر حملوں کے آلے بن گئے۔ ہمارے ہاں تو یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جب سیاسی تنقید کو مخالفت قرار دیا جاتا ہے اور سوال اٹھانے کو غیرملکی سازش ٹھہرانے کی روایت ہے۔ ’سنچار ساتھی‘ کی نوعیت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس کے تحت حکومت کے پاس ڈیٹا جمع کرنے کا اختیار ہےمگر یہ اختیار کب اور کیسے استعمال ہوگا اس کا انحصار نظام کی شفافیت اور آزاد نگرانی پر ہے۔ اگر یہ ضابطے موجود نہیں ہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ حکومت خود کتنے سچے وعدے کررہی ہو۔
شاید حکومت کا ارادہ واقعی عوام کی فلاح تھا۔ مگر نیت اور عمل کے درمیان جو خلیج ہےاسی نے عوام اور اپوزیشن پارٹیوں کے دلوں میں شبہ کا بیج بودیا۔ اگر ’سنچار ساتھی‘ کو صرف ایک مفید ٹول بنانا تھا تو پارلیمنٹ، عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس کے ہر پہلو کی جانچ کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کی جگہ محض ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے حقیقی تشویش کو سیاسی بیانیہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس ایپ کی کہانی شاید آج ختم نہ ہو گی۔ آئندہ برسوں میں ڈیجیٹل شناخت، مالی لین دین اور ڈیٹا پر کنٹرول کی بحث مزید گہری ہو گی۔ ایسے میں اگر ہم نے ابھی سے سوال نہ اٹھایا، اگر ہم نے ابھی سے آزادی اور شفافیت کے اصولوں کو مضبوط نہ کیا، تو مستقبل میں شہری صرف ڈیٹا کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ جائیں گے۔