فکر تونسوی کی یاد میں

Updated: October 24, 2022, 1:15 PM IST | Shakeel Ayjaz | Akola

رستم(نام تبدیل) کی عادت ہے کہ جہاں کسی بڑے ادیب نے ان سے حُسن سلوک کیا، شکریہ ادا کرنے اس کے شہر پہنچ جاتے ہیں۔

Fikar Tunsvi .Picture:INN
فکر تونسوی ۔ تصویر:آئی این این

رستم(نام تبدیل) کی عادت ہے کہ جہاں کسی بڑے ادیب نے ان سے حُسن سلوک کیا، شکریہ ادا کرنے اس کے شہر پہنچ جاتے ہیں۔ یوسف ناظم صاحب نے ان کی کتاب پر مقدمہ لکھا تو رستم شکریہ ادا کرنے کیلئے بے چین ہوگئے اور جب پتہ چلا کہ مالیگاؤں کے ایک مشاعرے میں آرہے ہیں تو راتوں رات وہاں پہنچ گئے۔ پروگرام شروع ہو چکا تھا اس لئے ختم ہونے کا انتظار کیا اور رات کے ڈھائی بجے شکریہ ادا کیا۔ جب یہ کہا کہ مَیں آپ کا شکریہ ادا کرنے یہاں آیا ہوں تو ناظم صاحب نے سوچا ہوگا لوگ خواہ مخواہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی رات کو ایک فوٹو گرافر سے کہ عجلت میں تھا اور اس ادبی پروگرام سے گھبرا کر گوشہء عافیت کی تلاش میں تھا، فوٹو کیلئے اصرار کیا گیا۔ اس نے اتنی عجلت میں تصویر اتاری کہ نہ ناظم صاحب کو سر میں کنگھا کرنے دیا نہ رستم کو مسکرانے دیا۔ اس رات اتفاق سے محبوب راہی صاحب چوکڑی ڈیزائن والے کپڑے کی پتلون اور شرٹ پہنے ہوئے تھے اور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ اس طرح کے کپڑے کہاں پہنا ئے جاتے ہیں۔ تصویر دیکھ کر ہر شخص پوچھتا تھا کہ یہ تینوں کس جرم میں پکڑے گئے تھے یا کہاں سے بھاگے ہوئےہیں۔ اس کے چند برس بعد فکر تونسوی نے رستم کی کتاب پر اپنے تاثرات روانہ کئے۔ خط لے کر غریب خانہ پر تشریف لائے۔ مجھے اسی وقت شک ہو گیا تھا کہ عنقریب دہلی کا سفر ہونے کو ہے کسی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی۔ اس دوران فیاض افسوس صاحب کی کتاب’’کفِ افسوس‘‘ پر رستم کی درخواست پر فکر تونسوی صاحب نے تبصرہ عنایت کر دیا۔ اب تو رستم کا جوشِ شکریہ اُبل ہی پڑا۔ رستم کو اپنے کسی مہربان ادیب کا شکریہ ادا کرنا ہو لیکن خرابی ٔ صحت کے سبب اکیلے سفر نہ کر سکیں تو مزید ایک شخص کا بار بھی اٹھا لیتے ہیں۔ اس بار وہ دہلی کے ایڈوانس ٹکٹ لے کر میرے پاس آئے تھے۔ مَیں اوپری دل سے کہتا بھی رہا کہ موڈ نہیں ہے مگر وہ کب ماننے والے تھے۔ ان کی عادت سے واقف ہوں۔
  گزشتہ برس جب انہوں نے اپنی کتاب تبصرے کیلئے مشتاق احمد یوسفی کو لندن بھیجی تو مَیں نے ان کو معلوم کئےبغیر نہ صرف یہ کہ ایک اچھا سوٹ سلوالیا تھا بلکہ چپکے چپکے انگریزی میں گفتگو بھی سیکھنے لگا تھا کہ ممکن ہے وہاں خوب صورت لڑکیوں کو اردو نہ آتی ہو۔ لیکن میری کم نصیبی اور رستم کے بیوی بچوں کی خوش قسمتی کہ اُدھر سے کوئی احسان ہی نہیں ہوا جس کا شکریہ ادا کیا جاتا۔ بہرحال ہم دونوں دہلی فکر صاحب کے مکان پہنچے۔ یہ فکر صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی اس لئے زیادہ تر وہ دونوں ہی باتیں کرتے رہے۔ مَیں بیچ بیچ میں چھوٹے چھوٹے جملے بولتا رہا۔ وہاں رستم پتہ نہیں کن خیالوں میں گم تھے۔ دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ فکر صاحب نے کچھ کہا اور یہ سن نہ سکے۔ انھیں بعض جملوں کو دہرانا پڑتا تھا۔مَیں نے کہا خوب ایجادات ہو رہی ہیں لیکن پرانے اور خراب کان نکال کر نئے کان لگانے کا انتظام نہیں ہوا۔ فکر صاحب بولے مَیں بھی اسی انتظار میں ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ تم ان کے کان بدلواوگے، مَیں اپنی بیوی کی زبان تبدیل کرواونگا۔ عرض کیا ایسا نہیں ہے کہ رستم کانوں کی طرف سے لا پرواہ ہیں۔ ایک ڈاکٹر سے رجوع ہوئے تھے اس کی دوا کے مسلسل استعمال سے یہ فائدہ ہوا کہ کسی کے بولنے سے پہلے ہی سن لیا کرتے تھے چنانچہ گھر والوں نے دوا غائب کردی۔ رستم مسکراےء، مصنوعی غصہ سے میری طرف دیکھنے لگے تو فکر صاحب نے مجھ سے کہا تم کو رستم کے غصہ سے ڈر نہیں لگتا؟ عرض کیا ان کو اسی پر غصہ آتا ہے جس پر اتار سکتے ہیں۔ فکر صاحب بولے اس حساب سے تو تم پر آنا چاہئے، تم بہت کمزور اور منہ زور ہو۔ مَیں نے کہا کم از کم اس وقت غصہ نہیں اتار سکتے، ان کی واپسی کا ٹکٹ میری تحویل میں ہے۔ فکر صاحب مسکراےء اور ان کے پنجابی لہجہ میں بولے’’اریت تیرکی (ارے تیرے کی)، بہت چلاک ہو (بہت چالاک ہو)۔‘‘اس دوران ایک صاحب اپنے تین چار برس کے بچے کے ساتھ تشریف لائے۔ فکر صاحب انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔کہا آنے کی اطلاع کیوں نہیں دی؟ مَیں کسی کو اسٹیشن بھیجتا۔ وہ بولے ہاں مَیں آپ کو سرپرایز دینا چاہتا تھا۔ یہ سننا تھا کہ بچہ ان کے پیروں سے لپٹ گیا کہ مجھے بھی سرپرایز دیجئے۔ بیٹے سرپرایز اس طرح دینے کی چیز نہیں ہوتی۔ ابھی تو آپ نے انکل کو دی چپکے سے۔ تم بتاؤ تو کہ یہ ہے سرپرایز، پھر تمہیں دیتے ہیں۔بچہ لا جواب ہوگیا تھا ۔وہ رونے لگا۔ ساری بات چیت دھری رہ گئی۔ آخرکار فکر صاحب اندر گئے اور فریج سے ایک رنگین مٹھائی کا ٹکڑا اسے دیتے ہوئے بولے’’روتے نہیں، یہ لو سرپرایز‘‘پھر جتنی دیر ہم لوگ وہاں بیٹھے رہے وہ اطمینان سے سرپرایز کھاتا رہا۔
 ہم جیسے نئے لکھنے والوں سے بھی وہ اس طرح ملے جیسے برابری والوں سے ملتے ہیں۔ ہم واپسی کیلئے اٹھے تو باہر سڑک پر بھی ساتھ چلنے لگے ہم نے کہا شرمندہ نہ کیجئے پوچھا شرمندہ ہو رہے ہو؟ عرض کیا ہاں۔ بولے تھوڑا اور شرمندہ کرتا ہوں۔ چند قدم چل کر رک گئے کہا بس، پہلی ملاقات میں اتنی شرمندگی کافی ہے۔
 جنوری ۱۹۸۴ء میں اپنے طویل خط میں انہوں نے مجھے لکھا ’’مَیں نے پاکستان جانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ضیاء الحق نے ایک بار پھر بیان دے دیا کہ ہم انڈوپاک تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں چنانچہ بیان پڑھ کر مَیں نے ارادہ ملتوی کردیا۔ گھر سے بہت کم نکلتا ہوں بلکہ نکلتا بھی کہاں ہوں کانگریس کی طرح عوام سے ناطہ ٹوٹ گیا ہے۔‘‘
 دوسری دفعہ ان سے مارچ ۱۹۸۴ء میں ملاقات ہوئی۔ دہلی اردو اکادمی نے سہ روزہ جشنِ بہاراں کا اہتمام کیا تھا۔ کانفرنس سے قبل فکر صاحب سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔ اس وقت تک خط و کتابت کے ذریعے بے تکلفی کی فضا پیدا ہو چکی تھی۔ جاتے ہی پہچان لیا بولے تھکے ہوئے لگتے ہو۔ مَیں نے کہا سفر کی وجہ سے۔ کہنے لگے ہاں، وہ بھی ٹکٹ دے کر کیا ہوا۔ ان کے پیر پر پلاسٹر بندھا ہوا تھا پھر بھی ہمیشہ کی طرح ہنستے ہنساتے رہے۔ کہنے لگے مجتبیٰ کا فون آیا تھا وہاں آنے کیلئےبہت اصرار کیا ہے لیکن مَیں تو مجبور ہوں۔ ویسے بھی کاغذ قلم کا آدمی ہوں کانفرنس کا نہیں۔ مجتبیٰ دھوم دھام کا آدمی ہے پڑھتا بھی اچھا ہے۔پروگرام کے بعد مَیں ان سے ملنے گیا ۔ تو انہوں نے کہا ابھی نریندر لوتھر بھی آ ئے تھے۔ بہت اداس تھے۔ اپنی کتاب دے گئے کہہ رہے تھے کہ سامعین بہت کم تھے حالانکہ شریف الحسن نقوی نے اردو کے اخبار میں بڑے بڑے اشتہار دئے تھے۔ انہیں انگریزی کے اخبار میں بھی اشتہار دینا چاہئے تھا۔ آج کل اردو کا دولت مند قاری بھی اردو نہیں، انگریزی اخبار پڑھتا ہے۔ مَیں نے فکر صاحب سے جب کہا دوپہر میں کھانے کا انتظام بہت اچھا تھا تو مسکرا کر بولے اردو اخبارات میں صرف یہی اعلان کردیتے کہ دوپہر میں کھانے کا انتظام ہے تو اتنے لوگ آجاتے کہ خود شریف الحسن نقوی کو باہر کھڑے رہنا پڑتا۔ ۱۹۸۷ء میں ہم لوگ دہلی گئے تھے۔ اس وقت فساد ہو رہے تھے۔ فکر صاحب بھی ان خبروں سے رنجیدہ تھے۔ اس دن انہوں نے پہلا جملہ یہی کہا کہ اتنے خراب ماحول میں دو مسلمان ایک ہندو کے ہاں کیسے آگئے؟ہم نے کہا اس ماحول میں اس سے بہتر پناہ گاہ اور کیا ہو سکتی ہے؟ سن کر خوش ہو گئے۔ اس دن نہ صرف میرٹھ اور دہلی کا بلکہ فکر صاحب کے گھر کا ماحول بھی غمگین تھا۔ کہہ رہے تھے مَیں ہمیشہ فرقہ واریت کے خلاف لکھتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ۴۰؍ سال پہلے جو ماحول تھا وہی آج بھی ہے۔ تحریریں چَھپی دیکھ کر خوش ہوتا رہا کہ لوگ پڑھ رہے ہیں۔ اس دن وہ دروازہ تک بھی نہ آسکے، صوفہ ہی پر بیٹھے بیٹھے خدا حافظ کہہ دیا۔ ’’خداحافظ‘‘۔ جیسے وہ ہار گئے تھے۔ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ دنیا نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب انسان انسان کی حفاظت کرنا نہیں چاہتا۔ اب خدا ہی حفاظت کرنے والا ہے۔یہ ان سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔اسی سال ستمبر میں ان کے انتقال کی خبر آئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK