Inquilab Logo Happiest Places to Work

چودہویں تراویح میں قصہ موسیٰؑ و خضرؑ کی ملاقات اور اخلاقی نصائح کو سنا جاسکے گا: قسط نمبر(۱۴)

Updated: April 05, 2023, 10:37 AM IST | Maulana Nadeem-ul-Wajidi | Mumbai

وحِ قرآں۔پارہ:(۱۵) پندرہویں پارہ کی ابتداء سورۂ الاسراء  سے ہوتی ہے۔ اس کے اکثر مضامین توحید ورسالت اور معاد وغیرہ سے متعلق ہیں۔

Prophet Muhammad said: Prayer is light for the master of prayer.
آپﷺ نے فرمایا: نماز، صاحب نماز کیلئے نور ہے۔

پندرہویں پارہ کی ابتداء سورۂ الاسراء  سے ہوتی ہے۔ اس کے اکثر مضامین توحید ورسالت اور معاد وغیرہ سے متعلق ہیں۔ واقعہ ٔ  اسراء و معراج سے یہ سورہ شروع ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی جلالت ِ شان کا اظہار بھی مقصود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات بھی، ضمناً حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہما السلام کا ذکر بھی ہے جن کے ذکر سے منصب ِ رسالت کی تقویت اور تائید مقصود ہے، فرمایا: پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس (مسجد اقصیٰ) کے آس پاس ہم نے برکتیں عطا کررکھی ہیں تاکہ ہم ان کو اپنی نشانیاں (عجائبات قدرت) دکھلائیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ  کا ذکر ہے کہ ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز مت بنانا اور تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ  کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوحؑ  ایک شکر گزار بندے تھے۔
 اس کے بعد بنی اسرائیل پر انعامات کا اور ان کی احسان فراموشی کا ذکر ہے۔ یہود سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم فرمائے، لیکن اگر تم نے پہلی جیسی روش اختیار کی تو ہم بھی سزا کے پرانے طریقے کی طرف لوٹ جائیں گے اور ہم نے کافروں کیلئے جہنم کا قید خانہ بنا رکھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن سیدھی راہ دکھلاتا ہے اور جو اہل ایمان عمل صالح کرتے ہیں  انہیں بڑے اجر کی خوش خبری دیتا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کیلئے  درد ناک عذاب مہیا کررکھا ہے۔ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ کے کچھ انعامات کا ذکر ہے کہ ہم نے رات اور دن کی دو نشانیاں بنائی ہیں، ہم رات کی نشانی مٹا کر دن کی نشانی کو روشن کرتے ہیں تاکہ تم اپنے رب کی روزی تلاش کرسکو۔ 
چند آیات کے بعد کچھ خاص احکام کے ساتھ بندوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ کے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف بھی مت کرنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان کے ساتھ دائرۂ ادب میں رہ کر گفتگو کرنا اور ان کیلئے انکساری اور نرم دلی کے ساتھ جُھکے رہنا اور یہ دعا کرنا اے اللہ ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔ اور رشتہ داروں کو ان کا حق دیتے رہو، اور مسکین و مسافر کو بھی ان کا حق دو، اور فضول خرچی مت کرو، فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔  اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے اور اگر آپ کو ان لوگوں سے پہلو تہی کرنی پڑے جو اپنے پروردگار کی رحمت کے بھروسے پر رزق کی آس لگائے بیٹھے تھے تو ان سے نرم بات کرنا (یعنی اگر امید رکھنے والوں کو کچھ دے نہ سکو تو ان سے نرم بات ضرور کرو) نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کچھ خرچ ہی نہ کرو) اور نہ بالکل ہی کھلا چھوڑ دو (جو کچھ ہے سب خرچ کر ڈالو) اور رنج وحسرت میں تہی دست ہوکر بیٹھ رہو، بلاشبہ آپ کا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر بھی ہے ۔اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم انہیں بھی رزق دینگے اورتمہیں بھی۔ زنا کے قریب بھی مت جاؤوہ برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ہے اور کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہو قتل مت کرو۔  جو شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق دیا ہے۔ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اچھے (جائز) طریقے پر تاوقتیکہ وہ بالغ نہ ہوجائیں (پھر ان کا مال ان کے سپرد کردو) عہد کی پابندی کرو، بلاشبہ عہد کے سلسلے میں تمہیں جواب دہی کرنی ہوگی، ناپو تو پورا ناپو اور ٹھیک ترازو سے وزن کرو۔کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو (خواہ مخواہ تجسس میں نہ پڑو) تم سے کان، آنکھ، دل سب ہی کے متعلق پوچھا جائے گا، زمین میں اکڑ کر مت چلو، نہ تم زمین کو (قدموں سے) پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ ان میں سے ہر ایک کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
 ان لازوال اخلاقی تعلیمات کے بعد فرمایا کہ ہم نے قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ نصیحت پکڑ لیں (مگر اب ان کا حال یہ ہے کہ) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم ان کے اور آپ کے مابین ایک پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید کے متعلق مشرکین مکہ کے روّیے کا ذکر ہورہا ہے کہ چھپ چھپ کر قرآن سنتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ شخص ہے۔ مشرکین کو بعث بعد الموت پر اعتراض تھا، آگے اس کا مفصل ذکر ہے کہ وہ عنقریب دیکھ لیں گے کہ جب ہم تمام انسانوں کو ان کے نامۂ اعمال سمیت بلائینگے، جس کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنا نامۂ اعمال پڑھے گا اور اس پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا (یعنی اس نے چشم بصیرت سے ہماری نشانیوں کو نہیں دیکھا اور ایمان نہیں لایا) وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ اندھے سے بھی زیادہ گم کردۂ راہ ہوگا۔ آگے کفار کی اسلام دشمنی کا ذکر ہے۔ ایسے حالات میں نبیؐ کریم کو کیا کرنا چاہئے، فرمایا کہ آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک نماز ادا کیا کیجئے، اور صبح کی نماز کا اہتمام کیجئے، بلاشبہ صبح کی نماز حاضر ہونے کا وقت ہے اور رات کے کسی بھی حصے میں نماز تہجد پڑھا کیجئے یہ آپ کیلئے اضافہ ہے، عجب نہیں کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے، اور آپ یہ دعا کریں کہ اے اللہ مجھے جہاں بھی لے جائیں خوبی کے ساتھ لے جائیں اور جہاں سے نکالیں خوبی کے ساتھ نکالیں۔ 
اس سورہ کے آخری سے پہلے والے رکوع میں ایک سوال و جواب ہے، فرمایا: یہ لوگ آپ سے روح کی بابت پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ قرآن کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اگر تمام جن وانس مل کر بھی اس جیسا قرآن لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے خواہ وہ ایکدوسرے کے مدد گار کیوں نہ ہوں۔
سورہ الاسراء کے بعد سورۂ کہف کا آغاز ہوا، اس میں کفار کے ذریعے پوچھے گئے تین سوالوں میں سے دو کا جواب مذکور ہے، ایک کا جواب پچھلی سورہ میں آچکا ہے،تینوں سوالوں کے جواب میں کفر واسلام کے مابین کشمکش پوری طرح عیاں ہے۔ سورہ کہف میں تین اہم قصے بیان کئے گئے ہیں، پہلا قصہ اصحاب کہف کا ہے، ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار اور پہاڑ والے ہماری کوئی بہت بڑی نشانیوں میں سے تھے، جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہم کو اپنی خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے احوال درست فرمادے، تب ہم نے انہیں (اسی) غار میں گہری نیند سلا دیا پھر ہم نے ان کو (نیند سے) اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ ان کے دو گروہوں میں سے مدت قیام سے کون زیادہ واقف ہے۔ اگر آپ انہیں غار میں دیکھتے تو یوں نظر آتا کہ جب سورج نکلتاہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب چھپتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب نکل جاتا ہے اور وہ غار کے ایک کشادہ حصے میں پڑے ہوئے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، آگے فرمایا: تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے ہو کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دیتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے منہ پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہوا تھا، اگر آپ انہیں جھانک کر دیکھ لیتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور ان کا خوف طاری ہوجاتا  اور اسی طرح (جس طرح سلایا تھا) انہیں جگایا تاکہ وہ آپس میں سوال جواب کریں، ان میں سے ایک نے پوچھا تم کتنی دیر (اس غار میں) ٹھہرے،  (باقی نوجوانوں نے) کہا کہ ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت، کہنے لگے کہ تمہارا رب ہی جانتا ہے تم کتنے وقت (غار) میں رہے،  اب اپنے میں سے کسی کو یہ پیسے لے کر شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ  تمہارے لئے کھانے کا سامان لے کر آئے اور نرمی سے کام لے اور کسی کو کانوں کان تمہاری خبر نہ ہو، اس لئے کہ اگر کہیں وہ ہم پرغالب آگئے یا تو وہ ہمیں سنگسار کردینگے یا اپنے مذہب میں لوٹنے پر مجبور کردیں گے ،اگر ایسا ہوا تو تم کبھی فلاح نہ پاسکو گے۔
 اس طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال پر مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر اصحاب کہف کی تعداد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ کہہ دیجئے کہ آپ کا رب ان کی تعداد زیادہ بہتر جانتا ہے۔ آپ اس معاملہ میں ان سے زیادہ حجت نہ کیجئے اور نہ اس کے متعلق کسی سے کچھ پوچھئے (بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا) آپ کبھی کسی کام کے بارے میں یہ نہ کہا کیجئے کہ میں اسے کل کرونگا مگر یہ کہ اللہ چاہے (یعنی اِن شاء اللہ کہا کیجئے) اوراگر اِن شاء اللہ کہنا بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کیجئے اور کہئے کہ شاید میرا رب اس سے بھی قریب تر بات پر میری رہ نمائی کرے گا۔
 اور (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو نو سال رہے، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتے ہیں، آگے دنیا کی بے ثباتی کو دو مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا اور بتلایا گیا کہ وہ دن آنے والا ہے جب ہم پہاڑوں کو چلائینگے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ ایک چٹیل میدان پڑا ہوا ہے ، پارے کے آخر میںحضرت موسیٰ ؑ کے سفر  کاایک واقعہ ہے، راستے میں ان کی ملاقات ایک بزرگ (حضرت خضر ؑ) سے ہوتی ہے، حضرت موسیٰ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس میں سے کچھ سکھلادیں جو مفید علم آپ کوسکھلایا گیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے، حضرت موسیٰؑ  نے صبر کا اور اطاعت کا وعدہ کیا، حضرت خضرؑ نے اس شرط پر ساتھ رہنے کی اجازت دے دی کہ جب تک میں کسی معاملے میں خود کچھ نہ کہوں آپ مجھ سے کوئی سوال نہ کرینگے۔ دونوں چلے، ایک کشتی میں سوار ہوئے، حضرت خضرؑ نے اس کشتی میں سوراخ کردیا، حضرت موسیٰؑ   نے پوچھا کیا آپ نے اس لئے کشتی میں سوراخ کیا ہے کہ کشتی والوں کو غرق کردیں؟ یہ تو بڑا غلط کام کیا ہے آپ نے، فرمایا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے، حضرت موسیٰؑ   نے عرض کیا میری فروگزاشت پر مواخذہ نہ فرمائیں۔ پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا، خضر ؑ نے اسے قتل کردیا،  حضرت موسیٰؑ   بولے آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی ہے، یہ تو بہت ہی غلط کیا آپ نے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK