ہمارا تصور ِاخلاق گاڈ گیوَن ہے، ہمارے اصولِ اخلاق میں نہ اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ وہ کم ہو سکتے ہیں۔ یہ خصوصیت کسی بھی روایت کا حصہ نہیں رہی، ہماری یہ بڑی محرومی ہو گی اگر ہم اخلاق بھی دوسروں سے اخذ کریں۔
مذہب اسلام نے اپنے پیروکاروں کیلئے اچھے اخلاق کو لازم کیا ہےکہ اعلیٰ اخلاق ہی سے دل جیتے جاسکتے ہیں اور خلق خدا تک پیغام حق پہنچایا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں۔‘‘ (سورہ القلم:۴) اللہ کے اخلاق اختیار کرو۔ اسلام کے تصور اخلاق اور عصر حاضر کے اخلاقی ماڈل اور امتیاز و اثرات کے سمجھنے کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو پروفیسر قرار حسین صاحب فرماتے ہیں’’ غیر شعوری طور پر غالب تہذیب کے اثرات مغلوب تہذیب پر لازما ًپڑتے ہیں۔‘‘ چونکہ مختلف تہذیبوں کے فاصلے کم ہوتے جا رہے ہیں، طرح طرح کے نظریات کا سامنا ہے، جن کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے مرعوب ذہن کی معاشرت ان کے اثرات کو جذب کرنے لگتی ہے اور یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرت چوہوں کی طرح نہ ہو جائے جو کسی کی بھی بوری دیکھ کر اس سے گندم چرا لیتے ہیں۔ ہماری یہ بڑی محرومی ہو گی اگر ہم اخلاق بھی دوسروں سے اخذ کریں۔ حالانکہ فلسفۂ اخلاق کی تاریخ میں دنیا کی سب سے بڑی سائنس آف ایتھکس کے ہم وارث ہیں، ہمارا تصور ِاخلاق گاڈ گیوَن ہے، ہمارے اصولِ اخلاق میں نہ اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ وہ کم ہو سکتے ہیں۔ یہ خصوصیت کسی بھی روایت کا حصہ نہیں رہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک مقصد اخلاق کی تکمیل تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں کامل ہو کر جمع ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں۔‘‘
عصر حاضر کے اخلاقی ماڈل کے امتیازات سے غیر متعلق رہ کر ہم اپنا اخلاقی بیانیہ علمی سطح پر تشکیل نہیں دے سکتے اس لئے کہ موجودہ سیاق و سباق میں ہر علم کی ضرورت ہے، عصر حاضر کے اخلاقی سیاق و سباق کو رد و قبول کرنا ہمارے بیانیے میں دکھائی دینا چاہئے، اس کے بغیر ہمارے نظریات، عقائد اور فلسفہ ٔ اخلاق میں مطابقت پیدا نہیں ہوگی، وہ اجنبی سی باتیں رہ جائینگی اور ان میں تاثیر نہیں پیدا ہو گی۔ یہ دونوں چیزیں علم کی بنیادی ترین ضرورت ہے۔ اسی طرح تصور علم کے ساتھ اخلاق ( عملی) ایک ایسا پودا ہے جس کا بیج بونا بھی ضروری ہے۔ نبی اکرم ﷺنے اسلام کے اخلاقی تصور کو عملاً برت کر بتایا یعنی اخلاق کا نمونہ پیش کیا۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ’’ اللہ کے نبی ؐ کا اخلاق کیسا تھا؟‘‘ آپؓ نے فرمایا ،’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے۔‘‘
ایک اور پہلو سے بھی اس موضوع کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اگر ہم انسانی تاریخ کو سامنے رکھیں تو انسان کی ثابت قدمی کی دو بڑی بنیادیں ذہن اور اخلاق کی نشوونما رہی ہیں، اگر دونوں میں سے کوئی ایک پہلو بھی چھوٹ جائے تو تاریخ ہمیں مٹا کر دوسری قوم کو لے آتی ہے۔ اخلاق میں آ جانے والی کمزوری ،زوال کے تمام اسباب کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ تاریخ میں ایتھنز کے اسپارٹا پر غالب آنے کی وجہ ؛ان کا علم اور خیر کو ملا کر ایک تہذیبی علمی اور ذہنی ماڈل بنانے میں کامیابی حاصل کرنا رہا ہے، جس نے بالآخر فتح ان کو دلائی جس کا بنیادی سبب اخلاقی برتری تھا ۔
اخلاقی ماڈل کے امتیازات کو سمجھنے کے لئے ہم چار نکات کے تحت گفتگو کریں گے :
(۱) فطری اخلاق
(۲) وہ اخلاق جو تصور انسان سے جنم لیتے ہیں
(۳) عصر حاضر کا تصور قوت اور اخلاق ، اور
(۴) عصر حاضر کی آرگنائزیشنل ایتھکس اور اسلام کا تصور اخلاق۔
فطری اخلاق
فطری اخلاق جس پر آدمی کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اللہ نے آدمی کو خلیفہ بنایا ہے۔ آدمیت کے بغیر انسان اس منصب پر خود کو کیسے فائز کر سکتا ہے؟ اللہ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے۔ اپنے مادہ تخلیق کے احسن ہونے کو بحال رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ نبی اکرم ؐنے فرمایا’’ جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام لا کر بھی اچھے ہوتے ہیں۔‘‘ نبی اکرم ؐ نے باوجود ان کے عقائد میں شرک کے، فطری انسان کی تصدیق جاہلیت میں اچھے کہہ کر فرمائی ہے ۔ اسلام کے نزدیک آدمیت یا فطری اخلاق نام ہے سیلف لیسنس کا، آدمیت سیکریفائز ہے ،آدمیت موڈیسٹی ہے۔ آدمیت یا فطری اخلاق کو مذہب ایک چینل فراہم کرتا ہے، اخلاق کی پیدائش کا مادہ فطرت ہے لیکن اس گیلی مٹی پر کمہار کام کرتا ہے وہ دین و شریعت اور وحی الٰہی ہے۔ فطرت گیلی مٹی کی طرح ہے۔ نبی اکرم ؐ نے گیلی مٹی کو آب کوثر میں ڈالے جانے والا کوزہ بنا دیا۔ عہد رسالت میں کفار و مشرکین ایمان لائے تو وہ پاتال سے کلمہ پڑھتے ہی عرش پر پہنچ گئے یعنی انہیں کسی تدریج سے نہیں گزرنا پڑا کیونکہ وہ آدمی ہو جانے کو کوالیفائی کیے ہوئے تھے۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت النبیؐ میں لکھا ہے کہ’’ بعض نقائص کے باوجود عربوں کا فیاض ہونا ،بہادر ہونا، مہمان نواز ہونا، مظلوموں کے لئے کھڑا ہونا، حلف الفضول، مسافروں کو پناہ دینا، خانہ کعبہ پر کوئی ٹیکس نہ لگانا، زیارت کرنے والوں کو کھانا کھلانا ان مشرکین کے ذمے تھا، یہ سب بنیادی انسانی اوصاف تھے ۔ اصول غلط ہو یا صحیح اس پر استقامت کے ساتھ کھڑے رہتے تھے، کوئی سمجھوتہ اپنی جان کی قیمت دے کر بھی نہیں کرتے تھے۔‘‘ یہ فطری اخلاق تھے جس کی تصدیق نبی اکرم ﷺ نے کی ہے ۔مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگ آدمی بنے بغیر مفسر قرآن، مقرر اور عالم دین بننا چاہتے ہیں۔ باتیں سب صحیح ہوتی ہیں لیکن کہنے والا چونکہ اخلاق کی بلندی پر نہیں ہے، اسلئے اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔ اسی طرح مذہب کے فقہی و قانونی تصور نے فطری اخلاق کو مرجھا دیا ہے۔ گھر میں بہو ، بیمار ساس اور سسر کی خدمت سے انکار، فقہی فتوؤں کا سہارا لے کر اپنی آدمیت کو قتل کر دیتی ہے۔ اگر کسی کی دنیا کی تکلیف ہمیں متاثر نہیں کرتی تو ہم آدمی بننے میں ناکام ہیں۔ کوئی جانور یا بلی گاڑی کے نیچے آگئی اور ہمارا کچھ وقت پریشانی میں نہیں گزرا تو ہم آدمی ہونے کے امیدوار تو ہوسکتے ہیں مگر آدمی نہیںہوسکتے۔ جس مادۂ تخلیق کو احسن بنانا تھا اسے گراوٹ کی طرف ہم لے جا رہے ہیں اور عصر حاضر میں مادۂ تخلیق کو جانوروں کے مشابہ یا محض جبلی وجود قرار دیا گیا۔ اس پر مزید اے آئی نے ایک ڈی ہیومینائزیشن عقلی جس میں آدمی کی غور و فکر کی صلاحیت سلب ہوتی جا رہی ہے، تو ڈیٹا کی بہتات نے انسان کو ایک طرح کی شرمندگی میں مبتلا کر دیا ہے۔ دوسرا اے آئی کے ذریعے ڈی ہیومنائزیشن اخلاقی ہے، جس میں ڈیپ فیک کے ذریعے ورچوئل دنیا میں بے حیائی کے بے شمار راستے کھول کر آدمی کے اندر موجود حیا کو مسخ کیا جا رہا ہے اور خودغرضی نے ایسا آدمی تشکیل دیا ہے جو دوسروں کی ترقی اور خوشحالی کو دیکھ کر کم خوش ہوتا ہے اور آئینہ دیکھ کر زیادہ خوش ہوتا ہے، تو وہیں فیمینزم نے عورت کی نسائیت اور عورت پن کو اس سے چھین لیا ہے ۔اس کے اثرات مسلم معاشرے میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔
اب پرانے تصور آدمی کو رد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اخلاقی تسکین کی نعمت سے انسان محروم ہوتا جا رہا ہے۔ آدمیت اگر نظر انداز ہو جائے تو دین کا اعتبار باقی نہیں رہتا، وہ تو محض رٹا ہوا دین ہوتا ہے۔ اس وقت دین کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ آدمی بنو ۔ اسی طرح ہم انہی کے بیانیے میں رہتے ہوئے یہ بات بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم ری ہیومن بنانے آئے ہیں ۔ آئیے اس کا سنگ بنیاد فیثا غورث کے اس فقرے ’’بی ہولڈدی مین‘‘ پر رکھ کر انسانیت کی بحالی کی دعوت دیں اور اس کا آغاز کریں ۔ یہ ایک لالچی یا دنیا دار آدمی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ اس کا بچہ آدمی نہیں رہ جائے گا۔ یہ چیز اسے گھبرا دینے والی ہے ۔یہ اس احساس کو جو دور جدید میں ڈی ہیومنائزیشن کی آگ، جس کی رفتار بہت تیز ہے، اس سے ہم لوگوں کو بچا نے کی پہل کر سکتے ہیں۔ اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر آدمیت کے اگر ۱۰۰؍ پیالے رکھے ہیں، تو میری ذمہ داری ہے کہ دیکھوں کہ وہ کس پانی سے بھرے ہیں؛ بازاری پانی نے، جوہڑ کے پانی نے، کہیں گندے پانی نے پیالے کو ناقابل استعمال تو نہیں بنا دیا ہے؟ یہ وہ مرحلہ ہے جب ہم انسانی ذمہ داریوں پر لپکنے والی غیرت حاصل کرینگے، غلط پانی بھرنے پر شرم آنے لگے گی اور اسی سے وہ Urge پیدا ہوگی جو اعلیٰ ذہانت کے ساتھ ایک بہت ہی مذہبی اور نصب العینی فیصلے کے ساتھ کہ اب مَیں پانی کنویں سے نکالوں گا، اپنی شخصیت کی تعمیر کیلئے پانی زمزم کا لوں گا، روحانی شخصیت کا پانی الگ جگہ سے لوں گا، وہ پیاس پکارنے لگے گی وہ پانی لاؤ یعنی ان کی پیاس بجھانے کیلئے ان کی آواز پر درکار پانی انہیں فراہم کیجئے۔ یہ دو نسخے آدمیت کو بحال کرنے کی ابتدا ءکیلئے ضروری ہیں جو اخلاق ِ انسانی کی تعمیر کا فاؤنڈیشن ہے۔ آدمیت کی بحالی کیلئے مذہب کے دیئے گئے اخلاقی اصول ایسے ہی آدمی پر جلد اثر انداز اور کارگر ہوتے ہیں۔
اخلاقیات کا دوسرا پہلو وہ اخلاق ہے، جو تصور انسان سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان کیا ہے ؟اس کا جوجواب دیں گے وہی جواب ہمارے اخلاقی اصول طے کرے گا۔ انسان کو ڈیفائن کرنے کے لئے جس سبسٹنس کی ضرورت ہے وہ اس کی فطرت فراہم کرتی ہے۔ انسانی فطرت اور انسانی شعور سے ہونے والا علم جب ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے لگے تو تصور آدمی جنم لیتا ہے اور اخلاق بنتے ہیں۔ انسان میں فطرت، اخلاق، ذہن، تین منزلیں ہیں۔ فطرت اپنے آپ کو انسانی شعور اور وجود میں داخل کرتے ہی اخلاق بن جاتی ہے۔ اس کو آسان انداز میں ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام کا تصور ِانسان ،حیوانی اور روحانی وجود کے ساتھ مل کر بنتا ہے ۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ بندگی پر شروع ہوتا ہے اور بندگی پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے درمیان ہماری ہر ذہنی عملی سرگرمی، ہماری سوچ، عمل ،خواہش، کھیلنا کودنا، نماز پڑھنا یہ سب کچھ میرے اخلاق پر مثبت انداز میں اثر ڈال رہے ہیں یا نہیں، اس فکر کا دوسرا نام اخلاق ہے ۔اسی طرح انسان کو احساسات و جذبات اور تعلق کی کثیر جہتی صلاحیت دے کر پیدا کیا گیا ہے۔ یہ تعلق کی جتنی صلاحیتیں اور استعداد ہیں وہی خلقت، سرشت، فطرت میں داخل ہیں۔
اس دنیا میں انسان کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے اور اس کا بڑا مقصد یہ ہے کہ تعلق کی فطری اور کامل استعداد کا حق ادا کروں۔ میری صلاحیت ِ تعلق، جتنی اچھی ہے اتنا ہی اللہ سے میرا تعلق بھی اچھا ہے ،ورنہ میں اللہ سے تعلق کا صرف وہم پال رہا ہوں۔ اللہ سے تعلق کی صلاحیت ایک ہی ہے ،انہی آنکھوں سے آپ کو دیکھوں گا اور انہی سے خانہ کعبہ کو دیکھوں گا۔ اس صلاحیت ِ تعلق کی کسوٹی میرا معاشرتی کردار ہے۔ میں کیسا بھائی ہوں؟ کیسا شوہر ہوں؟ کیسا دوست ہوں؟ کیسا پڑوسی ہوں، کیسا تاجر ہوں ؟کیسی بیوی اور بہو ہوں؟ کیسی بہن ہوں، وغیرہ۔ اگر ان تمام رشتوں میں اسلامی اخلاقیات کا دخل نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میری صلاحیت ِ تعلق میں دہرا پن یا منافقت پیدا ہو گئی ہے ۔
عصر حاضر نے تصور انسان کو محض جبلی بنا دیا ہے جس نے ہماری جبلتوں کی لگام ذہن اور اس کے ذریعے ارادوں کی بجائے محض خواہشات اور جبلتوں کو دے دی ہے جس نے ان کے اخلاقی ماڈل میں تعلق کی صلاحیت کو یا تو مصنوعی بنا دیا ہے یا اے آئی کے ذریعے تعلق کی تسکین کیلئے ورچوئل دنیا سے اسے جوڑ دیا ہے ۔ اب کسی کی خوشی میں کھلکھلا کر ہنسنا یا اپنے گھر میں کسی کی وفات پر آنسو بہانا گویا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انفرادیت پسندی نے پڑوس میں ہونے والی اموات سے بھی انسان کو بے خبر کر دیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ برا اثر بوڑھوں پر پڑ رہا ہے۔ وہ یا تو جبری تنہائی گزارنے پر مجبور ہیں یا اولڈ ایج ہوم ان کا مقدر بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف خواہش نفس کو بے لگام آزادی کے تصور نے انارکی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اچھا آدمی بے قید آزادی سے گھبراتا ہے۔ انسان کی آزادی کا احترام جوابدہی کے پہلو سے ہوتا ہے مگر انسانی جبلتوں کی بے قید آزادی نے اسے جنسی حیوان بنا دیا ہے۔
کسی اجتماعیت میں برے لوگوں کی کشش متاثر کر رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سوسائٹی کے اچھے بھی اچھے نہیں ہیں ۔یہ مومن کی غیرت کے بھی خلاف ہے اور اللہ اس پہلو سے بڑا غیور ہے۔ منکر کو نہ روکنے والی پوری بستی کو یا تو بیماریوں میں یا ہلاکت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو اسلام میں اخلاق کبھی تنہا نہیں پیدا ہوتے وہ شخص اخلاقی طور پر بانجھ ہے جو دوسروں کے لیے نافع نہ ہو۔ اسلام میں اخلاق کا ایک گہرا تصور یہ بھی ہے کہ وہ آدمی کو اکیلا رہ جانے سے بچاتا ہے۔ معاشرت میں نفع بخشی (پروڈکٹیوٹی) کے ساتھ انسان سرگرم عمل رہتا ہے تو وہیں اکیلے میں فرد کو تنہا نہیں رہنے دیتا۔ اس کا دوسرا اللہ ہوتا ہے۔ پہلے فرد کی خلوت یا تو آرام کے لئے دوسرے انسانوں کے لئے، آئیڈیل اسکیم بنانے کے لئے یا اللہ سے تعلق میں اپنے درجے کو بلند کرنے کے لئے ہوتی تھی، اب وہ محض فزیکل رہ گئی ہے۔ جس کی تنہائی کا معیار گر جائے وہ آدمیت سے گر جاتا ہے۔ جس انسان نے اپنی تنہائی کو پاکیزہ اور پروڈکٹیو بنا لیا وہ بڑا آدمی ہوتا ہے۔
اس موضوع کا تیسرا پہلو عصر حاضر کا تصور قوت اور اخلاق پر غور کریں تو یہ پورا تصور قوت غیر اخلاقی ہے۔ حکومتی سطح پر اگر ہم دیکھیں تو عسکری قوت کو حاصل کرنے کیلئے ایک ایسی دوڑ پوری دنیا میں جاری ہے جس نے قوت کے استعمال کا غیر انسانی رویہ اپنے مخالف طبقات کے خلاف استعمال کیا اور انسانیت سوز جرائم اب فلسطین میں یا تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اس تصور قوت نے انسانیت، اخلاق اور بین الاقوامی قوانین کی بھی پرواہ نہ کی اور پوری دُنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رویہ جاری و ساری کردیا۔
وطن عزیز میں فرقہ پرستوں نے ایک خاص تصور قوت کے ذریعے ایسا بیانیہ بنایا جس کے نتیجے میں انسان دشمنی پیدا ہوتی ہے ۔ عالمی سطح پر داعش یا اس جیسی تنظیمیں مختلف ممالک میں اسلام کو عام کرنے کے اُس تصور کو، جو کہ انبیاء کا مشن رہا ہے، مسخ کر رہی ہیں۔ اسلامی تصور ِقوت کو عوامی ذہن سے محو کیا جا رہا ہے۔ اب طاقت کا اخلاقی کردار اور اس کا روحانی ورژن اور اس کا عاجزی کے ساتھ استعمال ،نرم دلی وغیرہ قصۂ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ جب انسان اپنے سماجی شعور کو زندہ رکھنے میں کامیاب تھا تب وہاں اختلافات بھی وحدت کو مضبوط کرتے تھے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکا تھا جب ہم نے اپنے نظریے کی کمان اپنے فطری اقدار کے ہاتھ میں دی تھی اور آدمی ہونے کی ذمہ داریوں کو نبھایا تھا۔
اس لئے ہماری ثانوی بائنریز جو ہمارے رد و قبول کے نتیجے میں پیدا ہوتیں وہ اس پر اثر انداز نہیں ہوتی تھیں۔ انسان ایک اخلاقی وجود ہے اگر وہ ایسے تصورِ قوت کو نافذ کرے جو اس کے اخلاقی وجود ہونے کی تصدیق نہ کرے وہ غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا تصورِ طاقت اپنی بناوٹ میں اخلاقی تھا اور غلبے کا تصور بھی اخلاقی غلبے کے ساتھ تھا۔ شریعت کا نفاذ محض قانونی سطح پر مطلوب نہ تھا جب تک کہ اخلاقی وجود کی تعمیر معاشرے میں نہ ہو جائے۔ دور جدید میں عسکری پہلو سے غالب ہونے والی تنظیموں اور جماعتوں کا انسانی اور اخلاقی پہلو سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اسلام اور شریعت کے نفاذ میں قوت کے تصور کو جہاں غیر اخلاقی بننے سے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے وہیں شریعت پر عمل بھی ضروری ہے کیونکہ قانون شریعت جو اخلاقی مقاصد کی تکمیل تحصیل اور حفاظت کا ذریعہ ہےجو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں عطا ہوا ہے اور امت مسلمہ کی شناخت کی حفاظت کا الہامی نسخۂ کیمیا ہے ۔اس کے ساتھ وابستہ رہنا ضروری ہے۔
اس موضوع کا چوتھا اور آخری پہلو آرگنائزیشنل ایتھکس (تنظیمی اخلاقیات) کا اب ہم جائزہ لینگے۔ دور جدید نے اور آرگنائزیشنل ایتھکس زندگی پر اثر ڈالنے والے تمام شعبوں اور ڈسپلین میں ایک خاص تصورِ زندگی کے مطابق نہ کہ تصور انسان کے مطابق کچھ پابندیاں عائد کی ہیں، تاکہ وہ شعبہ گرُو کرے اور ایک آرگنائزیشنل اسٹرکچرنگ دنیا کی ہو رہی ہے تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہو سکیں، یعنی یہ ایسا اخلاقی نظام ہے جو سوچا ہوا اخلاق ہے مصلحت کی بنیاد پر ہوتا ہے اگر وہ مصلحت ختم ہو گئی تو فورا دوسری تھیوری اختیار کی جاتی ہے اور اسے اختیار کرنے میں تکلیف اٹھانی پڑے تو اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے اسے گوارا کر لیا جاتا ہے۔ اسلام کا تصور اخلاق میرے اندر یعنی دل سے ابل کر باہر کے پودوں کو سیراب کرتا ہے اس کے برعکس ، عصر حاضر کا نظام اخلاق کسی مروت، شفقت، محبت اور کسی سبجیکٹوٹی کا تقاضا نہیں کرتا، یہ انسان کے دماغ میں رہتا ہے دل میں نہیں جاتا۔ دماغ میں بھی اسی وقت تک رکھیں گے جب تک مفاد ہے، وہ ختم ہو گیا تو اس کو ذہن سے نکال دیتے ہیں۔ جدید دنیا اس طرز پر معاشرہ کو دنیاوی اعتبار سے چلانے میں بھلے ہی کامیاب ہو، ان اخلاق کو دیکھ کر یہ سمجھنا کہ یہ اسلام کے فطری اخلاق ہیں یا مذہبی یا انسانی ہے تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔
اگر یہ اخلاق فطری ہوتے تو دُہرا رویہ نظر نہ آتا۔ اخلاق جغرافیائی نہیں ہوتے، ایک ملک کیلئے کچھ دوسرے ملک کیلئے کچھ اور فلسطین کے لئے کچھ۔ اگر انسان سے ہمارا تعلق خود غرضی کے ساتھ ہو کسی لالچ کے تحت ہو تو یہ اخلاق نہیں ہے ،ورنہ گفتگو میں سب سے زیادہ با اخلاق تو خوشامد پسند یا چاپلوس لوگ ہوتے ہیں، ان کا انداز گفتگو اخلاق کی معراج ہوتا ہے ۔کیا اسے اخلاق کہا جائے گا ؟کارپوریٹ اخلاق نے مصنوعی مسکراہٹیں ،ایمانداری کو بھی ایک پالیسی کے تحت اختیار کرنا سکھایا ہے، اسلام میں مسکرا کر دیکھنا صدقہ ہے اور ایمانداری مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ اہل ایمان کو اُسی نظام ِ اخلاقیات پر کاربند رہنے کی سخت ضرورت ہے جو ساڑھے چودہ سو سال پہلے متعارف ہوا۔