Inquilab Logo Happiest Places to Work

عدل کی راہ میں اپنے پرائے اور رشتہ داری کا گزر نہیں ہونا چاہئے

Updated: December 08, 2023, 3:31 PM IST | Abdul Subhan Rizvi Misbahi | Mumbai

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس نے ہر فرد کے حقوق کو متعین کیا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتا ہو، اور ہر ایک کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی نیزایک دوسرے کے ساتھ عدل و انصاف اور اخوت و بھائی چارہ کا درس بھی دیا۔

The importance of justice and fairness in Islam can be seen from the fact that it has been emphasized in the Holy Quran. Photo: INN
اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں بھی اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ تصویر : آئی این این

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس نے ہر فرد کے حقوق کو متعین کیا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتا ہو، اور ہر ایک کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی نیزایک دوسرے کے ساتھ عدل و انصاف اور اخوت و بھائی چارہ کا درس بھی دیا۔ اسلامی تعلیمات میں عدل و مساوات کی بنیادوں پر قائم رہنا ہمیشہ ایک معاشرتی اور اخلاقی اصول رہا ہے جس نے مختلف اقوام اور مذاہب کو متحد کیا ہے۔
جب ہم اسلامی تعلیمات پر غور و فکر کرتے ہیں تو یہ بات بخوبی عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کو کتنا اونچا مقام دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلام پاک میں متعدد مقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ” بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں ، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔“ (سورۃالنساء : ۵۸) 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا حکم دیا اور اس میں کسی مذہب کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں تمام انسان مساوی ہیں ۔ مسلم ہو یا غیر مسلم، دوست ہو یا دشمن ، فیصلہ کرنے والوں پر فرض ہے کہ ان سب سے قطع تعلق ہو کر جو بھی حق و انصاف کا تقاضا ہو وہ فیصلہ کریں۔ جب ہم اس آیت مبارکہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جو بھی فیصلے حق و انصاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے اور پرائے کی بنیاد پر ہوں گے وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف اور سراسر ظلم ہوں گے۔
 عدل و انصاف سے متعلق مزید ارشادات باری تعالیٰ ہیں :
’’اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے۔‘‘
 (سورۃ المائدۃ:۸)
مزید فرمایا گیا: ’’اور اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان (بھی) عدل سے (ہی) فیصلہ فرمائیں (یعنی ان کی دشمنی عادلانہ فیصلے میں رکاوٹ نہ بنے)، بیشک اﷲ عدل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘(سورۃالمائدۃ:۴۲)
’’اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو۔ ‘‘ (سورہ النساء:۱۳۵)
 اسی طرح حدیث رسول ﷺ میں بھی عدل و انصاف کرنے والوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کرنے والے بندے اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں نور کے منبروں پر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے داہنی جانب یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں اور اپنے اہل و عیال اور متعلقین کے ساتھ معاملات میں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں ۔ (صحیح مسلم)
 ان آیات مبارکہ اور حدیث نبوی ؐ کےمطالعہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں عدل و مساوات کو کس قدر اہمیت حاصل ہے اور عدل و انصاف سے کام لینے والوں کی کس قدر فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جن کی وجہ سے اسلام نے، جسے دین مبین کہا جاتا ہے، پوری دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
اسلامی قوانین کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عدل و انصاف کا دائرہ زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتا ہے خواہ معاشیات ہو یا حقوق انسانی، رشتہ داری ہو یا ہمسائیگی۔ اسلام ہر جگہ انصاف اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ عدل و انصاف وہ چیز ہے جس کی بدولت انسان زندہ ہے۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو جائے تو صالح معاشرہ کے تشکیل ناممکن ہے۔ جس معاشرہ سے عدل و انصاف ختم ہوجائے وہ معاشرہ دہشت و درندگی کا مرکز بن جاتاہے۔ صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہم نے عدل و انصاف کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں عدل و انصاف کا دامن پکڑے رہیں اور اگر کسی کے درمیان فیصلہ کرنا ہوتو اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عدل ومساوات ہی کے ساتھ فیصلہ کریں ۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
 جب تک ہم اسلامی تعلیمات پر قائم رہے، ہم پھلتے پھولتے رہے اور جب ہم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا تنزلی کا شکار ہونے لگے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر کام اسلامی تعلیمات ہی کی روشنی میں کریں اور عدل کا حقیقی مفہوم سمجھیں اور عدل ہی کے آئینے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK