عوامی مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے کی جگہ اول تو مسئلے ہی سے انکار کیا جاتا ہے اور اگر مسائل کا ذکر کیا بھی گیا تو اس کیلئے اپوزیشن ہی کو ذمہ دار ٹھہرادیا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 8:35 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
عوامی مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے کی جگہ اول تو مسئلے ہی سے انکار کیا جاتا ہے اور اگر مسائل کا ذکر کیا بھی گیا تو اس کیلئے اپوزیشن ہی کو ذمہ دار ٹھہرادیا جاتا ہے۔
اقتدار نے عوام سے وابستہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے مسائل کی غلط تشہیر کرنے کیلئے اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرانے کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسے عوام کی مطلق پروا نہیں ہے۔ یہ طرز حکمرانی آئین کے ان ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن کی رو سے عوام کو درپیش مسائل کا تدارک کرنا اقتدار کی اولین لازمی ذمہ داری ہے۔ عوام کیلئے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب مہیا کرنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ ان فرائض کو معیاری انداز میں پورا کرنے کا دعویٰ انتخابی ریلیوں میں خوب کیا جاتا ہے اور اسی کے نام پر سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ووٹ بھی مانگے جاتے ہیں۔ گزشتہ ۱۲؍ برسوں سے برسراقتدار پارٹی انتخابات کے دوران عوامی مسائل کے تئیں اپنی فکر مندی کے اظہار سے عوام کے ووٹ تو حاصل کرتی رہی لیکن حکومت سازی کے بعد اس کے بیشتر وعدے زینت طاق نسیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ثبوتوں کے ساتھ انتخابی عمل کی شفافیت پر جو سوال کھڑے کئے ہیں اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی ووٹ کی شکل میں عوام کا بھروسہ جیتنے کا جو دعویٰ کرتی ہے اس میں عوام کا بھروسہ کم اور سرکاری اداروں کا حکومت نوازی والا رویہ زیادہ شامل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اقتدار کو بھی عوام کے مسائل سے وہ دلچسپی نہیں ہے جو اقتدار اور عوام کے رابطہ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ عوام کو درپیش مسائل سے بے پروائی والا اقتدار کا رویہ ان دنوں پھر ایک تلخ حقیقت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ عالمی جنگل راج کی توثیق ہے
مشرق وسطیٰ میں جنگ زدہ حالات کے سبب تیل اور گیس کی فراہمی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ دنیا کے کئی ملک اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں ۔ وطن عزیز میں بھی عوام کو ان مسائل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے خصوصاً رسوئی گیس کی قلت کی خبر نے ملک گیر سطح پر عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ رسوئی گیس حاصل کرنے کے لئے عوام کو لمبی قطاروں میں کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور اس انتظار کے بعد بھی اکثر خالی سلنڈر لے کر لوٹنا پڑتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا اس کے باوجود اقتدار مسلسل اس سے انکار کرتا رہا کہ ملک میں رسوئی گیس کی قلت ہے۔ ممکن ہے کہ قارئین جب یہ مضمون پڑ ھ رہے ہوں تب تک صورتحال میں بہتری آگئی ہو اور اپنے دیگر ضروری کاموں کو ترک کرے لمبی قطاروں میں گیس سلنڈرکیلئے گھنٹوں کھڑے رہنے کی پریشانی سے انھیں نجات مل چکی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پریشانی کے ختم ہو جانے کے بعد کیا وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں انھیں پھر ایسی کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ اس سوال پر غور کرنا اسلئے ضروری ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار جن کے پاس ہے، عوامی مسائل کے متعلق ان کا رویہ اسی طرز کا رہا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے کی جگہ اول تو مسئلے ہی سے انکار کر نا اور اگر کبھی ان مسائل کا ذکر کرنا بھی تو اس کے لیے اپوزیشن کو ذمہ دار قرار دینا۔ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران عوام نے بارہا اقتدار کے اس رویہ کو دیکھا اور اس کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت: ڈیٹا سینٹرز پر ہندوستان کا بڑا داؤ، مگر پانی کہاں سے آئے گا؟
اقتدار نے منصبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی جواب دہی سے بچنے کیلئے یہ وتیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ عوامی مسائل کا سرے سے ہی انکار کر دیا جائے۔ غالباً اقتدار کی سوچ یہ ہے کہ جب مسائل کا اعتراف ہی نہیں کیا جائے گا تو ان کے تدارک کی ذمہ داری اور جواب دہی دونوں سے بچنے کی راہ نکل آئے گی اور جو زمینی حالات ہیں وہ بھی اسی تلخ حقیقت کو آشکار کرتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ اگر کبھی کسی وجہ سے ان مسائل پر لب کشائی کی ضرورت پیش بھی آئے تو اس کیلئے اپوزیشن کی غلط تشہیر اور عوام کو ورغلا کر نظم و ضبط کو خراب کرنے والی اس کی پالیسی کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو عوام کا ہمدرد اور خیرخواہ ثابت کیا جائے۔
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران کئی موقعوں پر اقتدار نے عوام کو درپیش مسائل سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جبکہ اقتدار کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے تدارک کی موزوں راہ تلاش کرے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر بار انتخابات کے دوران عوام سے ایسے ہی وعدے کئے جاتے ہیں لیکن حکومت سازی کے بعدان وعدوں کو ان کو عملی شکل دینےکے بجائے حکومتی جاہ و جلال اور سہولتوں سے فیض اٹھانے والا رویہ ہی بیشتر ارباب اقتدار کی عادت بن چکا ہے۔ گزشتہ تین پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہو کر حکومت بنانے کا موقع حاصل کرنے والی بی جے پی نے عوام کو دھر م آمیز سیاست کے جال میں اس قدر الجھا دیا ہے کہ یکے بعد دیگرے مسائل سے دوچار ہونے کے بعد بھی وہ اب تک ان ’اچھے دنوں ‘ کا انتظار کر رہے ہیں جس کا وعدہ ان سے بارہ سال قبل کیا گیا تھا۔ عوام نے اگر اس پر فریب سیاسی جال سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی تو ممکن ہے کہ ان کا انتظار ایک لامتناہی شکل اختیار کر لے۔