اِس یوم آزادی پر یہ لکھتے ہوئے طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ملک کی نئی نسل نے ڈیڑھ دو ماہ کے نہایت مختصر عرصے میں لفظ ’’آزادی‘‘ کو غیر معمولی شہرت عطا کردی۔
اِس یوم آزادی پر یہ لکھتے ہوئے طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ملک کی نئی نسل نے ڈیڑھ دو ماہ کے نہایت مختصر عرصے میں لفظ ’’آزادی‘‘ کو غیر معمولی شہرت عطا کردی۔ اس شہرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے آزادی کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور دل کے نہاں خانوں میں محسوس کیا کہ آزادی کی حفاظت کیلئے جوابدہی طے کرنا ضروری ہے اور جوابدہی طے کرنے کیلئے حقیقت پسندی سے کام لینا چاہئے، حالات کا ازخود تجزیہ کرنا چاہئے اور یہ تبھی ہوگا جب حالات کو بچشم خود دیکھنے کی کوشش ہوگی، دوسروں کی عینک سے دیکھ کر بالخصوص میڈیا کی عینک سے صحیح تجزیہ کبھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت نئی نسل اور پیش رو نسل آمنے سامنے تو نہیں ہیں مگر کیفیت کچھ ایسی ہے جیسے پیش رو نسل، نئی نسل سے شرمندہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیش رو نسل نے کبھی حالات کا اس طرح تجزیہ نہیں کیا تھا جیسا نئی نسل نے کیا ہے۔ اس تجزیئے کے ذریعہ ملک کے طلبہ اور نوجوانوں نے اپنے بڑوں کی آنکھیں کھول دیں اور اپنے باخبر ہونے، دیانتدار ہونے، حق کا ساتھ دینے اور آواز بلند کرنے اور عدل و انصاف کی راہ پر گامزن ہونے کا اپنا تعارف پیش کیا ہے۔
سچ پوچھئے تو یہ نسل عصبیت سے پاک ہے۔ اب تک تو یہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل سے اُمیدیں بندھ رہی ہیں اور محسوس ہورہا ہے کہ کوئی انقلاب آیا تو پیش رو نسل سے زیادہ نئی نسل کے ذریعہ آئیگا۔ ان کا گیت، جو بہت مشہور ہوا، ان کے تصورِ آزادی کو بیان کرتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں غریبی سے، بھکمری سے، بیکاری سے، جاتی واد سے، منو واد سے، سامنت واد سے، پونجی واد سے، بھید بھاؤ سے، نفرت اور ہِنسا سے آزادی چاہئے۔ اس کا مطلب یہ نسل جانتی ہے کہ جب تک ان علائق اور بکھیڑوں سے آزادی نہیں ملے گی، وطن عزیز صحیح منوں میں آزاد نہیں ہوسکتا۔ اب آپ ہی بتائیے کیا پیش رو نسل کا یہ ویژن تھا اور ہے؟ اگر ہے بھی تو بہت مبہم ہے۔ اُس نے کبھی اتنی وضاحت اور باریکی سے ملک کی آزادی کو لاحق خطرات کا جائزہ نہیں لیا تھا۔
کوئی نہیں جانتا تھاکہ یہ نسل نہایت خاموشی سے ملک کے حالات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کے پیش نظر موقع ملتے ہی اس طرح اُٹھ کھڑی ہوگی جیسے پہلے سے تیاری رہی ہو۔ محسوس کیجئے ان کی فکر میں کجی نہیں ہے۔ یہ فرقہ واریت سے متاثر نہیں ہیں۔ اس نسل کا اس طرح منصہ شہود پر آنا بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ اس سے ملک کی آزادی کیلئے بھی نئی اُمیدیں پیدا ہوئی ہیں اور ملک کی جمہوریت کیلئے بھی۔ ’’تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر، جو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر‘‘ کی عملی تفسیر بن کر اُبھرنے والی اس نسل سے حکومت کا پریشان ہونا اور صاحبان اقتدار کا فکرمند ہونا یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ملک کو ایک خاص رنگ میں رنگنے کی جو کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری کی گئی تھیں، طلبہ اور نوجوانوں نے اُن کوششوں کو اس طرح سمیٹ دیا جیسے سمندر کی کوئی پُرشور موج ساحل کے قریب بنائے گئے ریت کے گھروندوں کو مٹا دیتی ہے۔ نئی نسل سے یہ توقع کسی کو نہیں تھی مگر اب یہی نسل بہت بڑا سہارا ہے۔ آج، یوم آزادی پر اس نسل کے افراد، طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی جانی چاہئے۔