سرکاری اعداد و شمار کے مطابقہندوستان میں بجلی کی کھپت سالانہ بنیاد پر۵۵ء۱۱؍ فیصد بڑھ کر۹۸ء۱۶۴؍بلین یونٹس (بی یو) تک پہنچ گئی۔
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 10:03 AM IST | New Delhi
سرکاری اعداد و شمار کے مطابقہندوستان میں بجلی کی کھپت سالانہ بنیاد پر۵۵ء۱۱؍ فیصد بڑھ کر۹۸ء۱۶۴؍بلین یونٹس (بی یو) تک پہنچ گئی۔
ملک میں شدید گرمی اور لو کے باعث مئی ۲۰۲۶ء میں بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابقہندوستان میں بجلی کی کھپت سالانہ بنیاد پر۵۵ء۱۱؍ فیصد بڑھ کر۹۸ء۱۶۴؍بلین یونٹس (بی یو) تک پہنچ گئی۔ ایئر کنڈیشنرز اور ڈیزرٹ کولرز جیسے ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:کولکاتا کے لیک ٹاؤن سے میسی کا ۷۰؍ فٹ بلند مجسمہ ہٹا دیا گیا
اعداد و شمار کے مطابق، مئی ۲۰۲۵ء میں ملک کی بجلی کی کھپت۸۹ء۱۴۷؍ بلین یونٹس تھی۔مئی کے دوران بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب (پیک پاور ڈیمانڈ) بھی ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی ماہ میں ریکارڈ کیے گئے۹۹ء۲۳۰؍ گیگاواٹ (جی ڈبلیو) کے مقابلے میں بڑھ کر۸۲ء۲۷۰؍ گیگاواٹ تک جا پہنچی۔
یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید گرمی کے باعث گھریلو اور تجارتی اداروں میں بجلی کے استعمال میں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں بجلی کے گرڈ پر دباؤ بھی بڑھ گیا۔مئی میں مسلسل چار دنوں تک پیک پاور ڈیمانڈ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ۱۸؍مئی کو یہ۳۷ء۲۵۷؍ گیگاواٹ تھی، جو ۱۹؍ مئی کو بڑھ کر۴۵ء۲۶۰؍ گیگاواٹ ہو گئی۔ اس کے بعد ۲۰؍ مئی کو یہ۴۴ء۲۶۵؍ گیگاواٹ تک پہنچی اور ۲۱؍ مئی کو ریکارڈ ۸۲ء۲۷۰؍ گیگاواٹ کی سطح کو چھو لیا۔اس سے قبل رواں سال بجلی کی سب سے زیادہ طلب کا ریکارڈ ۲۵؍ اپریل کو ۱۱ء۲۵۶؍ گیگاواٹ درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پی وی آر اور واشو بھگنانی کے درمیان قانونی تنازع کی خبر غلط ہے: جیکی
تازہ ترین اعداد و شمار نے مئی ۲۰۲۴ء میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً ۲۵۰؍ گیگاواٹ کے سابقہ ہمہ وقتی ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ کامیابی وزارتِ بجلی کے اس اندازے کے مطابق بھی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ۲۰۲۶ء کے موسمِ گرما میں ملک کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب ۲۷۰؍ گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ موازنہ کے طور پر، گزشتہ سال موسمِ گرما میں بجلی کی سب سے زیادہ طلب جون ۲۰۲۵ء میں۷۷ء۲۴۲؍ گیگاواٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جو حکومت کے متوقع ۲۷۷؍ گیگاواٹ سے کم تھی۔ صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں بھی بجلی کی طلب اور کھپت بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔