چل اُڑ جارے پنچھی

Updated: June 28, 2020, 5:05 PM IST | Prof Sayed Iqbal | Mumbai

ہندوستان کے۱۳؍ ملین شہری آج این آر آئی بن چکے ہیں۔ نیوورلڈ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۸ء کے درمیان ۳۳؍ ہزار ہندوستانیوں نے ہجرت کی ہے۔ یقیناً ۲۰۱۹ء میں مزید سات ہزار افراد نے ہجرت کی ہوگی جس کا ریکارڈ کوئی سرکاری شعبہ دینے کو تیارنہیں ہے۔ وزارت داخلہ سے پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا کہ ہم یہ ریکارڈ نہیں رکھتے، یہ غیر ملکی سفارتخانوں کی ذمہ داری ہے

Airport-immigration-(representative pic)
ایئرپورٹ پر امیگریشن کے انتظار میں لگی ہوئی لائن علامتی تصویر

راجندر سیٹھیا کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تو وہ چونک گئے۔ تہاڑ جیل میں لوگ اتنی شرافت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک صاحب ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور بڑی ہی عزت سے کسی مدن بھیا کا پیغام پہنچا رہے تھے کہ بھیا نے انہیں بلایا ہے۔ مدن بھیا کا نام انہوںنے سن رکھا تھا۔ حالانکہ تہاڑ جیل میں آٹھ ہزار قیدی ہیں اور ہر مجرم دوسرے مجرم سے زیادہ خطرناک ہے مگر مدن بھیا کی کوٹھری میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دربار لگا ہے۔ بھیا چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔ انہوںنے کھڑے ہوکر سیٹھیا صاحب کا استقبال کیا اور بڑی عزت سے اپنے قریب بٹھایا۔ سیٹھیا صاحب سمجھ نہیں پائے کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے مگر مدن بھیا نے چند ہی منٹوں میں ملاقات کا مقصد واضح کردیا۔ ’’سیٹھیا صاحب ، ہمیں تو اس حکومت نے چونا لگایا ہے مگر آپ تو اس حکومت کو چونا لگاچکے ہیں ۔ آپ کو تکلیف دینے کا مقصد یہی ہے کہ آپ کی ہنر مندی اور صلاحیتوں سے ہم بھی فائدہ اٹھائیں‘‘سیٹھیاصاحب مسکرانے لگے۔ انہوںنے دھیمے لہجے میں مدن بھیا کو جواب دیا۔ ’’اتنا  تو آپ کو پتہ ہوگا کہ چونا لگانے میں، میں نے کیا کچھ کھویا ہے؟ لندن میں اپنی جائیداد، تین رولز رائس، دومرسیڈیز، ایک بوئنگ اور پچھلے چونتیس سال سے قانونی جنگ میں کروڑوں کی فیس‘‘ جی مجھے پتہ ہے۔ ’’ اس  کے بعدبھی آپ؟ ’’سیٹھیا صاحب ، آج کل ہرپیسے والا اس ملک کو لوٹ رہا ہے اورہم یہاں بیٹھے جھک مار رہے ہیں۔ اس سے بہتر موقع شاید ہی کبھی ملے۔‘‘ سیٹھیا صاحب مدن بھیا کی باتیں سن کر حیران تھے۔ وہ اسّی کی دہائی میں پنجاب نیشنل بینک کی جعل سازی کے متعلق سوچنے لگے۔ انہیں چارلس شوبھراج کو بھگانے کی اپنی حکمت عملی بھی یاد آنے لگی۔ انہوںنے سوچا کہ نہ جانے کتنے مدن بھیا ملک کی موجودہ حالت دیکھ کر ملک کو لوٹنے کی پلاننگ کر رہے ہوں گے۔
  راجندر سیٹھیا آج جیل سے رہائی پاچکے ہیں۔ اور عمر کی ۷۲؍ بہاریں دیکھنے کے بعد ٹوٹ بھی گئے ہیں لیکن انہیںاس بات کا شدید احساس ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی معاشی حالت اتنی ابتر ہوگئی کہ اب لوگ بلا خوف ملک کو لوٹ کر فرا ر ہورہے ہیں۔
 یہ ملک کی بدنصیبی نہیں تو اورکیا ہے کہ اب معمول کے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ کوئی سرکاری افسر رشوت نہ لے تو حیرت ہوتی ہے۔ چھوٹے کاروبار تیزی سے بند ہورہے ہیں۔ بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور کرپشن نے کاروباریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق آج  ۶۶؍فیصد کاروبار تقریباً بند ہیں ، ان میں سے ۳۰؍فیصد کاروباری یا تواپنا کاروبار بیچ دیں گے یا دکان بند کرکے گھر بیٹھے رہیں گے ۔۳۱؍فیصد نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ اس ملک سے ہجرت کرجائیں گے اور ۵۵؍فیصد کاروباریوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ سرکاری افسروں، کرپشن اور حکومت کی عدم توجہی سے پریشان ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ کوئی صاحب جی ایس ٹی دینے میں کوتاہی کرے تو ایف آئی آر درج کئے بغیر اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ملک کے ڈیڑھ سوسے زائد بلڈر آج جیل میںہیں یا قانونی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ صنعت کاروں کی نمائندہ انجمن ( کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز) نے حکومت سے باقاعدہ درخواست ہے کہ تجارت مخالف قوانین میں جلداز جلد ترمیم کی جائے۔ بقول سابق وزیر خزانہ ، پی چدمبرم، اس ملک میں اب ہرکام جرم کہلانےلگا ہے۔ ٹیکس افسران کو حکومت نے اتنے اختیارات دے دیئے ہیں کہ وہ جب چاہیں کسی بھی شخص کو مجرم قرار دے کر جیل بھجواسکتے ہیں۔ آپ نے ابھی فیکٹری کھولی نہیں کہ یہ افسران آدھمکتے ہیں اور رشوت کا کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ ان سے اصولوں کی بات کی جائے تو فوراً جیل بھجوانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ وہ بزنس مین جو موجودہ حالات میں بڑی مشکل سے اپنا بزنس چلاپاتے ہیں، و ہ حکومت کو جرمانہ دے کر اپنی گردن چھڑانے سے نہیں ہچکچاتے مگر جب جیل بھیجنے کی بات کی جاتی ہے تو حکومت سے ان کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ بلاشبہ وجے مالیا اور نیرو مودی نے اربوں روپے لوٹے ہیں مگر واپس لوٹنے اور مقدمہ لڑنے کیلئے راضی نہیں۔ صرف اس لئے کہ انہیں پولیس  کی درندگی سے خوف آتا ہے۔
  اب کاروباریوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی دکان بند کرکے ہجرت کرجائیں۔ ویسے بھی ہندوستان کے تیرہ ملین شہری آج این آر آئی بن چکے ہیں اور نیوورلڈ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۸ء  کے درمیان ۳۳؍ ہزار ہندوستانیوں نے ہجرت کی ہے۔ یقیناً ۲۰۱۹ء میں مزید سات ہزار افراد نے ہجرت کی ہوگی جس کا ریکارڈ کوئی سرکاری شعبہ دینے کو تیارنہیں ہے۔ وزارت داخلہ سے پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا کہ ہم یہ ریکارڈ نہیں رکھتے۔ یہ غیر ملکی سفارت خانوں کی ذمہ داری ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہماری سرمایہ داروں کی ہجرت کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ بیوریو کریسی سے نالاںہیں۔ سرکاری افسران کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیاجاتا  ہے۔ ’کافی ڈے‘ کے مالک کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ کوئی بھول نہیں سکتا۔ اسے آپ ٹیکس ٹیررزم کہیں یا حکومت کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی پالیسیوں کو الزام دیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کوئی کاروباری خوش نہیں۔ کچھ تو کھل کر کہہ رہے ہیں کہ انہوںنے پچھلے الیکشن  میں کمل کا بٹن دبا کر جو حماقت کی تھی، اسی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ان پر ٹیکس کا بوجھ ڈال رکھا ہے اور فرماتی ہیں کہ اس ٹیکس سے جو ۱۲۰؍ ملین روپے ملیں گے اس سے غریبوں کا بھلا ہوگا۔ اس ملک میں غریبوں کا کب بھلا ہوا ہے۔  جواَب ہوگا، نہ کسانوں کی خودکشی اس حکومت کو ہلاسکی ہے نہ نوجوانوں کی بیروزگاری اسے جھنجھوڑتی ہے۔ یہ توکسی بدمست ہاتھی کی طرح اپنے ہدف کی طرف گامزن ہے اور بس۔
 ویسے  ملک سے فرار ہونا اتنا آسان نہیں رہا۔ کل تک لوگ بڑی آسانی سے دبئی چلے جایا کرتے تھے مگر جب سے دبئی کو OESD ممالک نے بلیک لسٹ کیا ہے ، وہاں جانا بھی بے سود ہے۔ کبھی ہمارے لئے برطانیہ اور امریکہ پرکشش ہواکرتے تھے۔ اب وہاں بھی  مہاجرین کیلئے اتنے سخت قوانین بنادیئے گئے ہیں کہ رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ آج پرتگال، سائپریس ، یونان اور مالٹا وغیرہ ایسے ممالک ہندوستانی ارب پتیوں کا آگے بڑھ کر استقبال کررہے ہیں۔ وہاں اپنی دولت Invest کیجئے اور شہریت کا پروانہ حاصل کرلیجئے۔ پرتگال میں غیر ملکوں کو سال  میں صرف سات دن رہنا ہوتا ہے اور پانچ سال بعد انہیں شہریت دے دی جاتی ہے۔ یونان میں تو رہنے کی بھی پابندی نہیں۔ صرف دو لاکھ  پچاس ہزار پاؤنڈ انویسٹ کیجئے اور شینگین ویزا لے لیجئے۔ جس کا مطلب ہے آپ بیک وقت ۲۷؍ ملک  میں سفر کرسکتے ہیں۔ سنگاپور ایشیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن وہ بھی ہندوستانیوں کو اپنی جانب کھینچنے لگا ہے۔ اسلئے اب ہمارے ارب پتیوں کے ساتھ پروفیشنلز بھی سنگاپور جانے لگے ہیں۔
  دوسال قبل کالجوں او ریونیورسٹیوں کے طلبہ کے ایک سروے میں نوجوان سے پوچھا گیا کہ مستقبل کیلئے آپ کے کیا منصوبے ہیں تو اکثریت کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم پہلی فرصت میں وطن عزیز کو خیر باد کہیں گے۔ ان نوجوانوں کو ملکی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں۔ا نہیں من پسند کام چاہئے، اپنے انداز میں جینے کی آزادی چاہئے اور وہ ایسے ملک میں رہنا چاہتے ہیں جہاں ذات پات کے بھید بھاؤ نہ ہوں، اقلیت پر مظالم نہ ہوتے ہوں اور غریبوں کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ ان نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم اسلئے  حاصل کی تھی کہ وہ ایک بہتر مستقبل کے خواہشمند تھے لیکن انہوںنے دیکھ لیا کہ حکومت کو صرف اپنا  ایجنڈا نافذ کرنے میں دلچسپی ہے اور کرپشن ہے کہ اس ملک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایسے میں  نوجوان اپنی گاڑھے پسینے کی کمائی یہاں کیوں ضائع کریں ؟ کوئی ہوش مند ایسے ملک میں کیوں رہنے لگا جہاں روزانہ کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا ہوتا ہو، شہریوں کو مختلف بہانوں سے ستایاجاتا ہو اور فرقہ وارانہ سیاست زندگی کے ہرشعبے میں غالب آچکی ہو؟ اگرکاروباری ، جنہیں صرف اپنی ترقی عزیز ہے، پریشان ہیں تو  ملک کا نوجوان بھی پریشان ہے جسے اپنا کریئر  عزیز ہے۔ جب سیاسی اتھل پتھل اور بدامنی کسی ملک کی قسمت بن جائے تو ترقی بھی روٹھ جاتی ہے۔ ماضی کے انڈونیشیا  اور سری لنکا کی مثالیں غماز ہیں کہ اندرونی خلفشار نے انہیں برسوں پیچھے دھکیل دیا تھا۔
  چند سال قبل کانگریس کے ویّرپا موئیلی نے Direct Tax پر ایک رپورٹ لکھ کر حکومت کو پیش کی تھی تاکہ ملک میں ٹیکس کا سیدھا سادا نظام نافذ کیاجاسکے اور ٹیکس کے افسران سے عوام کو جو خوف لاحق ہے ، وہ دور کیاجاسکے مگر حکومت نے اسے ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا ۔ آگے چل کر احساس ہوا کہ سرمایہ داروں اور باصلاحیت افراد کی ایک بڑی تعداد ہجرت کرنے لگی تو اس نے اس مسئلے کے تدارک کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن آج تک اس کمیٹی کی جانب سے نہ کوئی بیان آیا نہ ہی اس کی رپورٹ  دکھائی دی۔ ہاں! وہ لاکھوں افرادضرور دکھائی دیئے جو بھوکے پیاسے سڑکوں پر پیدل چلے جارہے تھے، وہ پولیس فورس دکھائی دی  جو معصوم عوام کو حیوانیوں کی طرح پیٹ رہی تھی، وہ سیاست داں دکھائی دیئے جو بڑے ٹھاٹ سے عوام کی دولت پر عیش کررہے تھے۔ ایسے میں کوئی مدن بھیا اس ملک کو لوٹنے کا پروگرام  بنانے لگے تو تعجب نہیں ہوتا!n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK