خوشگوار جھونکے

Updated: March 27, 2021, 11:35 AM IST | Editorial

بھلے ہی یہ ہر سال کی روایت ہو مگر روایت کا نبھایا جانا بھی کچھ کم اہم نہیں ہے بالخصو ص ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جن کے تعلقات میں دراڑیں ختم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتی ہیں۔

Modi and Imran - Pic : INN
مودی اور عمران خان ۔ تصویر : آئی این این

 بھلے ہی یہ ہر سال کی روایت ہو مگر روایت کا نبھایا جانا بھی کچھ کم اہم نہیں ہے بالخصو ص ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جن کے تعلقات میں دراڑیں ختم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتی ہیں۔ دونوں ملکوں کو،جو مشترکہ جغرافیہ، تاریخ اور وراثت کے امین ہیں، جس طرح شیروشکر ہوکر رہنا چاہئے تھا، نہیں رہ پاتے۔ اس کے اپنے اسباب ہیں جن پر بارہا روشنی ڈالی جاچکی ہے چنانچہ مزید کچھ لکھنا پُرانی باتوں کو دُہرانے کے مترادف ہوگا۔ ہم اس تحریر کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اظہارِ خیرسگالی کا خیرمقدم کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے انہوں نے ۲۳؍ مارچ کو ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر اپنے پاکستانی ہم منصب کو خط لکھا اور اُنہیں اس دن کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط باہمی تعلقات کی ضرورت پر یہ کہتے ہوئے زور دیا کہ اس کی بنیاد اعتماد پر ہوگی جس کیلئے اشتعال انگیزی اور جارحیت کو ختم کرنا نیز دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے بجائے روکنا ازحد ضروری ہے۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ہی خط صدر جمہوریہ ٔ ہند رام ناتھ کووند نے بھی پاکستانی صدر عارف علوی کو روانہ کیا ہے۔ 
 تو کیا برف پگھل رہی ہے؟ بھلے ہی نہ پگھلی ہو اس کے باوجود خیرسگالی کا یہ اظہار اور تعلقات کو بہتر بنانے کی یہ خواہش خالی از تاثیر نہیں ہوسکتی۔ یقیناً اس سے ایک اچھا پیغام عام ہوا ہے چنانچہ مستقبل میں ایسے مزید اقدام کے ذریعہ اُس جمود کو توڑا جاسکتا ہے جو نقصان ہی کا باعث ہوگا، فائدہ کانہیں۔ جمود سے بے اعتمادی اور بدگمانی بڑھتی ہے، اعتماد اور خوش گمانی کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ یاد رہنا چاہئے کہ گزشتہ ماہ بھی ایک اہم اور خوشگوار واقعہ اُس وقت رونما ہوا تھا جب دونوں ملکوں نے جموں کشمیر میں قبضے کی اصل لکیر (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر معاہدہ ٔ جنگ بندی کا اعادہ اور اس پر ازسرنو رضامندی کا اظہار کیا۔ یہی نہیں، گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی وفد کا ہندوستان آنا بھی ایک اہم واقعہ تھا ورنہ ڈھائی سال سے مذاکرات کی میز پر سناٹا تھا۔
 یہاں پاکستانی فوج کے سربراہ کی اُس تقریر کا ذکر بھی بے جا نہ ہوگا جو اُنہوں نے ’’نیشنل سیکوریٹی ڈائیلاگ‘‘ کے پلیٹ فارم سے کی اور جس میں ’’ماضی کو دفن‘‘ کرنے کی بات کہی گئی۔ برصغیر کی اب تک کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فوج کے رویہ میں غیر معمولی سختی پائی جاتی رہی ہے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ پاکستان کی جمہوری حکومت کا لہجہ نرم ہے مگر فوج کا رویہ سخت۔ مگر گزشتہ ہفتے جنرل قمر باجوہ کے موقف میں جو نرمی دکھائی دی وہ خوش آئند ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ آئندہ بھی برقرار رہے۔ کیا ایسا ہوگا؟ یہ کہنا مشکل ہے مگر اُمید تو بہرحال کی جانی چاہئے۔ ممکن ہے سفارتی اُمور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور مبصرین اِن واقعات کو مخصوص زاویوں سے دیکھیں اور برف کے پگھلنے کی مختلف وجوہات کا تجزیہ کریں۔ مثلاً کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان سے چین کے تعلقات بہتر نہ رہ جانے کی وجہ سے یا امریکہ میں صدارت کی تبدیلی کے سبب ایسا ہورہا ہے۔ ’’دی پرنٹ‘‘ میں سوشانت سرین کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں نام لئے بغیر ایک پاکستانی وزیر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ باجوہ کا بدلا ہوا لہجہ پاکستان کی عالمی شبیہ کو بہتر بنانے کے مقصد سے ہے۔ جو بھی ہو، ہمارا یہ کہنا ہے کہ خوشگوار تبدیلی کا راستہ جس کسی وجہ سےہموار ہورہا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ ممکن ہے ایسی ہی کوئی چیز بہانہ بنتی رہے اور ا س کی وجہ سے خوشگوار تبدیلی مستقلاً پائی جائے اور مستحکم ہو!

pakistan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK