ایسے موضوعات پر بہت کم لکھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ عوامی دلچسپی کے موضوعات نہیں ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کو ان کی تفصیل سے آگاہ کرنا اہم صحافتی ذمہ داری ہے۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 2:40 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
ایسے موضوعات پر بہت کم لکھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ عوامی دلچسپی کے موضوعات نہیں ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کو ان کی تفصیل سے آگاہ کرنا اہم صحافتی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ ہفتے ۱۰؍ جون کو یہ خبر آئی کہ ’’امریکہ نے انڈو پیسفک کمانڈ کا نام بدل کر پیسفک کمانڈ رکھ دیا ہے‘‘۔ اسی دن امریکی صدر فرانس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے مودی کی اچھی خاصی تعریف کی، انہیں خوبصورت اور فرشتہ نما کہنے کے علاوہ بھی اُن کی شان میں کئی کلمات کہے۔ سوال: پیسفک کمانڈ کا نام بدلنے اور مودی کی تعریف کرنے کا ربط کیا ہے؟
فروری ۲۰۱۸ء کی بات ہے۔ یہ ٹرمپ کا پہلا دورِ صدارت تھا۔ امریکہ نے اس خطے کیلئے، جسے اُس نے انڈو پیسفک نام دیا تھا، منصوبہ بنایا تا کہ واشنگٹن کی اسٹراٹیجک بالادستی قائم ہو اور چین کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع نہ ملے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ چین کے پر کترنے کیلئے ہندوستان کی مدد لے۔ اس خواہش کے تحت امریکہ نے ہندوستان کو سلامتی اُمور میں اپنا ترجیحی شراکت دار بنایا تاکہ دونوں (ہند امریکہ) باہمی تعاون کے ذریعہ بحری سلامتی کو یقینی بنائیں نیز چین کے اثر و رسوخ کو کم یا زائل کریں۔ اس امریکی دستاویز کے کئی صفحات پر واشنگٹن نے وہ حکمت عملی شائع کی جس کے تحت اُس کا منصوبہ تھا کہ ہندوستان کو قابل ذکر دفاعی شراکت دار بنائے تاکہ مضبوط ہندوستانی فوج امریکہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلے۔ زیر بحث دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ چین کے ساتھ کیا کیا جانا چاہئے، اسے امریکہ سے مقابلہ آرائی اور امریکی فوجی اور اسٹراٹیجک صلاحیتوں پر مسابقت سے کیسے باز رکھا جائے۔
سوال یہ ہے کہ ہندوستان نے ایسی کسی دستاویز پر دستخط کیوں کئے؟ اس کا جواب کسی کو نہیں معلوم۔ پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں ہوئی، اس سلسلے میں پریس کانفرنس نہیں ہوئی اور انتخابی منشور میں اس کا تذکرہ نہیں ہے مگر وزیر اعظم مودی نے چین کے خلاف ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹراٹیجک پارٹنرشپ اور فوجی اتحاد کا معاہدہ کرلیا۔ فروری ۲۰۲۰ء میں، جب ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان آئے اور اس سے قبل کہ لداخ کا بحران شروع ہوتا، مودی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ چین کے خلاف اس معاہدہ پر عملدرآمد ہو۔
اکتوبر ۲۰۲۰ء میں، جب اس وقت کے امریکی وزیر دفاع مائیک پامپیو ہندوستان آئے تھے، تب ہندوستان نے ’’بنیادی تبادلہ اور تعاون معاہدہ‘‘ پر دستخط کئے۔ بیسک ایکس چینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بی ای سی اے) کہلانے والے اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی فوج کی میزائلیں اور مسلح ڈرون کا نشانہ خطا نہ ہو اس کیلئے امریکی انٹلی جنس نظام تک ہندوستان کی رسائی ہو۔
اسی وقت ایک اور معاہدہ ’’لاجسٹکس ایکس چینج میمورینڈم آف ایگریمنٹ‘‘ (ایل ای ایم او اے) سائن کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک (ہندوستان اور امریکہ) کی فوجیں ایک دوسرے کے زمینی، فضائی اور بحری ٹھکانوں سے ایندھن حاصل کرسکیں، ایک دوسرے کی رسد، کل پرزوں اور متعلقہ خدمات تک اُن کی پہنچ ہو۔
دہلی میں بی ای سی اے (فل فارم اوپر دیکھئے) پر دستخط کرتے ہوئے مائک پامپیو نے چین پر دوٹوک الفاظ میں کہا تھا: ’’ امریکہ اور ہندوستان باہمی تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں اور ایسے اقدامات کررہے ہیں جن سے ہر طرح کے خطرات سے نمٹا جاسکتا ہے۔ یہ اقدامات صرف چینی کمیونسٹ پارٹی سے لاحق خطرات تک محدود نہیں ہیں۔ ‘‘ اس موقع پر، تب کے امریکی وزیر خارجہ مائک ایسپر نے کہا تھا: ’’ہم، انڈو پیسفک کی آزادی اور اس کے کھلا رہنے کی حمایت میں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں خاص طور پر چین کی بڑھتی جارحیت اور غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف۔ ‘‘
راج ناتھ سنگھ اور ایس جے شنکر، جو پامپیو اور ایسپر کے ساتھ کھڑے تھے، اپنے بیانات میں چین کا نام نہیں لیا۔ راج ناتھ سنگھ کے پہلے سے تیار کئے ہوئے بیان (ریمارک) (جسے بعد میں بدل دیا گیا تھا) میں درج ذیل سطر تھی جسے بعد ازیں ہٹا دیا گیا:
’’معزز صاحبان، دفاعی میدان میں ہمیں اپنی شمالی سرحد کی جانب سے لگاتار جارحیت کا سامنا ہے۔ ‘‘ یہ سطرہندوستانی مترجم کو انگریزی میں ترجمے کیلئے نہیں دی گئی اور اس نے غیر حذف شدہ متن پڑھ دیا جسے امریکیوں نے جاری بھی کردیا۔ تین ماہ بعد جب امریکی حکمت عملی کی دستاویز کو سرکاری طور پر جاری کیا گیا تب چین کا ردعمل کچھ اس طرح تھا: ’’اس (دستاویز) کے مشمولات امریکہ کی بدنیتی کو ظاہر کرتے ہیں جو انڈو پیسفک اسٹراٹیجی کو چین کے خلاف استعمال کرنا اور خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ ‘‘
چین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’امریکہ گروہ بازی میں یقین رکھتا ہے اور اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ یہی ثابت کرتا ہے کہ اس کا مقصد علاقائی امن، استحکام، دوستی اور تعاون کو متاثر کرنا ہے۔ ‘‘ دستاویز جاری ہوئی تھی تب ہندوستان نے کچھ نہیں کہا، خاموشی اختیار کی۔
انڈو پیسفک اسٹراٹیجی کے چند ہفتوں بعد ایک اور معاہدہ سائن کیا گیا جو مواصلاتی ہم آہنگی اور سلامتی سے متعلق تھا۔ اس کے ذریعہ ہندوستان کو یہ موقع ملا کہ امریکی فوجی کمانڈر اور بحری و فضائی جہاز محفوظ نیٹ ورک کے ذریعہ ایک دوسرے سے رابطہ کرسکیں۔
مذکورہ بالا تینوں معاہدوں کے متون کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ہند امریکہ فوجی تعاون کو یقینی بنانے کیلئے تھے۔ آخر الذکر معاہدہ کے پانچ ماہ بعد وزیر اعظم مودی، شی سے ملاقات کیلئےووہان گئے جہاں ایک معاہدہ ہندوستان اور چین کے درمیان ہوا۔ اس میں طے کیا گیا تھا کہ نئی دہلی اور بیجنگ حریف نہیں ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرینگے نیز تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینگے۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح وزیر اعظم مودی نے ’’تو بھی خوش اور تو بھی خوش‘‘ کی پالیسی اپنائی۔ مودی شی جن پنگ سے مصافحہ ہی نہیں کررہے تھے وہ ٹرمپ کی انڈو پیسفک اسٹراٹیجی کو بے اثر بھی کر رہے تھے جس کا مقصد چین کو روکنا تھا۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیجنگ نے لداخ سرحد پر سرگرمیاں بڑھا دیں، اب بھی چین کی جانب ہماری سرحد پر کشیدگی ہی رہتی ہے۔ ا س کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ ٹرمپ کی انڈو پیسفک اسٹراٹیجی سے دلچسپی ختم ہوگئی اور انہوں نے انڈو پیسفک سے انڈو ہٹا دیا۔ سوال یہ ہے کہ ۱۷؍ جون کو فرانس میں مودی کی نمائشی تعریف کے علاوہ ہندوستان کو کیا ملا؟