فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے خلاف بہادری سے لڑنے والی ہندوستانی نژاد خاتون جاسوس نور عنایت خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 10:00 AM IST | Paris
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے خلاف بہادری سے لڑنے والی ہندوستانی نژاد خاتون جاسوس نور عنایت خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے خلاف بہادری سے لڑنے والی ہندوستانی نژاد خاتون جاسوس نور عنایت خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے اس ذکر کے بعد سوشل میڈیا پر نور عنایت خان کی زندگی اور قربانی کے بارے میں نئی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ واضح رہے کہ نور عنایت خان کو دوسری جنگ عظیم کی ان جری خواتین میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی، انصاف اور انسانی وقار کیلئے اپنی جان قربان کر دی۔وہ برطانیہ کی خفیہ تنظیم ’’اسپیشل آپریشنز ایگزیکٹیو (ایس او ای) کی ایک اہم ایجنٹ تھیں جسے نازی قبضے والے علاقوں میں مزاحمتی تحریکوں کی مدد اور خفیہ معلومات جمع کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔نور عنایت خان ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئیں جو ہندوستانی ثقافت اور صوفی روایات سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ ان کے والد ہندوستانی تھے جبکہ والدہ امریکی تھیں۔ ان کے والدکا تعلق بڑودہ سے تھا ۔ وکی پیڈیا پر درج معلومات کے مطابق ’شیر میسور ‘ ٹیپو سلطان شہید ، نور عنایت خان کے آباواجداد میں شامل ہیں ۔ٹیپو سلطان نور کے والد کے پردادا تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور حزب اللہ جمعہ سے جنگ بندی پرمتفق: امریکی عہدیدار
بچپن سے ہی نور عنایت خان کو ایک نرم دل، حساس اور باوقار شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برطانیہ کی خواتین فضائی فورس میں شمولیت اختیار کی۔ جب نازی جرمنی نے یورپ کے وسیع علاقوں پر قبضہ جما لیا تو برطانیہ نے خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مزاحمتی گروہوں کی مدد کا منصوبہ بنایا۔
۱۹۴۲ء میں برطانوی حکومت نے خواتین کو بھی ایس او ای میں شامل کرنے کی منظوری دی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ خواتین دشمن کے زیر قبضہ علاقوں میں نسبتاً کم شک و شبہ کے ساتھ نقل و حرکت کر سکتی ہیں۔نور نے رضاکارانہ طور پر اس پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور انہیں خفیہ مواصلات، وائرلیس آپریشنز، اسلحے کے استعمال اورمختلف عسکری کارروائیوں کی خصوصی تربیت دی گئی۔ بعض تربیت کاروں کو شبہ تھا کہ ان کی نرم مزاج طبیعت جاسوسی کے خطرناک فرائض کے لئے موزوں نہیں ہوگی لیکن ان کے عزم، زباندانی اور تکنیکی مہارت نے اعلیٰ حکام کو متاثر کیا۔ فرانسیسی زبان پر ان کی بہترین گرفت نے انہیں ایک اہم مشن کے لئے منتخب کروایا۔جون۱۹۴۳ء میں نور عنایت خان کو نازی قبضے والے فرانس بھیجا گیا جہاں وہ ایس او ای کی پہلی خاتون وائرلیس آپریٹر بنیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک ذمہ داری تھی کیونکہ مزاحمتی نیٹ ورک جرمن خفیہ اداروں کی مسلسل نگرانی میں تھے۔چند ہی ہفتوں میں جرمن افواج نے مزاحمتی نیٹ ورک میں دراندازی کر لی اور متعدد لیڈر اور ایجنٹ گرفتار کر لئے گئے۔ ایسے حالات میں نور ان چند افراد میں شامل رہ گئیں جو لندن اور فرانس کے مزاحمتی گروہوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتی تھیں۔برطانوی حکام نے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انہیں فرانس چھوڑنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اس نازک مرحلے پر اپنی ذمہ داری چھوڑ دینا مزاحمتی کارکنوں کو ایک اہم رابطے سے محروم کر دے گا۔ چنانچہ وہ مسلسل خفیہ پیغامات بھیجتی رہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔اکتوبر ۱۹۴۳ء میں نور عنایت خان جرمن حکام کے ہاتھوں گرفتار ہو گئیں۔ سخت تفتیش اور دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے ساتھیوں یا مشن سے متعلق کوئی اہم معلومات افشا نہیں کیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دورانِ تفتیش غیرمعمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی رہیں اور دشمن کو ایسی کوئی معلومات فراہم نہ کیں جس سے دیگر ایجنٹوں کی جان خطرے میں پڑتی۔قید کے دوران انہوں نے فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن دوبارہ پکڑی گئیں۔ اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ بعد ازاں انہیں جرمنی کی ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں کئی ماہ تک سخت جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے جرمن حکام سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ستمبر۱۹۴۴ء میں نور عنایت خان کو جرمنی کے ایک حراستی کیمپ لے جایا گیا جہاں انہیں طویل قید اور اذیتیں دینے کے بعد قتل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حزب اختلاف نیتن یاہو اتحاد پر برتری حاصل کرلے گا: سروے
تاریخی روایات کے مطابق ان کا آخری لفظ ’’لبریٹ‘‘ تھا، جو فرانسیسی زبان میں ’’آزادی‘‘ کے معنی رکھتا ہے۔نور عنایت خان کی زندگی بہادری، قربانی اور آزادی سے وابستگی کی ایک روشن مثال ہے۔ آج بھی برطانیہ اور فرانس میں انہیں دوسری جنگ عظیم کی عظیم ترین ہیروز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی داستان اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ انہیںپس از مرگ کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا جبکہ فرانس نے ان کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پیرس میں ان کا مجسمہ بھی نصب کیا ہے۔