وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جس ملک کی بحری طاقت جتنی مضبوط ہوگی، اس کا معاشی اور اسٹریٹجک اثر بھی اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 4:06 PM IST | Kolkata
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جس ملک کی بحری طاقت جتنی مضبوط ہوگی، اس کا معاشی اور اسٹریٹجک اثر بھی اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جس ملک کی بحری طاقت جتنی مضبوط ہوگی، اس کا معاشی اور اسٹریٹجک اثر بھی اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے اور اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان تیزی سے اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اتوار کو کولکاتا میں تین دیسی ساخت کے بحری جہازوں آئی این ایس اَگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک کو باضابطہ طور پر ہندستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ اس سے قبل کولکاتا میں بین الاقوامی یومِ یوگا کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۲۱؍جون کو عالمی یومِ ہائیڈروگرافی (آبی سروے) بھی منایا جاتا ہے اور یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ آج ہی کے دن ہندوستان کے جدید ترین ہائیڈروگرافک جہاز آئی این ایس سنشودھک کو کمیشن کیا گیا ہے۔
ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے بحری طاقت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’جس ملک کی بحری قوت مضبوط ہوگی، اس کا معاشی اور تزویراتی اثر بھی اتنا ہی طاقتور ہوگا اورہندوستان اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ ہندوستان خود کو اس کے لیے تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیسی طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت سے لے کر آج تک کا سفر صرف نئے جنگی جہازوں کا سفر نہیں بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خود کفالت کا سفر ہے۔ آج آئی این ایس اَگرے، آئی این ایس دوناگِری اور آئی این ایس سنشودھک اسی سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔
ملک میں جہاز سازی کو ایک قومی مشن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے شپ بلڈنگ کے شعبے کے لیے ایک نئے وژن کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد پالیسی اصلاحات کی گئی ہیں۔ گھریلو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ شپ بلڈنگ، شپ ریپیئر اور جہاز کی مرمت کے کام کو ایک قومی مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم میں چھیڑ چھاڑ کو محبت سمجھا جاتا تھا، آج ایسا کرنے والا جیل پہنچ جائے گا: مدھو
وزیر اعظم نے امن اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے دفاعی طاقت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان نے ہمیشہ سے سمندر کو تعاون کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن ہندوستان یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے طاقت ضروری ہے، خوشحالی کے تحفظ کے لیے سلامتی ضروری ہے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے خود کفالت ناگزیر ہے۔ آج آئی این ایس اَگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک اسی جذبے کی علامت بن کر ہندوستانی بحریہ میں شامل ہوئے ہیں۔
ہندوستانی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو کی جانب سے ڈیزائن کیے گئے اور کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز کے تیار کردہ یہ جہاز بحری جنگ، آبی سروے اور آبدوز شکن جنگی صلاحیتوں سے لیس ہوں گے۔ اجتماعی طور پر یہ بحریہ کی متوازن صلاحیت سازی کی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جو گہرے سمندری آپریشنز کو مضبوط بنانے، بحری نگرانی میں اضافہ کرنے اور ساحلی علاقوں کو ابھرتے خطرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوں گے۔دوناگیری پروجیکٹ ۱۷؍ اے کا پانچواں اسٹیلتھ فریگیٹ ہے، جو جدید ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہے، جن میں برہموس سطح سے سطح پر مار کرنے والا میزائل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام شامل ہے۔ اس سے بحریہ کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑٖھئے:ایران کا ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان
سنشودھک بڑے سروے جہازوں کے زمرے کا چوتھا جہاز ہے۔ اسے ساحلی اور گہرے سمندر کے سروے، دفاعی اور شہری مقاصد کے لیے سمندری علوم اور ارضی طبیعیاتی معلومات جمع کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ خودکار آبدوز گاڑیوں اور دور سے چلائے جانے والے آبی آلات سمیت جدید سروے نظاموں سے لیس ہے۔ اَگرے ارنالا کلاس کے آبدوز شکن جنگی جہازوں کا چوتھا جہاز ہے۔ یہ ہلکے ٹارپیڈو، دیسی راکٹ لانچر اور کم گہرے پانی کے سونار نظام سے لیس ہے، جو ساحلی علاقوں میں زیرِ آب خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔