پولیس اور ڈاکٹروں کاغیر انسانی رویہ ایک سنگین مسئلہ

Updated: July 05, 2020, 9:41 AM IST | Jamal Rizvi

کورونا پر قابو پانے سے متعلق پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروںکی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے ان کی پزیرائی جس پرشکوہ انداز میں کی، وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ ان کیلئے نہ صرف تالی اور تھالی بجائی گئی بلکہ ہیلی کاپٹروں سے ان پر پھول بھی برسائے گئے۔ ان کی خدمات بہرحال لائق ستائش ہیں لیکن یہ ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں کی خدمات کی تصویر کا صرف ایک پہلو ہے ۔اس تصویر کا دوسرا رُخ انتہائی کریہہ اور ہیبت ناک ہے

Migrant Worker - Pic : PTI
مہاجر مزدور ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کووڈ ۱۹؍ کی وبا نے ملک میں جو مسائل پیدا کئے ہیں وہ ایک طویل مدت تک معاشرے کو متاثر کریں گے۔ ان مسائل میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ملک کی معیشت اور عوام کے حصول معاش کا ہے ۔ اس وبا نے ملک اور معاشرے کو معاشی اعتبار سے جو نقصان پہنچایا ہے، اس کی بھرپائی کچھ آسان نہ ہوگی۔ اس نقصان کے علاوہ اس وبا نے سماج کے بعض ان حقائق کو آشکار کردیا ہے جو اس نقصان سے کہیں زیادہ مضر ہیں۔ ایسے نقصانات کی تلافی کے آثار بھی دور دور نظر نہیں آتے۔ انسانی سماج کو ان نقصانات کے سبب جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، وہ کئی سطح پر معاشرہ اور فرد کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔کورونا کی اس وبا پر قابوپانے میں حکومتی سطح پر جو انتظامات اور کوششیں کئی گئیں، ان میں پولیس اور ڈاکٹروں کی خدمات کو بڑے نمایاں انداز میںسراہا گیا۔ ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے ان کی پذیرائی جس پرشکوہ انداز میں کی وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ ان کیلئے نہ صرف تالی اور تھالی بجائی گئی بلکہ ملٹری کے ہیلی کاپٹروں سے ان پر پھول بھی برسائے گئے۔ ایک ایسے دور میں جبکہ اس وبا نے انسان کو مسلسل ایک خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے ،ان لوگوں نے کووڈ متاثرین کی جو خدمات کیں وہ بہرحال لائق ستائش ہیں لیکن یہ ڈاکٹروں اور پولیس کی خدمات کی تصویر کا صرف ایک پہلو ہے جو یقیناً بہت دلکش اور تعریف کے لائق ہے۔اس تصویر کا جو دوسرا رخ ہے وہ انتہائی کریہہ اور ہیبت ناک ہے۔ تصویر کے اس رخ کو دیکھنے کے بعد ذہن میں لازمی طور پر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹروں اور پولیس والوں نے انسانیت سے اپنا تعلق پوری طرح تو ڑ لیا ہے ۔
 پولیس اور ڈاکٹروں کے اس غیر انسانی رویے کے دو انتہائی حساس معاملات گزشتہ دنوں ملک کی ۲؍ ریاستوں میں منظر عام پر آئے۔ ان میں پولیس کی زیادتی والا معاملہ تمل ناڈو کے ایک شہر کا ہے اور ڈاکٹروں کی سنگ دلی کے معاملات حیدر آباد اور یوپی کے شہر قنوج کے ہیں۔ان معاملات کی تفصیلات جاننے کے بعد ایک عام انسان یہی سوچے گا کہ ایک طرف ہماری حکومت اور پوری سرکاری مشنری  اس وبا سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے کوشاں و سرگرم ہے اوردوسری جانب یہ پولیس والے اور ڈاکٹر انسانی زندگی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سارے معاملات کا تعلق کووڈ۔۱۹؍ کی وبا اور اس کے سبب پیدا ہونے والے حالات سے ہے۔تمل ناڈو میں باپ بیٹے کی پولیس حراست میں موت نے ایک بار پھر پولیس محکمے کے طرز عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جئے راج اور اس کے بیٹے بینکس کو پولیس نے اس طرح ٹارچر کیا جیسے انھوں نے کوئی انتہائی سنگین جرم کیا ہے، حالانکہ ان کی غلطی محض یہ تھی کہ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کے ذریعہ طے شدہ وقت سے کچھ مدت زیادہ تک اپنی دکان کھلی رکھی تھی ۔ اس غلطی کی پاداش میں پولیس پہلے جئے راج کو تھانے لے گئی اور اسے زد و کوب کیا  اور جب اس کا بیٹا بینکس ، اپنے والد کے بارے میں جاننے کیلئے تھانے پہنچا تو اسے بھی تحویل میں لے لیا گیا اور انتہائی سفاکانہ طریقہ سے باپ بیٹے کو مارا پیٹا گیا اور  اس حد تک انھیں زد و کوب کیا گیا کہ ان دونوں کی جان چلی گئی۔
  تمل ناڈو پولیس نے باپ بیٹے کو جس بے رحمی کے ساتھ مارا پیٹا، اس کی تفصیل جاننے کے بعد ان پولیس والوں کو ایک مہذب سماج کا حصہ نہیں مانا جا سکتا۔ باپ بیٹے کی موت کے بعد جب پولیس کیخلاف ماحول گرمایا تو اس محکمے کے اعلیٰ افسران نے ایسے بیانات دینے شروع کیے جن سے یہ لگے کہ جئے راج اور بینکس خاطی تھے اور ان کیخلاف پولیس کی کارروائی حق بہ جانب تھی۔ ظاہر ہے کہ اس طر ز کے بیانات کا طلسم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا اور بالآخر وہ سچائی سامنے آ گئی جسے چھپانے کی کوشش پولیس اور عدلیہ سے وابستہ بعض ذمہ داران نے کی تھی ۔
 یہ معاملہ اگر چہ تمل ناڈو سے متعلق ہے تاہم اگر ملک گیر سطح پر پولیس کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس محکمے میں کام کرنے والا ایک معمولی اہلکار بھی خود کو قانون اور آئین سے بالاتر سمجھتا ہے ۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام اور معاشرہ کے تئیں اس کی کوئی جواب دہی نہیں ہے اور وہ اپنی خاکی وردی کے رعب میں جو کچھ بھی کرے گا، اس پر کوئی سوال نہیں کرے گا۔ ہندوستانی پولیس کی اس نفسیات نے اس محکمے کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک عام امن پسند شہری پولیس والوں سے بہرطور دوری بنائے رکھنے ہی میں عافیت محسوس کرتا ہے۔کووڈ کی وبا نے ملک گیر سطح پر جو حالات پیدا کر دئیے ہیں، اس میں بھی اس محکمہ سے متعلق اکثر ایسی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہے جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کیلئے اس انتہائی پریشان کن دور میں بھی اس محکمے سے وابستہ بعض لوگ عوام پر اپنی خاکی وردی کی دھونس جمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ بھلے ہی ان دھونس جمانے میں قانون شکنی ہوتی رہے، اس کی انھیں کوئی پروا نہیں ۔ تمل ناڈو کا مذکورہ معاملہ اور اس دوران ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرز کے جو بھی معاملات ہوئے، ان میں پولیس کا یہی رویہ بیشتر سامنے آیا۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ارباب اقتدار اپنے مفاد کیلئے اس محکمے کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے عوض میں وہ اپنے دور اقتدار میں پولیس والوں کو بعض ایسی رعایتیں فراہم کرتے ہیں جو قانون اور آئین کی رو سے ہندوستان کے جمہوری نظام کے منافی ہوتی ہیں۔ پولیس والے اسی کا فائدہ اٹھاکر عوا م کو بات بے بات پریشان کرتے رہتے ہیں اور جب یہ کسی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیںتو ایک باپ اور اس کے بیٹے کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔
 کووڈ کی اس وبا نے عوام اور ڈاکٹروں کے روابط کو جو نئی جہت عطا کی ہے وہ ہندوستانی سماج کیلئے ایک نیک فال ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے ڈاکٹروں نے اس وبا کے متاثرین کے علاج میں جو انہماک دکھایا، وہ اپنی جگہ، ان متاثرین کو جذباتی اور نفسیاتی اعتبار سے اس وبا کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانے کی ڈاکٹروں کی کوششیں لائق ستائش ہیں لیکن عوامی خدمت کے اس انتہائی اہم شعبے سے وابستہ بعض ڈاکٹروں کے ایسے غیر انسانی رویے کی خبریں بھی اس دوران منظر عام پر آتی رہیں جو بہر حال اس مقدس پیشے کو شرمسار کرتی ہیں۔ حیدرآباد کے ایک کووڈ مریض کا یہ بیان گزشتہ دنوں میڈیا کی سرخیوں میں رہا جس میں اس نے کہا تھا کہ سانس لینے میں انتہائی تکلیف کے باوجود ڈاکٹروں نے اسے آکسیجن نہیں دیا۔ ایسی بیماری ، جس میں انسان اپنی زندگی کے متعلق مسلسل غیریقینی اور دہشت کی کیفیت میں مبتلا ہو، ایک ڈاکٹر کا اپنے مریض کے ساتھ یہ رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور ریاستی انتظامیہ کووڈ متاثرین کیلئے جو اقدامات کر رہی ہیں اور ان اقدامات کی تشہیر جس وسیع پیمانے پر کی جارہی ہے کیا ان کی حقیقت ایسی ہی افسوس ناک ہے ۔
 ڈاکٹروں کی سنگ دلی کا ایک معاملہ یوپی کے شہر قنوج کے ایک سرکاری اسپتال کا ہے ۔اس اسپتال کے ڈاکٹروں نے ایک شخص کی منت سماجت پر کوئی تو جہ نہیں دی جو اپنے ایک سالہ بیٹے کو علاج کیلئے یہاں لایا تھا۔ یہ چھوٹا سا بچہ بخار اور گلے کی تکلیف میں مبتلا تھا۔ اس اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے دیکھنے سے صاف منع کردیا اور اس کے والدین کو مشور ہ دیا کہ وہ اسے کانپور لے جائیں۔ والدین نے جب اپنی غریبی کا عذر پیش کیا تو ڈاکٹروں نے اسے اَن سنا کر دیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد اسی اسپتال کے کمپاؤنڈ میں اس بچے نے دم توڑ دیااور باپ اپنے بیٹے کے مردہ جسم کو اپنی گود میں لئے بے بسی اور بیچارگی کے آنسو بہاتا رہا۔ اگر اس سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے اس بچے کابروقت علاج کیا ہوتا تو شاید ماں باپ کو اس کی موت کا غم نہ سہنا پڑتا۔
 اس وقت نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کووڈ کی وجہ سے متعدد پیچیدہ مسائل سے دوچار ہو رہی ہے۔ ان حالات میںڈاکٹروں اور پولیس محکمہ سے وابستہ افراد کی ایسی کارگزاریاں نہ صرف باعث افسوس ہیںبلکہ ان سے انسانیت کا تصور بھی زائل ہوتا ہے۔اس وقت اس طرح کے معاملات کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیںکیا جا سکتا کہ ایسے معاملات اِکا دُکا ہی تو ہو رہے ہیں۔ یہ اکا دکا معاملات بھی انسان اور معاشرہ کو وسیع پیمانے پر متاثر کرتے ہیں اور پھر زندگی کی جد و جہد جاری رکھنے کا ان کا حوصلہ کمزور پڑنے لگتا ہے ۔ اگر اس حوصلے کو مستحکم اور توانا بنائے رکھنا ہے تو عوامی خدمت کے ان دو اہم اور حساس شعبوں کونہ صرف اپنی آئینی ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھانی ہوگی بلکہ ان انسانی قدروں کو محفوظ رکھنے میں بھی تعاون دینا ہوگا جو ان کے اور سماج کے مابین رابطے کو استحکام عطا کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK