• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجٹ الفاظ زیادہ مفہوم کم

Updated: February 02, 2026, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

بجٹ کا اتوار کو پیش کیا جانا روایت سے ہٹ کر ہے۔ یہ اچھا قدم تھا جس میں کاموں کے تئیں حکومت کی سنجیدگی کا اظہار تھا مگر وزیر مالیات کی بجٹ تقریر سن کر ایسا لگا کہ اس میں عوامی فلاح کیلئے بھی چھٹی کا دن ہے۔ اس میں الفاظ زیادہ ہیں ، مفہوم کم۔ جو مفہوم ہے وہ بھی ان عوام کیلئے نہیں ہے جو بدلنے سے زیادہ بگڑنے والے معاشی حالات کی زد پر ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ’’اچھے‘‘ دن کی امید بھی کھوتے جا رہے ہیں ۔

INN
آئی این این
  بجٹ کا اتوار کو پیش کیا جانا روایت سے ہٹ کر ہے۔ یہ اچھا قدم تھا جس میں  کاموں  کے تئیں  حکومت کی سنجیدگی کا اظہار تھا مگر وزیر مالیات کی بجٹ تقریر سن کر ایسا لگا کہ اس میں  عوامی فلاح کیلئے بھی چھٹی کا دن ہے۔ اس میں  الفاظ زیادہ ہیں ، مفہوم کم۔ جو مفہوم ہے وہ بھی ان عوام کیلئے نہیں  ہے جو بدلنے سے زیادہ بگڑنے والے معاشی حالات کی زد پر ہیں  اور ایسا لگتا ہے کہ’’اچھے‘‘ دن کی امید بھی کھوتے جا رہے ہیں ۔ یہ وقت چھوٹی چھوٹی راحت اور سہولت کا نہیں  ہے۔ معاشی نقطۂ نظر سے خارجی حالات جس طرح کا جارحانہ رخ اختیار کئے ہوئے ہیں  ان میں  داخلی حالات کو غیر معمولی تقویت دینے کی کوشش بجٹ کی ایک ایک سطر سے ظاہر ہونی چاہئے تھی۔انفراسٹرکچر پر زور اس سے پہلے بھی تھا۔ ہائی اسپیڈ ٹرینوں  پر زور اس سے پہلے بھی تھا۔ مینوفیکچرنگ پر زور اس سے پہلے بھی تھا مگر انفراسٹرکچر کی حالت یہ ہے کہ نیا بنتا بھی ہے تو ٹوٹ جانے کیلئے۔ اسمارٹ سٹیز کا جتنا شور تھا، ان کے دیدار کو آنکھیں  ترس گئی ہیں ۔ مرمت پر مرمت نئے انفرا پروجیکٹوں  کا جیسے مقدر بن گیا ہے۔ کئی انفرا پروجیکٹ ایسے ہیں  جو شہر کی خوبصورتی کیلئے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں ۔ ہائی اسپیڈ ٹرینوں  کا اعلان سن کر ایسا لگتا ہے جیسے اس کے ذریعہ عوام کا دل جیت لیا جانا طے ہے مگر ان کا جو معیار ہونا چاہئے، کہاں  ہے؟ فضائی سفر کی جو حالت انڈیگو کے بحران کے دوران دیکھنے کو ملی، اس سے پہلے کب سامنے آئی تھی؟ بجٹ طے کرتا ہے کہ حکومت کا آئندہ ایک سال کا رخ کیا ہوگا، سمت کون سی ہوگی اور آگے بڑھنے کی رفتار کیا ہوگی۔ اگر ان تین سوالوں  کا جواب نہ ملے اور عام آدمی دیکھتا اور سوچتا رہ جائے کہ اس میں  کہاں  کیا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ حکومت کی پیشکش میں  ابہام ہے اور حکومت طے نہیں  کر پائی ہے کہ اس کا روڈ میپ کیا ہوگا۔ جب ایسا بجٹ منظور ہو جاتا ہے تو سال بھر طے نہیں  ہو پاتا کہ کن اقدامات کو اولیت دینی ہے اور کن کو مؤخر کرنا ہے۔
اگر پچھلے کئی برسوں  میں  ہم اپنے طے شدہ اہداف تک پہنچنے میں  ناکام ہیں  تو اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہماری ترجیحات اور اہداف طے شدہ نہیں  ہیں  یا دانستہ انہیں  تشنہ رکھا گیا ہے۔ اس سے کام رکتا ہے، اس سے ترقیاتی سفر کو تیز گامی میسر نہیں  آتی۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت کے کئی بہت اچھے پروجیکٹ جیسے میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، اسمارٹ سٹی، مثالی گاؤں  (سانسد آدرش گرام یوجنا) وغیرہ کے اعلان کے وقت جو کشش تھی، وہ اب معدوم ہے۔ موجودہ وقت میں  کسانوں  کے مسائل، نوجوانوں  کے مسائل، خواتین کا تحفظ، اسکول اور یونیورسٹی ایجوکیشن اور پروفیشنل ایجوکیشن کے مسائل، یہ سب انقلابی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ آج بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ملک کی نوجوان آبادی کو بہترین علم و فن سے آراستہ کرکے انہیں  زیادہ سے زیادہ کارآمد بنایا جائے۔ انہیں  سے مینوفیکچرنگ کو طاقت، جہت، ندرت، سمت اور رفتار ملے گی۔ انہیں  سے سروس سیکٹر کو نئی کشش حاصل ہوگی اور انہیں  سے ہمارے روایتی اور غیر روایتی معاشی شعبوں  میں  نیا جوش و خروش پیدا ہوگا۔ ان پر ہماری توجہ ہو تو ان کی توجہ ترقیاتی اہداف پر نتیجہ خیز انداز میں  ہوگی۔ بجٹ ان تمام امور میں  ہمیں  تیر بہدف نہیں  لگا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK