• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاندھی جی کو سنتے اور دیکھتے ہوئے

Updated: February 02, 2026, 1:55 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

یہ تصویر اس ملک کی سیاسی تاریخ کی تثلیث ہے جس پر سوالات قائم کیے گئے مگر تصویر ہے کہ بہت خاموشی کے ساتھ سوالوں کے جواب فراہم کرتی ہے۔گاندھی جی کیا کہہ رہے تھے اور نہرو اور پٹیل نے اس بارے میں کیا کچھ سوچا اور کہا، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تصویر کے اندر بھی ہے اور تصویر سے باہر بھی۔

INN
آئی این این
گاندھی جی کی تحریروں  کو پڑھنے کا حوصلہ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ کم نہیں  ہوا ہے۔ اس کے ثبوت میں  وہ کتابیں  پیش کی جا سکتی ہیں ، جو گاندھی جی پر گزشتہ برسوں  میں  شائع ہوئی ہیں ۔’’دی کلیکٹڈ ورکس آف مہاتما گاندھی ‘‘سو جلدوں  میں  ہے جو پبلیکیشنز ڈویژن دہلی  سے ۱۹۶۷ء میں  شائع ہوئیں ۔ میرے پاس ابتدائی پندرہ جلدیں  ہیں ۔ گاندھی جی کے خیالات کا ایک دفتر ہے جو آج بھی اپنی طرف بلا رہا ہے۔ اس دفتر کو تاریخی اور زمانی ترتیب سے دیکھنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں  اپنی سہولت اور ضرورت کے پیش نظر، گاندھی جی کے نظریات کی تشریح کی جا رہی ہے۔ ایک خیال کو ان کے دوسرے خیال سے کاٹ کر دیکھنے کی روش بہت ہی خطرناک ہے۔ گاندھی درشن کے عنوان سے ہندی میں  گاندھی جی کی جو تحریریں  شائع ہوئی ہیں ، انہیں  بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گاندھی جی کی تحریروں  کو ادھر ادھر سے دیکھنے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا گیا وہ مطالعے کا درست انداز نہیں  ہے۔ اس صورتحال میں  یہ کہنے اور لکھنے کو جی چاہتا ہے کہ کاش ایسا ہوتا کہ گاندھی جی کی تحریروں  کی اجتماعی قرآت کی جاتی۔ پڑھنے والوں  کو باری باری سے متعین کیا جاتا اور سوالات قائم کیے جاتے۔ انفرادی طور پر گاندھی جی کو پڑھنا ایک  اور تجربہ ہے۔ اور یہ تجربہ کبھی مضحکہ خیز بھی بن جاتا ہے اور خطرناک بھی۔ دوسروں  کو خاموش کرنے کے لیے درمیان سے کوئی اقتباس نکالا جاتا ہے اور پھر لوگوں  کے سامنے زور دے کر بلکہ چلا کر پڑھا جاتا ہے۔ یہ خیال بھی نہیں  آتا کہ جس شخص کا اقتباس پڑھا جا رہا ہے اس کی زندگی اور تحریر میں  کتنی تہذیبی شائستگی ہے۔
۶؍اپریل ۱۹۳۰ءکو جب گاندھی جی نے صبح کی پرارتھنا کے بعد مٹھی بھر نمک اٹھا کر انگریزی قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا، اس کے بارے میں  بہت کچھ لکھا گیا۔ یہ ایک علامتی عمل تھا مگر اس میں  کتنی وقتی مگر دائمی تعلیم پوشیدہ تھی کہ ایک معمولی سی شے کو علامتی طور پر استعمال کر کے بھی سیاست اور حکومت کو خبردار کیا جا سکتا ہے۔ ایک مٹھی کی حقیقت ہی کیا ہے لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ایک مٹھی میں  ایک کائنات پوشیدہ تھی۔ مٹھی کے کھلنے اور بند ہونے میں  کتنا وقت لگا ہوگا، مگر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مٹھی بند ہو کر پھر کھلنے والی ہے۔ اس موقع کی تصویر بھی محفوظ ہے۔ گاندھی جی جن قدروں  کے ساتھ زندہ رہے، ان کے بارے میں  اب کوئی شبہ کی گنجائش نہیں  ہے، ہاں  یہ ضرور ہے کہ کسی مسئلے کے تعلق سے، ان کا کوئی خیال کسی کو ممکن ہے پریشان کن اور اجنبی معلوم ہو لیکن گاندھی جی کی نیت اور جذبے پر شک نہیں  کیا جا سکتا۔ گاندھی جی کو اپنی سہولت سے دیکھنے اور پیش کرنے کا مطلب گاندھی جی کے خیالات سے ناانصافی ہے۔ اس سہولت کو سیاسی ضرورت نے پیدا کیا ہے۔ 
گاندھی جی کا نام اگر ہماری زبان پر آتا ہے تو اس کا مطلب سادگی، سچائی اور ذہنی کشادگی ہے اور یہ تینوں  باتیں  ہماری تہذیبی زندگی کے لیے دھیرے دھیرے اجنبی ہوتی جا رہی ہیں ۔سیاست کا مزاج وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے لیکن سیاست کا اعتبار بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ کم تو ہو سکتا ہے ختم نہیں  ہو سکتا مگر صورتحال کیا ہے۔گاندھی جی کی آوازوں  اور تصویروں  کے ساتھ اب وقت گزارنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ ان کی کچھ ایسی آوازیں  بھی محفوظ ہیں  جو ان کی نقل و حرکت کے ساتھ ہیں ۔آواز میں  کتنا ٹھہراؤ ہے اور رفتار کتنی تیز ہے۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں  پہ پھیلی ہوئی ہے اور کہیں  اتنی سنجیدگی کہ وقت کے خیال کا کارواں  ذرا دیر کے لئےٹھہر گیا ہو۔ ایک تصویر میں  گاندھی جی پٹیل اور نہرو کے درمیان ہیں ۔دونوں  گاندھی جی کو دیکھ بھی رہے ہیں  اور سن بھی رہے ہیں ۔ یہ تصویر اس ملک کی سیاسی تاریخ کی تثلیث ہے جس پر سوالات قائم کیے گئے مگر تصویر ہے کہ بہت خاموشی کے ساتھ سوالوں  کے جواب فراہم کرتی ہے۔گاندھی جی کیا کہہ رہے تھے اور نہرو اور پٹیل نے اس بارے میں  کیا کچھ سوچا اور کہا، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تصویر کے اندر بھی ہے اور تصویر سے باہر بھی۔ایک وہ تصویر بھی ہے جس میں  پنڈت نہرو کا ہاتھ پٹیل کے کاندھے پر ہے۔ اس تصویر کو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان دونوں  کے درمیان کہیں  گاندھی جی بھی موجود ہیں ۔ گاندھی جی کی ایک تصویر وہ بھی ہے جو لہو لہان ہے۔ اس کو دیکھنے کی ہمت مشکل ہی سے جٹائی جا سکتی ہے۔ کل اور پرسوں  سوشل میڈیا پر یہ تصویر بہت لوگوں  نے پیش کی۔ گاندھی جی کا وجود ساکت ہے اور آس پاس بیٹھے ہوئے لوگ رو رہے ہیں ۔ گاندھی جی کی شہادت کے بارے میں  آج تک جو کچھ کہا یا لکھا گیا ہے، ان کا خون اس کے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہ خون بظاہر نگاہ سے اوجھل ہے مگر وہ اپنی انسانی اور تہذیبی وراثت کے ساتھ ہمارے وجود میں  گردش کر رہا ہے۔ اسے محسوس کرنے کے لیے اسی قدر اور سچائی کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے گاندھی جی کو اپنی جان دینی پڑی۔ کلیم عاجز کا شعر یاد آتا ہے:
جان دینی ہی پڑی شرح وفا کے واسطے
 بات نازک تھی بڑی مشکل سے سمجھائی گئی 
موجودہ صورتحال میں  گاندھی جی کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گاندھی جی کو سننے اور دیکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ شاید اسی طرح کچھ فضا میں  بہتری آئے۔
 
 
گاندھی جی کی جو تصویریں  سیاہ و سفید میں  ہیں ،انہیں  دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ وقت ہمارے ساتھ ہو گیا ہے۔عام طور پر ان تصویروں  میں  ایک ہی کیفیت ہے۔سفید چادر کے  ساتھ ان کا وجود کتنا سادہ اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔چہرے پر کتنا اطمینان ہے۔ نگاہ بظاہر بہت سامنے کی اشیاء کو دیکھ رہی ہے۔گاندھی جی کی تمام تصویروں  میں  پیشانی پر تین چار گہری ریکھائیں  دکھائی دیتی ہیں ۔یہ ریکھائیں  قدرت کی طرف سے ملی تھیں ، اور وہ وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئیں ۔
پرسوں  فیس بک پر ایک تصویر میں  نے دیکھی،جس میں  دو ڈھائی سال کا بچہ باپ کی گود سے،گاندھی جی کی تصویر کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہے۔گاندھی جی کی تصویر دیوار سے لگی ہوئی ہے،اور بچے کا ہاتھ اسے چھونا بھی چاہتا ہے اور اپنے ساتھ رکھنا بھی چاہتا ہے۔بچے کی یہ تصویر اور گاندھی جی کی طرف اس کا بڑھا ہوا ہاتھ،روشن مستقبل کا استعارہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK