• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دارالحکومت میں بچوں سے جبری مشقت اورانسانی اسمگلنگ کے معاملات بڑھ رہے‘‘

Updated: February 02, 2026, 1:20 PM IST | Agency | New Delhi

ہر سال بیرونی ریاستوں سے بڑی تعداد میں بچوں کو لا کر انسانی اسمگلنگ کے تحت استعمال کیا جاتا ہے، چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے۔

Symbolic sketch of the missing person and the rescued girl. Picture: INN
گمشدہ شخص اور بازیاب بچی کا علامتی اسکیچ۔ تصویر: آئی این این

دہلی سے لاپتہ  لڑکے اور لڑکیاں اگرچہ کم ہی چائلڈ ٹریفکنگ کا شکار ہوتے ہیں، تاہم ہر سال بیرونی ریاستوں سے بڑی تعداد میں بچوں کو دارالحکومت لا کر انسانی اسمگلنگ کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ ان بچوں سے جبری مشقت اور دیگر استحصالی کام کروائے جاتے ہیں۔ اس پورے معاملے سے نپٹنے کیلئے دہلی پولیس نے گمشدہ بچوں اور بڑوں کی تلاش کا ایک معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) وضع کر رکھا ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔  بچوں کے حقوق کے تحفظ اور سلامتی کیلئے  کام کرنے والی ملک گیر تنظیم جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) کے قومی کنوینر روی کانت کے مطابق یکم اپریل ۲۰۲۳ء سے ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان دہلی میں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے۶؍ہزار۷۵۹؍ نابالغ بچوں کو آزاد کرایا گیا۔ ان میں۲؍ہزار۱۳۴؍ لڑکیاں اور۳؍ہزار۲۸۱؍ لڑکے شامل تھے۔ اسی مدت کے دوران دہلی میں۲؍ہزار۴۰۷؍انسانی اسمگلنگ کے مقدمات درج کیے گئے۔یہ تمام بچے بنیادی طور پر اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال سے دہلی لائے گئے تھے۔ملک بھر کی مجموعی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
 تنظیم کے نیٹ ورک سے وابستہ ۲۵۰؍ سے زائد شراکتی اداروں نے یکم اپریل ۲۰۲۳ ءسے ۲۹ ؍جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان ایک لاکھ ۲۵؍ہزار ۴۰۸؍بچوں کواسمگلروںکے  چنگل سے آزاد کرایا۔ اس دوران ۸۶؍ہزار ۴۵۹؍ انسانی اسمگلنگ کے مقدمات درج کروائے گئے۔ آزاد کرائے گئے بچوں میں ۲۸؍ہزار ۷۹۷؍ لڑکیاں اور ۶۷؍ہزار ۳۸۷؍لڑکے شامل ہیں۔ یہ بچے نہ تو اپنے اہلِ خانہ سے بچھڑے تھے اور نہ ہی اپنی مرضی سے گھر سے بھاگے تھے، بلکہ انہیں لالچ، دھوکے اور دھمکیوں کے ذریعے اسمگلنگ کے گینگوں کے جال میں پھنسایا گیا تھا۔ ایسے معاملات کی مؤثر نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ دسمبر ۲۰۲۴ء میں جی ٹی بی ہسپتال کے لیبر روم سے پیدائش کے محض کچھ گھنٹے بعد ایک نومولود بچے کو چوری کر لیا گیا۔ ۳ ؍سال گزر جانے کے باوجود بچہ تاحال لاپتہ  ہے۔ سیماپوری کےرہنے والے کارتک شرما نے پولیس کو بتایا کہ ان کی اہلیہ پوجا جی ٹی بی ہسپتال کے لیبر روم میں داخل تھیں دوپہر تقریباً ۲؍ بجے انہیں لڑکے کی پیدائش کی اطلاع دی گئی۔ اندر جانے پر معلوم ہوا کہ بچے کو نرسری میں منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم نرسری پہنچنے پر پتہ چلا کہ بچہ غائب ہے۔ اسپتال ریکارڈ کے مطابق داخلے کے تقریباً ۱۵؍ منٹ بعد ایک نامعلوم خاتون بچے کو لے کر چلی گئی تھی۔ لاپتہ بچوں کی تلاش کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کیلئے پولیس اہلکاروں کو انعامات اور مراعات دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK