• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عام بجٹ پر اپوزیشن برہم ،مایوس کن،سرمایہ دار نوازاورجھوٹ کا پلندہ قرار دیا

Updated: February 02, 2026, 1:06 PM IST | Agency | New Delhi

سماجوادی پارٹی، سی پی آئی، ٹی ایم سی، کانگریس،بہوجن سماج وادی پارٹی اور بیجو جنتادل کے سربراہان و لیڈران نے مودی حکومت کو گھیرا اور سخت سوالات قائم کئے۔

A shopkeeper in an electronics showroom watches the news in the hope of some good news regarding budget TVs. Picture:  PTI
الیکٹرانکس اشیاء کے شوروم میں ایک دکاندارٹی وی پربجٹ کے متعلق کچھ اچھی خبرکی آس میں خبریں دیکھتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی
ایک طرف مودی حکومت اتوار کو پیش کئے جانے والے مرکزی بجٹ کو عوام کے فائدے کا بجٹ بتارہی ہے۔ وہیں  اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ سماجوادی پارٹی ،کانگریس ،  ٹی ایم سی ، سی پی آئی سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے تنقیدی ردعمل سامنے آیا ہے۔ جانئے کس نے کیا کہا؟
’’بجٹ قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے‘‘
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیا اور کہا ہے کہ اس میں تعلیم، صحت، کسانوں اور خواتین کیلئے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔ اتوار کو بجٹ کے پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا،’’سب کیلئے  مناسب تعلیم کے بغیر ترقی یافتہ ہندوستان کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بجٹ میں تعلیمی شعبے کیلئےکچھ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کوئی بتائے کہ عام لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات دستیاب ہوں، اس کیلئے بجٹ میں کیا کیا گیا ہے؟انہوں نے کہا کہ اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں تعلیم اور صحت کی حالت ایسی ہے کہ سرکاری اسکول بند ہورہے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کی حالت بیحد خراب ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کسانوں کو راحت پہنچانے کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے روزگار اور ان کے دیگر مسائل کے حل کے لیے بجٹ میں کوئی التزام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ۵؍ فیصد متمول آبادی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ملک کی۹۵؍ فیصد آبادی کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں کیا گیا۔بجٹ میں حکومت کے کچھ قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے التزامات کیے گئے ہیں۔ 
’’مرکزی بجٹ مایوس کن ہے‘‘
کانگریس نے مرکزی بجٹ۲۷۔۲۰۲۶ء پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مایوس کن اور پھیکا قرار دیا ہے۔  کانگریس کے مواصلاتی شعبے کے انچارج جے رام رمیش نے بجٹ پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگرچہ بجٹ دستاویزات کا تفصیلی مطالعہ ابھی باقی ہے لیکن بجٹ تقریر کے صرف۹۰؍ منٹ بعد ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے جو ماحول اور تشہیرکی گئی تھی یہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ نہ تو کوئی نئی سمت دکھاتا ہے اور نہ ہی کسی بڑے تغیر یا تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔ رمیش نے بجٹ تقریر کو مبہم اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اہم پروگراموں اور منصوبوں کیلئے بجٹ الاٹمنٹ کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ حکومت نے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے اور عام لوگوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 
’’مرکزی بجٹ سرمایہ دارانہ سوچ سے متاثر‘‘
بہوجن سماج پارٹی (سپریمو) مایاوتی نے کہا ہے کہ بجٹ میں منصوبوں، پروجیکٹوں اور وعدوں کے نام چاہے جتنے بڑے ہوں، اصل کسوٹی یہ ہے کہ ان کا فائدہ زمینی سطح پر عام لوگوں تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے مفاد کی بات کرنا صرف کافی نہیں بلکہ درست نیت کے ساتھ ان پر عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ سرمایہ دارانہ سوچ سے متاثر دکھائی دیتا ہے، جس میں بڑے صنعتکاروں اور مالدار طبقے کو ترجیح دی جارہی ہے، جبکہ غریب، دلت اور بہوجن سماج کی توقعات پیچھے رہ جاتی ہیں۔حکومت کی پالیسی اور نیت کا اندازہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ واقعی غریب اور محروم طبقات کی زندگی میں کتنا مثبت بدلاؤ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کفیل ہندوستان کی بات اسی وقت بامعنی ہوگی جب سرکاری شعبے کو مناسب اہمیت دیتے ہوئے آئین ساز ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے فلاحی آئین کی روح کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ مایاوتی نے یہ سوال بھی کیا کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں کیے گئے دعوے اور وعدے کس حد تک پورے ہوئے اور کیا عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری نظر آئی؟
مرکزی بجٹ روزگار کو نظرانداز کرتا ہے : سی پی آئی
مرکزی بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ء  پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکن پی  سندوش کمار نے کہا کہ یہ بجٹ عام لوگوں کے روزگار کو نظرانداز کرتا ہے اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور بناتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ عوام کی بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات سے منہ موڑنے اور اقتدار و وسائل کو چند محدود ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ کمار نے کہا کہ حقیقی آمدنی میں کمی، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی کے دور میں بجٹ میں نہ تو طلب بڑھانے کے کوئی ٹھوس اقدامات ہیں اور نہ ہی ملازم پیشہ اور متوسط طبقے کو کوئی راحت دی گئی ہے۔ زرعی شعبے کی نظراندازی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کی قانونی کم از کم امدادی قیمت کی مانگ کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور روزگار کی تخلیق کیلئے  ناکافی بجٹ الاٹمنٹ پر تنقید کی اور کہا کہ مینوفیکچرنگ شعبے کو بحال کرنے کے بجائے نجکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کیرالا سمیت ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے بجٹ کو عوام مخالف قرار دیا۔
اودیشہ کیلئے مایوس کن رہا مرکزی بجٹ: نوین پٹنایک
بھونیشور(ایجنسی): بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے سربراہ اور اودیشہ کے سابق وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے مرکزی بجٹ۲۰۲۶ء پرسخت تنقید کی اور اسے ریاست کیلئے’’اب تک کے سب سے مایوس کن بجٹ‘‘ میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں نہ تو اودیشہ کے لیے کوئی قابل ذکر فائدہ ہے اور نہ ہی عوام کی توقعات کا خیال رکھا گیا ہے۔ پٹنائک نے کہا کہ اودیشہ کے عوام کو نام نہاد ’’ڈبل انجن حکومت‘‘ سے بڑی امیدیں تھیں۔ لوگوں کو توقع تھی کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور ریاست کے حق کے مطابق بجٹ کی فراہمی سے ترقی کو رفتار ملے گی، لیکن اس کے بدلے ریاست کے حصے میں بہت کم آیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے اگرچہ اودیشہ میں ’ریئر ارتھ کوریڈور‘ قائم کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کئی اہم معدنیات کی پیداوار میں سرفہرست ہے ۔
مرکزی بجٹ جھوٹ کا پلندہ،مغربی بنگال کیساتھ تعصب برتا گیا:ممتا 
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکز پر جان بوجھ کر مغربی بنگال کو اس کے واجبات سے محروم کرنے کا الزام لگایا۔ کولکاتا ہوائی اڈے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بجٹ میں عام لوگوں یا سماجی تحفظ کیلئے کچھ نہیں ہے اور یہ ریاست کے خلاف سیاسی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’عام شہریوں کیلئے کچھ نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ بنگال میں ہار جائیں گے۔ سیاسی طور پر، وہ یہاں کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے مغربی بنگال کو محروم کیا جا رہا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت میں مرکز فنڈز دینے سے انکار کر رہا ہے کیونکہ اسے ریاست میں انتخابی شکست کا اندازہ ہے۔ ممتا بنرجی نے جی ایس ٹی کے نظام پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمام ریونیو مرکز جمع کر رہا ہے جبکہ مغربی بنگال جیسی ریاستوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK