Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’عبدل‘‘ یا عبدالکلام؟

Updated: March 29, 2026, 5:36 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

غزہ کی جنگ ختم نہیں ہوئی ہے، یوکرین کی جنگ رکی نہیں ہے اور ایران کی جنگ زور و شور سے جاری ہے۔ عالمی معیشتوں کی حالت خراب ہے اور جنگ کی وجہ سے مزید خرابی کا خدشہ بے بنیاد نہیں ہے۔ زمین کی حدت بڑھنے سے موسموں کی تبدیلی بلائے جان بن گئی ہے۔

INN
آئی این این
غزہ کی جنگ ختم نہیں  ہوئی ہے، یوکرین کی جنگ رکی نہیں  ہے اور ایران کی جنگ زور و شور سے جاری ہے۔ عالمی معیشتوں  کی حالت خراب ہے اور جنگ کی وجہ سے مزید خرابی کا خدشہ بے بنیاد نہیں  ہے۔ زمین کی حدت بڑھنے سے موسموں  کی تبدیلی بلائے جان بن گئی ہے۔ غیر معمولی بارش، سمندروں  کی طغیانی اور سونامی اب کسی کو چونکاتی نہیں  ہے۔ اہل اقتدار و سیاست میں  جتنی کھینچ تان اب ہے پہلے کبھی نہیں  تھی۔ خواتین کے استحصال کی داستانیں  عام ہیں ۔ بے روزگاری کی الگ الگ ملکوں  میں  الگ الگ کیفیت ہے مگر اے آئی کی وجہ سے اب کم و بیش ہر ملک میں  اندیشے جنم لے رہے ہیں ۔ غربت اور امارت کی اپنی اپنی کہانی ہے۔ امیر اگر اپنی امارت کا ایک حصہ بھی غربت مخالف مہم پر لگا دیں  تو افلاس زدگان کے چہرے کھل اٹھیں  مگر وہ منافع سے منافع کے گل کھلانا چاہتے ہیں ، افلاس زدگان کو پیٹ بھر کھلانا نہیں  چاہتے۔ حکومتیں  غریبوں  کی فکر میں  بھلے ہی دُبلی ہوتی ہوں ، ان کی اصل ہمدردی امیروں  اور صنعتکاروں  کے ساتھ ہے۔ دنیا میں  جتنا خرچ دفاع کے نام پر ہوتا ہے تعلیم اور صحت کے عنوان پر نہیں  ہوتا۔ طالب علموں  کو ملک کا مستقبل کہا جاتا ہے مگر مستقبل سے طالب علموں  کو جوڑنے کی راہ ہموار نہیں  کی جاتی بلکہ حال کو مستقبل سے لڑا دیا جاتا ہے تاکہ طلبہ قدم قدم پر دشواریوں  سے گزریں ۔ پیپر لیک وغیرہ کے معاملات کو اسی زاویئے سے دیکھنا چاہئے۔ بدعنوانی کے خلاف صف آرا ہونے والے خود بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں  یا اس کی جانب سے آنکھیں  بند کرلیتے ہیں ۔سماج کے کمزور طبقات کا استحصال نہ تو کل کم تھا نہ آج کم ہے۔
ان حالات پر غور کرنا اسلئے اہم ہے کہ بہتری کی کوشش میں  اپنا کردار ادا کیا جاسکے۔ سماج میں  تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جنہیں  حالات کی فکر نہیں  ہوتی، اپنا اُلو سیدھا کرنے کی ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو حالات کا منفی اثر لیتے ہیں  اور مایوسی کو دل میں  جگہ دے بیٹھتے ہیں ۔ تیسری قسم ان کی ہے جنہیں  یہ علم ہوتا ہے کہ وہ حالات کو بدل نہیں  سکتے لیکن اپنا کردار نبھانے سے پیچھے نہیں  ہٹتے۔ ایسے ہی لوگ تبدیلی کا محرک بنتے ہیں ۔ سماج ایسے لوگوں  کو سر آنکھوں  پر بٹھاتا ہے۔
اپنا کردار نبھانے کا جذبہ آبادی کے ہر طبقے میں  ہوتا ہے مگر موثر وہی ثابت ہوتا ہے یا عوام کے وسیع تر حلقے کو وہی مستفید کر پاتا ہے جو یا تو بااختیار ہوتا ہے یا بااثر۔ اسی لئے نوجوانوں  کو بااختیار یا بااثر بننے کی کوشش بہر قیمت کرنی چاہئے۔ دسویں  پاس یا بارہویں  پاس نوجوان اپنی فکر کرنے سے زیادہ کچھ نہیں  کرسکتا۔ جن مٹھی بھر لوگوں  نے کم تعلیمی لیاقت کے باوجود کچھ کر دکھایا وہ لائق تحسین ہیں  مگر ان کی حیثیت استثنیٰ کی ہے۔ بااختیار یا بااثر وہی بن سکتا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اختراع پسندی کے ذریعہ اپنی پہچان بنائی ہو اور ہر خاص و عام کو قائل کرنے والا کارنامہ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اب یہ کہنا کہ تعلیم ضروری ہے فرسودہ گوئی کے مترادف ہے کیونکہ تعلیم ضرورت سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب ایسی تعلیم پر اصرار ہو جو مسابقت کا جذبہ پیدا کرے اور’’عبدل‘‘ نہ بنائے، عبد الکلام بنائے۔ تبھی یہ نوجوان حالات کو بدل سکتے ہیں  ورنہ حالات ان کو بدل دینگے۔ اِس سلسلے میں  کیا یہ دہرانے کی ضرورت ہے کہ خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں  بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے کمربستہ اور کوشاں  نہ ہو؟
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK