Lise Meitnerنے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سائنسی تحقیق، تدریس اور امن کے فروغ میں گزارا، وہ سائنس کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ مانتی تھیں۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 8:59 PM IST | Mumbai
Lise Meitnerنے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سائنسی تحقیق، تدریس اور امن کے فروغ میں گزارا، وہ سائنس کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ مانتی تھیں۔
لیز میٹنر بیسویں صدی کی ایک عظیم مگر طویل عرصے تک نظرانداز کی جانے والی سائنسداں تھیں۔ جنہوں نے نیوکلیئر فزکس کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی پیدائش ۷؍ نومبر۱۸۷۸ءکو ویانا، آسٹریا میں ہوئی تھی۔ اس دور میں خواتین کیلئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے مگر میٹنر نے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلیم جاری رکھی اور بعد ازاں ویانا یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ حاصل کی جو اس زمانے میں خواتین کیلئے ایک بڑی کامیابی تھی۔
۱۹۰۶ءمیں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد، لیز میٹنر ویانا یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والی دوسری خاتون بن گئیں۔ انہوں نے اپنے سائنسی کریئر کا بڑا حصہ برلن میں گزارا، جہاں وہ قیصر ولہلم انسٹی ٹیوٹ برائے کیمسٹری میں فزکس کی پروفیسر اور ایک شعبے کی سربراہ رہیں۔ وہ جرمنی میں فزکس کی فل ٹائم پروفیسر بننے والی پہلی خاتون تھیں۔ اپنے ابتدائی کریئر میں میٹنر جرمنی منتقل ہوئیں جہاں انہوں نے مشہور کیمسٹ اوٹو ہان کے ساتھ طویل عرصے تک کام کیا۔ دونوں نے مل کر تابکاری (Radioactivity) اور نیوکلیئر ری ایکشنز پر تحقیق کی اور ان کی شراکت سائنس میں نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ انہیں ابتدا میں مرد سائنسدانوں کے برابر سہولیات نہیں ملیں یہاں تک کہ انہیں لیبارٹری کے اندر جانے کی بھی اجازت محدود تھی مگر انہوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے اپنا مقام بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: ای پی تھامسن برطانوی مورخ، مصنف اور امن کے حامی تھے
۱۹۳۸ءمیں، جب آنشلوس (آسٹریا کے جرمنی میں الحاق)ہوا، تو بطور یہودی انہیں جرمنی چھوڑنا پڑا اور وہ سویڈن چلی گئیں۔ اسی دوران اوٹو ہان نے ایک اہم تجربہ کیا جس میں یورینیم کے ایٹم کو توڑنے کے آثار ملے۔ میٹنر نے اپنے بھتیجے اوٹو فریش( Otto Frisch) کے ساتھ مل کر اس عمل کی نظریاتی وضاحت پیش کی اور اسے ’ نیو کلیئر فِشن‘(Nuclear Fission )کا نام دیا۔ یہ دریافت بعد میں ایٹمی توانائی اور ایٹم بم کی بنیاد بنی مگر میٹنر نے ہمیشہ اس کے فوجی استعمال کی مخالفت کی۔ افسوسناک طور پر۱۹۴۴ء میں نوبیل پرائز کمیٹی نے کیمسٹری کا نوبل انعام صرف اوٹو ہان کو دیا جبکہ میٹنر کے بنیادی کردار کو نظرانداز کیا گیا۔ اس وقت کے بہت سے سائنسدانوں اور صحافیوں نے ان کے اخراج کو ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا۔
میٹنر نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سائنسی تحقیق، تدریس، اور امن کے فروغ میں گزارا۔ وہ جوہری ہتھیارکے استعمال کے سخت خلاف تھیں اور انہوں نے کبھی بھی مین ہٹن پروجیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت قبول نہیں کی۔ ان کا ماننا تھا کہ سائنس کا مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہئے، نہ کہ تباہی۔ لیز میٹنر کا انتقال۲۷؍ اکتوبر۱۹۶۸ء کو کیمبرج، برطانیہ میں ہوا تھا۔ ان کی قبر پر لکھا گیا’’ لیز میٹنر:ایک ایسی سائنسداں جس نے کبھی اپنی انسانیت نہیں کھوئی۔ ‘‘ آج انہیں نہ صرف ایک عظیم سائنسداں بلکہ ایک اصول پسند اور باحوصلہ خاتون کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےانسانیت کی خدمت کی۔
(وکی پیڈیا برٹانیکا ڈاٹ کام)