معروف امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو کی شہرہ آفاق کہانی’’دی ٹیل ٹیل ہارٹ‘‘ The Tell-Tale Heart کا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 8:56 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
معروف امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو کی شہرہ آفاق کہانی’’دی ٹیل ٹیل ہارٹ‘‘ The Tell-Tale Heart کا اردو ترجمہ۔
آپ کہتے ہیں مَیں پاگل ہوں۔
لیکن ذرا ٹھہر کر سوچئے۔
پاگل آدمی میں ترتیب نہیں ہوتی، نہ صبر، نہ منصوبہ بندی۔ اس کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں، اس کے اعمال میں تسلسل نہیں ہوتا۔ اور مَیں ؟مَیں نے ہر لمحہ ناپ کر، ہر قدم سوچ کر، ہر حرکت کو قابو میں رکھ کر کام انجام دیا۔ اگر یہ پاگل پن ہے تو عقل شاید اس سے کمزور چیز ہے۔ مَیں مانتا ہوں کہ میری طبیعت حساس ہے، میری حسیات عام انسانوں سے زیادہ تیز ہیں، مگر کیا یہی پاگل پن کی علامت ہے؟ نہیں۔
پاگل پن انسان کو بے ترتیب بنا دیتا ہے، اس کی سوچ کو منتشر کر دیتا ہے جبکہ میں نے جو کچھ کیا، وہ مکمل ترتیب، صبر اور شعوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا۔
آپ میری بات غور سے سنیں۔ مَیں ہر تفصیل بیان کروں گا، اور آپ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا ایک پاگل آدمی اس طرح واقعات کو بیان کر سکتا ہے۔
مَیں اس بوڑھے آدمی سے نفرت نہیں کرتا تھا۔ نہ اس نے مجھے کبھی نقصان پہنچایا، نہ کبھی کوئی سخت لفظ کہا بلکہ وہ تو مہربان تھا۔
کبھی کبھی وہ مجھ سے باتیں بھی کرتا، میرا حال پوچھتا، اور اپنے کمزور ہاتھوں سے میرے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دیتا۔
مگر ایک چیز تھی، صرف ایک چیزجس نے میری پوری روح کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کی آنکھ۔ وہ آنکھ انسان کی نہیں تھی۔ وہ گدھ کی آنکھ تھی۔ نیلی، مدھم، اور اس کے اندر ایک عجیب سی سرد چمک تھی۔ جب بھی وہ آنکھ مجھ پر پڑتی، مجھے محسوس ہوتا جیسے کوئی برفانی سایہ میرے اندر اتر گیا ہو۔ میری سانس رک جاتی اور دل سست پڑ جاتا۔ یوں محسوس ہوتا جیسے میرا وجود سکڑ رہا ہو۔ جیسے میں اس کی نگاہ میں ایک شے ہوں، کوئی انسان نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: اوور کوٹ
مَیں نے خود کو بہت سمجھایا کہ ’’یہ صرف آنکھ ہے۔ ایک کمزور بوڑھے کی آنکھ۔ ‘‘
مَیں نے کئی دن خود کو سمجھایا کہ یہ محض ایک وہم ہے۔ مگر ہر بار جب وہ آنکھ میرے سامنے آتی، میری پوری ہستی اس کے خلاف بغاوت کرنے لگتی۔ آخر مَیں نے فیصلہ کیاکہ مجھے اس آنکھ سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔
مَیں نے جلدی نہیں کی۔ مَیں نے انتظار کیا۔ مَیں نے ہر رات کو اپنے مقصد کیلئے مخصوص کر لیا۔ مَیں نے خود کو تیار کیا، جس میں مجھے آٹھ راتیں لگیں۔
ہر رات، آدھی رات کے بعد، مَیں آہستہ آہستہ اس کے کمرے کا دروازہ کھولتا۔ اتنی احتیاط سے کہ دروازے میں ایک چھوٹا سا شگاف پیدا کرنے میں کئی منٹ لگ جاتے۔ میری سانس بالکل قابو میں ہوتی، میرے قدم زمین کو چھوتے بھی تو آواز نہ کرتے۔
پہلی رات: مَیں آہستہ آہستہ دروازہ کھولتا ہوں۔ اتنی احتیاط سے کہ ایک انچ کھولنے میں کئی منٹ لگ جاتے ہیں۔ اندر مکمل اندھیرا ہے۔ مَیں لالٹین کی کمزور روشنی اس کی آنکھ پر ڈالتا ہوں۔ مگر وہ بند ہے۔ مَیں خاموشی سے لوٹ آتا ہوں۔
دوسری رات: مَیں پہلے سے زیادہ محتاط ہوں۔ میرے قدم فرش پر آواز نہیں کرتے۔ میرے ہاتھ کانپتے نہیں۔ مگر آنکھ پھر بند ہے۔ اس کے چہرے پر تھکن ہے۔ جھریاں ظاہر کرتی ہیں کہ اس نے زندگی کے کئی موسم دیکھے ہیں۔ مجھے اس پر ترس آگیا۔
تیسری رات: مَیں اس کی سانسوں کو سنتا ہوں۔ وہ گہری نیند میں ہے۔ مجھے ایک لمحے کیلئے اس پر ترس آتا ہے۔ مگر مَیں خود کو یاد دلاتا ہوں، ’’ یہ آنکھ! یہی مسئلہ ہے۔ ‘‘
چوتھی رات: مَیں خود پر فخر محسوس کرنے لگتا ہوں۔ کیا کوئی اور اتنا محتاط ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی اور اتنی باریکی سے کام کر سکتا ہے؟
پانچویں رات: میری حسیات تیز ہو جاتی ہیں۔ مَیں دیواروں کی سرگوشیاں سن سکتا ہوں۔ مَیں اندھیرے کو محسوس کر سکتا ہوں۔
چھٹی رات: میرے اندر ایک عجیب سا جوش پیدا ہوتا ہے۔ مَیں قریب ہوں۔ اپنے مقصد کے بہت قریب۔
ساتویں رات: مَیں مکمل قابو میں ہوں۔ کوئی خوف نہیں، کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ صرف ایک مقصد، جو بہت قریب ہے۔
آٹھویں رات: اور پھرسب کچھ بدل جاتا ہے۔ جب میں نے دورازہ کھولا تو مجھے اپنی مہارت پر حیرت ہوئی۔ کوئی بھی انسان اتنی خاموشی سے، اتنی باریکی سے دروازہ نہیں کھول سکتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری سماعت غیر معمولی ہو چکی ہے۔ میں اس کی سانسوں کے درمیان وقفہ تک سن سکتا تھا۔ میں نے اپنے اندر ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا۔ جیسے میں کسی بڑے کام کے قریب ہوں۔ مَیں مکمل قابو میں تھا۔ میرے اندر نہ خوف تھا، نہ ہچکچاہٹ۔
لیکن جب مَیں دروازہ کھول رہا تھا کہ اچانک میرا ہاتھ پھسل گیا۔ ایک ہلکی سی آواز ہوئی۔ بوڑھا جاگ گیا۔
’’کون ہے؟‘‘
مَیں ساکت کھڑا رہ گیا۔
مکمل اندھیرا تھا۔ ایک گھنٹہ گزر گیا۔
وہ اب بھی جاگ رہا تھا۔ مَیں اس کی سانسوں کی آواز سن سکتا تھا — تیز، بے ترتیب، خوفزدہ۔ مَیں جانتا تھا وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ مَیں بھی کبھی اسی طرح اندھیرے میں جاگ کر اپنے خوف کا سامنا کر چکا تھا۔
آخر مَیں نے لالٹین کی باریک شعاع اس کی آنکھ پر ڈالی۔ اور وہ آنکھ... کھلی ہوئی تھی۔ وہی نیلی، ٹھنڈی، گدھ جیسی آنکھ۔
اسی لمحے میں نے ایک آواز سنی۔
دھک... دھک... دھک...
یہ اس کا دل تھا۔ خوف سے دھڑکتا ہوا۔ ہر لمحہ، ہر دھڑکن پہلے سے زیادہ بلند۔
ہر لمحہ وہ آواز بلند ہوتی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر
دھک...دھک...دھک...
مجھے لگا جیسے دیواریں بھی دھڑکنیں سن سکتی ہیں۔ جیسے پوری دنیا اس آواز سے گونج رہی ہو۔ مجھے محسوس ہوا جیسے یہ آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہو۔ جیسے پوری کائنات میں اس کی باز گشت ہو۔
اور پھر ایک خیال میرے ذہن میں آیا، اگر کوئی اور بھی اسے سن لے تو؟
اگر پڑوسی جاگ جائیں ؟
اور پھر مَیں مزید برداشت نہیں کر سکا۔ مَیں اس پر جھپٹ پڑا۔
وہ چیخ سکا نہ مزاحمت کرسکا۔
مَیں نے اسے زمین پر گرا دیا۔ اس کی آنکھ آخری بار میری طرف اٹھی۔
پھرخاموشی چھاگئی۔
جب سب ختم ہو گیا تو مَیں نے گہری سانس لی۔ وہ آنکھ اب ہمیشہ کیلئے بند ہو چکی مگر اصل کام ابھی باقی تھا۔ لاش کو چھپانا۔
مَیں نے لاش کو ایک بوری میں بند کیا۔ کوئی خون نہیں، کوئی نشان نہیں۔ مَیں نے فرش کے تختے اٹھائے اور سب کچھ ان کے نیچے چھپا دیا۔ جب تختے واپس رکھ دیئے گئے، تو کمرہ ویسا ہی تھا جیسے پہلے تھا۔ کوئی ثبوت نہیں۔ کوئی نشان نہیں۔ مَیں مطمئن تھا۔
صبح دروازے پر دستک ہوئی۔ مَیں نے اسے کھولا۔ تین پولیس والے کھڑے تھے۔
’’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ رات کو یہاں سے ایک چیخ سنائی دی تھی۔ ‘‘
مَیں مسکرایا۔ ’’اوہ، وہ؟ وہ میری اپنی چیخ تھی۔ ایک خواب کی وجہ سے۔ ‘‘
انہوں نے گھر کی تلاشی لی۔ ہر چیز صاف تھی۔ کوئی ثبوت نہیں۔ مَیں نے انہیں اسی کمرے میں بٹھا دیا۔ بالکل اسی جگہ جہاں فرش کے نیچے وہ دفن تھا۔
مَیں پرسکون تھا۔ مَیں باتیں کر رہا تھا، ہنس رہا تھا، سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ مگر پھر مجھے ایک آواز سنائی دی۔
دھک... دھک...دھک...
مَیں رک گیا۔ نہیں ...یہ وہم ہے۔
مگر آواز بڑھتی گئی۔
دھک...دھک...دھک...
مَیں نے زیادہ زور سے بات کرنا شروع کی۔ پھر ہنسنے لگا۔ مگر آواز بڑھتی گئی۔ اب یہ ناقابلِ برداشت تھی۔ یہ ناممکن تھا کہ وہ اسے نہ سن رہے ہوں ! وہ جانتے تھے! وہ میرا مذاق اڑا رہے تھے! مَیں چیخ اٹھا: ’’بس کرو! تم لوگ سن رہے ہو! تم جانتے ہو!‘‘مَیں زمین کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ ’’وہ یہاں ہے! فرش کے نیچے! میں نے اسے مارا ہے!‘‘
اور پھر...خاموشی۔
آپ کہتے ہیں مَیں پاگل ہوں۔
مگر سچ یہ ہے کہ مَیں نے سب کچھ درست کیا تھا۔ کوئی ثبوت نہیں چھوڑا۔ کوئی غلطی نہیں کی۔ سوائے ایک کے۔
مَیں اپنے ہی دل کی آواز سے بچ نہیں سکا۔ کیونکہ بعض اوقات...انسان کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں ہوتا۔
وہ اس کے اندر ہوتا ہے۔ اور وہی... سب سے زیادہ چیختا ہے۔