ویب سائٹ ’’دی کنورسیشن‘‘ نے ایک سینئر سفارتکار ڈونالڈ ہیفلن سے، جو اَب ٹفٹ یونیورسٹی کے فلیچر اسکول میں معلم ہیں ، ایران امریکہ جنگ کی بابت سوالات کے ذریعہ خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا امریکہ، ایران میں اقتدار کی تبدیلی میں کامیاب ہوسکے گا۔
ویب سائٹ ’’دی کنورسیشن‘‘ نے ایک سینئر سفارتکار ڈونالڈ ہیفلن سے، جو اَب ٹفٹ یونیورسٹی کے فلیچر اسکول میں معلم ہیں ، ایران امریکہ جنگ کی بابت سوالات کے ذریعہ خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا امریکہ، ایران میں اقتدار کی تبدیلی میں کامیاب ہوسکے گا۔ ٹرمپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان کا مقصد اقتدار کی تبدیلی ہے۔ وہ ایرانی عوام کے سب سے بڑے بہی خواہ بنے ہوئے ہیں اور انہیں ’’جابر حکومت‘‘ سے نجات دلانا چاہتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل حکومت مخالف مظاہروں کے وقت انہوں نے ایرانی عوام سے حکومت کو بے دخل کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ یہ سوال کل بھی اہم تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا کہ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف ورغلانا کہاں تک درست تھا اور کیا بین الاقوامی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں مگر اس سے زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ یہ کس سے پوچھا جا رہا ہے۔ اگر ٹرمپ سے پوچھنا ہو تو یہ بے معنی ہے۔ اُن کیلئے ایسا ہر سوال بے معنی ہے جس کا تعلق بین الاقوامی قوانین سے ہے۔ وہ خود کو بین الاقوامی اور اپنے طریق کار کوقانون مانتے ہیں ۔ جنگ نہ کرنے اور کسی جنگ میں شامل نہ ہونے کا وعدہ کرکے ان کی فوج، اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر ایران کو زیر کرنے نکلی ہے۔ اس سے قبل وینزوئیلا پر شب خون مار کر انہوں نے وہاں کے صدر کو گرفتار کیا جو غلط تھا اور ان کے کچھ بھی کرلینے سے صحیح نہیں ہو جائیگا مگر وینزویلا پر کی گئی کارروائی سے ان کا حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بزعم خود یہ مان لیا کہ ایران کو بھی زیر کیا جاسکتا ہے مگر ڈونالڈ ہیفلن کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔
’’کیوں ممکن نہیں ہے؟‘‘ کے جواب میں انہوں نے دی کنورسیشن سے جو کچھ کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایران ایران ہے، وہ کوئی د وسرا ملک نہیں ہے۔ اس انٹرویو میں جوابات مغرب کے نقطہ نظر سے دیئے گئے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ ڈونالڈ ہیفلن سابق امریکی سفارتکار ہیں مگر اسی لئے ان کا مطمح نظر اہم بھی ہے کہ مغربی نظریات کا حامل ہونے اور کئی جوابات خالص امریکی زاویئے سے دینے کے باوجود انہوں نے یہ مانا کہ ایران کو زیر کرنا ممکن نہیں اور جہاں تک اقتدار کی تبدیلی کا تعلق ہے وہ بھی خارج از امکان ہے۔ بقول ہیفلن’’ اگر آپ اعلیٰ قیادت میں شامل ایک ایک شخص کو ختم کردیں تب بھی ان کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ آپ کے کام کے نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وینزویلا ہی کی مثال دی کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد کیا ہوا؟ انہی کی نائب صدر ڈیلسی روڈرگز پر آپ کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔‘‘ ہیفلن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے موجودہ اقتدار میں اتنی گہرائی و گیرائی ہے کہ اگر اس کی اعلیٰ قیادت کے افراد کو ختم کر دیا گیا تب بھی اس (اقتدار) کی چولیں ہلنا مشکل ہے۔
اگر ایرانی عوام کو بہکایا جا سکتا تھا تو امریکہ یہ کام کر ہی رہا تھا، کیوں نہیں اسے کامیابی مل گئی اور میدانِ جنگ میں اترنا پڑا؟ ایرانی عوام کا حوصلہ دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں تردد نہیں ہوسکتا کہ جنگ سے بھی امریکہ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ اُسے بالآخر اپنے حلیفوں کی مدد لے کر مصالحت کرنی ہو گی۔ ایسا ہوا تو ایران اپنی شرطوں پر مصالحت کریگا ورنہ جنگ کو طول دے کر مطمئن اور خوش رہے گا کہ یہ اس کے حق میں ہوگا۔ جو ہراساں کرتا ہے اُسے ہیریس کریں تو شاید قابو میں رہے!