آسٹریلوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ہی رہنے کی اجازت دے۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 10:06 PM IST | Gold Coast
آسٹریلوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ہی رہنے کی اجازت دے۔
آسٹریلوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ہی رہنے کی اجازت دے۔ دی گارجین نیوز کے مطابق یہ مطالبہ ایران میں ایک سرکاری مبصر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کھلاڑیوں کو’’جنگ کے وقت کے غدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ساتھ ’’انتہائی سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔‘‘ ایرانی ٹیم، جو اس وقت ۲۰۲۶ء ویمنز ایشین کپ میں حصہ لے رہی ہے، کو جمعرات کے روز گولڈ کوسٹ پر کھیلے گئے دوسرے گروپ میچ میں آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں ۰۔۴؍گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹیم کا آخری گروپ میچ اتوار کی رات فلپائن کے خلاف ہے، جس کے بعد شیڈول کے مطابق انہیں ایران واپس روانہ ہونا ہے۔ تاہم، ایران میں ریاستی پالیسیوں کے حامی حلقوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کی حفاظت کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور آسٹریلیائی سماجی حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کھلاڑیوں کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر انہیں واپس نہ بھیجے۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک پریزینٹر نے قومی خواتین فٹ بال ٹیم کو اس وقت جنگ کے وقت کے غدار قرار دے دیا جب کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں جاری ایشین کپ کے اپنے پہلے میچ میں قومی ترانہ نہیں پڑھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کا نام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد
ایران ایک ایسے وقت میں براعظمی ٹورنامنٹ کھیل رہا ہے جب وطنِ واپسی پر فوجی تنازع شدت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ گزشتہ پیر کو جنوبی کوریا کے خلاف ۰۔۳؍گول سے شکست سے قبل گولڈ کوسٹ میں جب ایران کا قومی ترانہ بجایا گیا تو کھلاڑی خاموش کھڑی رہیں، تاہم تین دن بعد میزبان آسٹریلیا کے خلاف ۰۔۴؍ سے شکست سے قبل انہوں نے ترانہ پڑھا اور اسے سلامی بھی پیش کی۔
یہ بھی پڑھئے:احمد آباد فائنل سے قبل میدان صاف مہم کا انوکھا سنگ میل
اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے پریزینٹر محمد رضا شہبازی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے حب الوطنی کی کمی دکھائی اور ان کا یہ عمل بے غیرتی کی انتہا ہے۔ پریزینٹر محمد رضا نے ویڈیو میں کہاکہ ’’میں صرف ایک بات کہوں گا: جنگ کے دوران غداروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’جنگ کے حالات میں ملک کے خلاف قدم اٹھانے والے کسی بھی شخص کے ساتھ زیادہ سختی سے نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہماری خواتین فٹ بال ٹیم کا قومی ترانہ نہ گانے کا معاملہ ہے... ان لوگوں کے ساتھ سختی ہونی چاہیے۔‘‘ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایرانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے مخصوص اندازِ احتجاج یا بیانات کی وجہ سے وطن واپسی پر قانونی کارروائیوں اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔