ہیگ گروپ اسرائیل کے خلاف سفری پابندی ، آبادکاری کی بندش اور اسلحہ کی ترسیل کو محدود کرنے جیسے اقدام پر غور کر رہا ہے، تاکہ اسرائیل کو فلسطین کی سرزمین پر غیر قانونی قبضے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 10:06 PM IST | Hague
ہیگ گروپ اسرائیل کے خلاف سفری پابندی ، آبادکاری کی بندش اور اسلحہ کی ترسیل کو محدود کرنے جیسے اقدام پر غور کر رہا ہے، تاکہ اسرائیل کو فلسطین کی سرزمین پر غیر قانونی قبضے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
بدھ کو تقریباً۴۰؍ ممالک کے نمائندے ہیگ میں جمع ہوئے تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی اور فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی قبضے کے باعث اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ہیگ گروپ کی جانب سے منعقد کردہ اور جنوبی افریقہ اور کولمبیا کی سربراہی میں ہونے والا یہ اجلاس، اس سال کے اوائل میں اتحاد کے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ برازیل، چین، ملائیشیا، قطر، اسپین اور ترکی سمیت متعدد ممالک کے عہدیداروں نے ڈچ شہر میں ہونے والی بات چیت میں شرکت کی۔اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں، گروپ نے اس لمحے کو بین الاقوامی عزم کے امتحان کے طور پر پیش کیا اور خبردار کیا کہ حکومتوں کو یا تو بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے یا اس کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔بیان میں کہا گیا، ’’ہر حکومت کے سامنے انتخاب واضح ہے: ملی بھگت یا تعمیل، اور مزید کہا کہ تاریخ ریاستوں کا فیصلہ ان کے بیانات سے نہیں بلکہ ان کے اقدامات سے کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے اسکول پر حملہ: امریکی تحقیقات میں ممکنہ امریکی کردار کا اعتراف
دریں اثناءشرکاء نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں اور غزہ میں نسل کشی سے متعلق احتسابی طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کردہ تجاویز کا جائزہ لیا۔زیرغور ایک تجویز میں ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کی اپنی سرزمین میں داخلے کے وقت اضافی جانچ پڑتال کریں۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ جو افراد اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں، انہیں مشتبہ جنگی جرائم سے متعلق موجودہ قومی قوانین کے تحت اپنی فوجی خدمات کا اعلان کرنا چاہیے۔چونکہ زیادہ تر اسرائیلی شہری۱۸؍ سال کی عمر کے بعد لازمی فوجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس اقدام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جانچ بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر احتساب کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
جبکہ دوسرا اقدام مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیلی بستیوں پر مرکوز ہے۔ حکومتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بستیوں کےغیر قانونی ہونے کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور ان علاقوں میں تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائیں۔یہ تجویز کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور دیگر تنظیموں کی بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی پہچان یا مادی امداد فراہم کرنے سے گریز کریں جو مقبوضہ سرزمین پر اسرائیل کی غیر قانونی موجودگی کو مضبوط بنا سکے۔اس کے علاوہ تیسری تجویز اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون پر مرکوز ہے۔ اس میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسلحے، بارود اور کسی بھی دوہرے استعمال والے مواد کی منتقلی یا ترسیل روک دیں جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں معاون ثابت ہو سکے۔ ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خریداری کی پالیسیوں اور عوامی معاہدوں کا جائزہ لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی رقم بالواسطہ طور پر اسرائیل کے قبضے کی حمایت نہ کر رہی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی قانون سازوں کا انتباہ، اسرائیل ایران جنگ کو بطور ڈھال استعمال کرسکتا ہے
واضح رہے کہ ہیگ گروپ کا قیام جنوری۲۰۲۵ء میں اس مقصد سے کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کےخلاف بین الاقوامی ردعمل کو مربوط کیا جا سکے۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر نو ممالک شامل تھے لیکن اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تقریباً ۴۰؍ریاستیں اس میں حصہ لے رہی ہیں، جن میں چین جیسی بڑی معیشتیں بھی شامل ہیں۔اگرچہ اس ہفتے زیر بحث تجاویز کو ابھی باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا گیا ہے، تاہم گروپ نے کہا کہ انہیں مستقبل میں ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاس میں پیش کرنے سے پہلے مزید وسعتدی جائے گی، جہاں حکومتیں ان اقدامات پر اجتماعی طور پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کریں گی۔یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت غزہ میں اپنی فوجی مہم پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے، جس میں دسیوں ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور خطے کے بیشتر شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔اگر اس گروپ کے اقدامات عملی طور پر نافذ ہوجاتے ہیں تو یہ اسرائیل کے خلاف اب تک کا سب سے مربوط بین الاقوامی اقدام ہوگا۔