پانچ ریاستو ںمیں اسمبلی الیکشن ہوا مگر پولنگ سے پہلے بھی اور پولنگ کے بعد بھی جتنا مغربی بنگال موضوع بحث ہے کوئی اور ریاست نہیں۔ اس مضمون میں ممتا کی ہار سے بحث کی گئی ہے۔
مغربی بنگال۔ تصویر:آئی این این
اب جبکہ ہر طرح کا شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی ختم ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی الیکشن ہارا گیا یا جیت لیا ہے، آئیے یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہمالیائی یلغار کے نتیجے میں ترنمول کانگریس کا قلعہ ڈھنے کے اسباب کیا رہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہے بھی اور نہیں بھی کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ ایسے دکھائی دے رہے ہیں جن کیلئے ترنمول دور کے خاتمے پر اپنی خوشی کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔وہ چاہے بہت کامیاب تاجر ہوں یا بنگالی بھدرلوک، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی خوشیاں منانے والوں میں شامل ہیں جنہوں نے ممتا کے دور میں فائدہ ہی فائدہ بٹورا۔ایسا جوش و خروش، ایسی سیاسی تلخی اور اقتدار کی تبدیلی کا ایسا جنون بنگال میں اب سے پہلے ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں دیکھا گیا تھا جو ایمرجنسی کے بعد منعقد کیا گیا تھا۔ اس وقت کے جو معاون ریٹرننگ آفیسر تھے ان کیلئے رائے دہندگان کے جوش و خروش کی آندھی کے سامنے خود کو قابو میں رکھ کر ووٹوں کی گنتی کرنا کسی بڑی آزمائش سے کم نہیں تھا۔
اس بار، غیر جانبدار رائے دہندگان ہی نہیں ترنمول کے حامی بھی محسوس کررہے تھے کہ عوام میں غصہ ہے اور اسی غصے سے تبدیلی کی خواہش بیدار ہوئی ہے۔بہت سوں نے بی جے پی کی کامیابی کو اس کی طاقتور اور خرچیلی انتخابی مہم کا نتیجہ قرار دیا تو کسی نے طرفدار اور جانبدار میڈیا کو مورد الزام ٹھہرایا، کچھ نے اسے بنگال کے امیر اور متوسط طبقے کے اچانک خود کو کچھ سمجھنے اور اپنی طاقت کا احساس کروانے کے جذبے کا ثمرہ قرار دیا۔ چائے خانوں پر بیٹھے لوگوں اور سوشل میڈیا کے صارفین میں بھی بحثیں چلتی رہیں ۔ بہت سوں کا یہ بھی خیال تھا کہ بنگالی عوام کے سوچنے سمجھنے کا انداز الگ ہے اور وہ ایسی ہندی اور ہندو کی بات کرنے والی پارٹی کو ووٹ نہیں دینگے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو نہیں ہوسکتا تھا وہ ہوچکا ہے یعنی اگر یہ طے تھا کہ بنگال بی جے پی کیلئے ناقابل تسخیر ہے تو اس نے تسخیر کرکے بتا دیا ہے۔
دراصل ممتا بنرجی کا قلعہ توپ کے دو گولوں سے مسمار ہوا ہے۔ پہلا بدعنوانی اور دوسرا بے روزگاری۔بلاشبہ ان کی حکومت نے فائدہ پہنچایا اور اسکیمیں جاری کیں مگر ان سے وقتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ کوئی خاندان ان اسکیموں کے سہارے زندگی نہیں گزار سکتا۔ وہ تھکا ہوا، بے روزگار اور نہایت کم اُجرت پانے والا نوجوان جو ’’سویگی‘‘ کے ڈلیوری بوائے کے طور پر کام کررہا ہے یا ریپیڈو بائک کے ذریعہ چند روپے کما لیتا ہے یہ دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھتا ہے کہ اُس کے پڑوس میں رہنے والا ٹی ایم سی لیڈر تین منزلہ عمارت میں منتقل ہوچکا ہے جبکہ کل تک وہ چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا جس کی چھت ٹپکتی تھی۔ ان لیڈروں سے میونسپل حکام اور مقامی پولیس کے اہلکاروں کو بھی شکایت ہے کیونکہ ان کی پشت پناہی میں خوانچہ فروشوں سے فٹ پاتھ اٹے پڑے ہیں اور راستہ چلنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اگر کسی نے اپنی عمارت میں توسیع کرلی یا مرمت کروائی ہے تو لوگ پہنچ جاتے تھے تاکہ غیر قانونی توسیع یا مرمت کے نام پر پیسے وصول کئے جائیں۔ عمارتیں بنانے والے پروموٹرس کے پاس ان لیڈروں کی ’’فی مربع فٹ‘‘ کے حساب سے مٹھی گرم کرنے کے علاوہ چارہ نہیں تھا وہ بھی کسی ایک سطح پر نہیں بلکہ کئی سطحوں پر۔
کسی بھی بڑے صنعتی گھرانے نے ریاست میں سرمایہ کاری نہیں کی کہ وہاں سے ٹاٹا کو بھگایا گیا تھا۔ ’’بنگال یعنی بزنس‘‘ کا نعرہ کھوکھلا تھا۔ فوٹو کھینچے جاتے اور جلسہ ختم ہوجاتا۔ اس طرح اندر ہی اندر شکایت نے برہمی کا روپ دھارن کرلیا۔ پارٹی کے جو لوگ کچھ کہہ سکتے تھے اُنہوں نے حوصلہ نہیں دکھایا۔ پارٹی چھوڑ کر بات کریں تب ہی بات ہوسکتی تھی۔یہ ساری باتیں بنگال میں تھیں اس کے باوجود سب کچھ ٹھیک تھا مگر جس چیز نے حالات کو یکسر پلٹ کر رکھ دیا وہ بلاشبہ ایس آئی آر ہے۔ اس کا طریق کار انتخابی قوانین اور ضابطوں سے میل نہیں کھاتا۔ایسا لگتا ہے کہ کارپوریٹ سے وابستہ ماہرین قانون اور اسٹراٹیجسٹ (منصوبہ ساز) کہلانے والے لوگوں کو اس کام پر مامور کیا گیا تھا جنہیں محنتانہ یا معاوضہ کے طور پر غیر معمولی رقم ادا کی گئی۔ پارلیمانی انتخابات کا تجربہ رکھنے والے لوگ سو فیصد اعتماد کے ساتھ کہیں گے کہ ایس آئی آر جس شکل میں نافذ کیا گیا وہ نہ تو افسرشاہوں کا منصوبہ ہوسکتا ہے نہ ہی انتخابی ماہرین کا۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس منصوبہ کے ذریعہ غلطیاں تلاش کی گئیں، اس میں دہشت پیدا کرنے کا عنصر تھا اور ووٹر کو ووٹنگ کا حق دینے سے زیادہ ووٹر کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کا منشاء تھا چنانچہ میں مجھے لگتا ہے کہ یہ منصوبہ کہیں اور تیار ہوا اور جب ہر طرح کا تعاون کرنے والے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے اس کے نفاذ کی ہامی بھرلی۔اس منصوبے کے تحت جس کو انتخابی لسٹ میں شامل رکھنا تھا اُسے رکھا گیا، جس کا نام ہٹانا تھا ہٹا دیا گیا۔ اس طرح ۹۰؍ لاکھ رائے دہندگان کو محروم کیا گیاجن میں سے نصف تعداد ان لوگوں کی ہے جن کے محروم کئے جانے پر بحث ہوسکتی ہے یعنی جو ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ غلط نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے معاملے کی شنوائی کی تو درمیان سے سرکاری افسران و کارکنان کو ہٹا دیا اور عدالتی افسران کو ذمہ داری دے دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پولنگ کے دن ۲۷؍ لاکھ رائے دہندگان اپنے جمہوری حق سے محروم تھے۔ جہاں الیکشن ہوتا ہے وہاں کے ’’جانبدار‘‘ افسران کو، جن کا تعلق ریاستی حکومت سے ہے، ہٹایا جاتا ہے (الیکشن کمیشن کے ذریعہ) مگر بنگال میں جتنے افسران کو ہٹایا اُن کی تعداد اب تک کے انتخابات میں ہٹائے گئے افسران کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ تھی۔ اتنا ہی نہیں، ڈھائی لاکھ مرکزی مسلح فوجیوں کو لایا گیا تاکہ ’’ آزادانہ اور تشدد سے پاک‘‘ الیکشن کروایا جائے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ بی جے پی کو اس کی طاقتور انتخابی مہم کا فائدہ پہنچا ہے تو اسے یاد دلانا ضروری ہے کہ الیکشن میں بی جے پی کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے والی ایک طاقت آر ایس ایس کی بھی ہے اُسے کیوں فراموش کیا جائے۔ پیسے کا کھیل بھی ہوا جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ممتا نے سیکولر پارٹیوں کی دال نہیں گلنے دی یہ بھی ایک وجہ رہی جس کے سبب عوام کے سامنے ٹی ایم سی کا ایک ہی متبادل، بی جے پی، تھا جس کی جے جے کار ہوگئی۔