کے سی وینوگوپال ا ور وی ڈی ستیشن مضبوط دعویدار، اس کے علاوہ رمیش چینی تھلا کا نام بھی سامنے آرہا ہے،ستیشن کےحامی سڑکوں پر اُترے۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 9:04 AM IST | Tel Aviv
کے سی وینوگوپال ا ور وی ڈی ستیشن مضبوط دعویدار، اس کے علاوہ رمیش چینی تھلا کا نام بھی سامنے آرہا ہے،ستیشن کےحامی سڑکوں پر اُترے۔
کیرالا اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت کے باوجود کانگریس پارٹی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ(یو ڈی ایف) میں اس بات پر جھگڑا شروع ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر کس کا انتخاب کیا جائے۔ یو ڈی ایف نے۱۴۰؍ رکنی اسمبلی میں ۱۰۲؍نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ یہ جیت اہم ہے، لیکن وزیراعلیٰ کے چہرے پر اندرونی کشمکش پارٹی کے لیے بڑا درد سر ہے۔ سی ایم کے چہرے کے لیے دو اہم دعویدار ہیں: وی ڈی ستیشن اور کے سی وینوگوپال۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا‘‘
وی ڈی ستیشن کی حمایت میں کانگریس کارکنان سڑکوں پر اترے
وی ڈی ستیشن سابقہ اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر تھے۔ گزشتہ ۵؍ سال کے دوران انہوں نے اسمبلی میں کیرالا کے وزیر اعلیٰ پی وجین پر بار بار تنقید کی ہے اور حکومت کے خلاف جارحانہ موقف بھی اختیار کیا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی اور کئی انتظامی مسائل پر حکومت پر حملہ کیا۔ ستیشن نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ اگر یو ڈی ایف نے۱۰۰؍ سیٹیں نہیں جیتیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ انتخابی نتائج ستیشن کےدعوؤں کے مطابق تھے۔ ایسے میں پارٹی کارکنوں کا ماننا ہے کہ اگر کیرالا میں یو ڈی ایف جیتی ہے تو اس کی وجہ وی ڈی ستیشن ہے۔ کیرالا کے بہت سے علاقوں میں کانگریس کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور ’ہم وی ڈی چاہتے ہیں ‘ ،’جس نے لڑا وہ حکومت کرے‘، جیسے نعرے لگائے ۔ اس دوران کے سی وینوگوپال بھی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔
کے سی وینوگوپال کے ساتھ رمیش چینی تھلا بھی دوڑ میں
کے سی وینوگوپال کا نام دوڑ میں شامل کیے جانے کے بعد کیرالہ میں وزیر اعلیٰ کے چہرے کو لے کر تنازع بڑھ گیا۔ کے سی وینوگوپال راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ کانگریس کے ۶۳؍منتخب اراکین اسمبلی میں سے زیادہ تر ان کے حامی ہیں۔ اس کے باوجود، عام لوگوں کا ماننا ہے کہ ستیشن نے پانچ سال تک اپوزیشن کی قیادت کی اور نچلی سطح پر سی پی آئی (ایم) حکومت کے خلاف لڑائی لڑی۔ لہٰذا، اگر پارٹی ریاست میں انتخابات جیتی ہے تو ستیشن کو انعام دیا جانا چاہئے، وینوگوپال کو نہیں۔ وینوگوپال قانون ساز اسمبلی کے رکن نہیں ہیں اور کانگریس نے انتخابات سے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ رکن پارلیمنٹ کو اسمبلی الیکشن میں نہیںاتاراجائےگا۔واضح رہے کہ وینوگوپال الپوزا سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔
کے سی وینوگوپال کے ساتھ کانگریس لیڈر رمیش چینی تھلا کے نام کی بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ کانگریس میں ایک طبقہ کے سی وینوگوپال کے ساتھ رمیش چینی تھلا کو بھی دعویدار تسلیم کررہا ہےکیونکہ ستیشن سے پہلے وہ بھی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وہ پھول کھلکے رہیں گےجو کھلنے والے ہیں!
پارٹی قیادت کو کیا چیلنج درپیش ہے؟
کیرالا میں کانگریس کا مسئلہ صرف وزیرا علیٰ کے طور پر دو لیڈروں کے درمیان انتخاب کا نہیں ہے۔ پارٹی کے سامنے مشکل یہ بھی ہےکہ اگر ستیشن کو نظر انداز کیاگیا تو ان کے کارکنوں میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف وینوگوپال کو سائیڈ لائن کرنے سے مرکزی قیادت کمزور ہو سکتی ہے ۔ کارکنوں کے سڑکوں پر احتجاج سے پارٹی کی شبیہ خراب ہوئی ہے اور ریاستی صدر سنی جوزف کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کے خلاف انتباہ کے باوجود وہ سڑکوں پر نکلنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیرالا کی تاریخ میں ایسا اس سے پہلے ہو چکا ہے جب ۲۰۰۶ء میں سی پی ایم کے سامنے اچیوتانندن اور پی وجین کے درمیان تنازع کھڑا ہوا تھا۔ پارٹی نے اچیوتا نندن کو نظر انداز کردیا تھا لیکن کارکنان ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے جس کے سبب انہیںہی وزیر اعلیٰ بنایا گیاتھا ۔ اس وقت، اچیوتا نندن ، اپوزیشن لیڈر کے طور پر کانگریس کے خلاف کھڑے تھے۔