ماہِ مبارک کے آخری چند دنوں میں آئیے خود سے پوچھیں کہ رمضان سے ہم نے کیا سیکھا، اس میں کیا عہد کیا، کیا عزم کیا، اس کی رحمتوں اور برکتوں کے درمیان رہتے ہوئے آئندہ کے بارے میں کیا سوچا؟ ممکن ہے ایسے سوال ذہن میں نہ آئے ہوں مگر ان پر غور کرنا ضروری ہے۔
ماہِ مبارک کے آخری چند دنوں میں آئیے خود سے پوچھیں کہ رمضان سے ہم نے کیا سیکھا، اس میں کیا عہد کیا، کیا عزم کیا، اس کی رحمتوں اور برکتوں کے درمیان رہتے ہوئے آئندہ کے بارے میں کیا سوچا؟ ممکن ہے ایسے سوال ذہن میں نہ آئے ہوں مگر ان پر غور کرنا ضروری ہے۔ تسلیم کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے خاطرخواہ عبادت کی مگر کیا یہ عزم کیا کہ اگر ایسی نہیں تو معیار و مقدار کے اعتبار سے اس جیسی عبادت اب تسلسل کے ساتھ دیگر مہینوں میں بھی کرینگے؟ مان لیا کہ ہم نے پورے روزے رکھے اور یہ جانتے ہوئے رکھے کہ روزہ خود پر کنٹرول سکھاتا ہے مگر کیا یہ عزم بھی کیا کہ خود پر کنٹرول کی جو ٹریننگ رمضان میں ملی وہ برقرار رہے گی اور اب زندگی کے ہر معاملے میں ہمارے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوگا، لہجے میں نرمی اور معاملہ فہمی آئیگی، اشتعال گھٹ جائیگا، ضد کم ہوگی اور اب اَنا دیوار نہیں بنے گی؟ رمضان کا مقصد ہے: ’’تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ مانا کہ ہم تقویٰ کے مفہوم سے واقف ہیں اور تقویٰ ہماری عبادات کے محور و مرکز میں تھا مگر اب جبکہ اس سال کا رمضان قریب الختم ہے، کیا ہم مطمئن ہیں کہ ہم میں تقویٰ پیدا ہوا؟ اگر ہوا تو کتنا؟
رمضان دین مبین کے تربیتی نظام کا بہت قیمتی باب ہے۔ تربیت کا معنی یہ نہیں کہ سیکھو اور بھول جاؤ۔ اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ جو سیکھا اسے وقتاً فوقتاً برتو یا طے کرو، رمضان میں برتو اور غیر ِ رمضان میں نہ برتو۔ تربیت یہ ہے کہ پہلے کی اور بعد کی زندگی میں ا س کی وجہ سے نمایاں تبدیلی آجائے۔ پہلے کی زندگی میں خدا ترسی نہیں تھی تو اب ہو، صلہ رحمی اور خیر خواہی کم تھی تو اب بڑھ جائے، نرمی برائے نام تھی تو اب قابل ذکر ہوجائے، رشتہ داروں ، عزیزوں اور دیگر متعلقین سے رابطہ خوشگوار نہیں تھا تو اب ہوجائے، نیکی کی عادت نہیں تھی تو اب سوچ سوچ کر یا کھوج کھوج کر نیکی کی جائے اور ذہن نشین رکھا جائے کہ محض چند اعمال نیکی نہیں ۔ نیکی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ مسکرانا بھی نیکی ہے اور خیریت دریافت کرنا بھی نیکی ہے۔ دُعا کرنا بھی نیکی ہے اور اچھا گمان رکھنا بھی نیکی ہے۔ عیادت کرنا بھی نیکی ہے اور جو نہیں مانگتا اس کو دینا بھی نیکی ہے۔ قرض کا بوجھ اتارنا بھی نیکی ہے اور بھوکے کو کھلانا بھی نیکی ہے۔ کسی کو راستہ دینے کیلئے بائیک کی رفتار کم کرنا بھی نیکی ہے اور راستے میں اس طرح حائل ہونے سے بچنا بھی نیکی ہے کہ آنے جانے والوں کو تکلیف ہو۔ حق و انصاف کا ساتھ دینا بھی نیکی ہے اور حق و انصاف کا ساتھ دینے والوں کی قدر کرنا بھی نیکی ہے۔ محض چند اعمال کو نیکی سمجھنا خود پر سیکڑوں نیکیوں کے دروازے بند کرلینا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم بہت سی نیکیوں کو نیکیاں سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ نیکی سے دل جیتے جاتے ہیں ، نیکی سے مزید نیکیوں کی راہ ہموار ہوتی ہے اور نیکیاں نامہ ٔ اعمال کو وزن عطا کرتی ہیں ۔ اگلے وقتوں کے لوگ کہتے تھے پتہ نہیں کون سی نیکی آڑے آگئی کہ ہم فلاں نقصان سے بچ گئے۔ یہ تصور آج کیوں مفقود ہوگیا؟ رمضان نے سازگار ماحول پیدا کرکے نیکیوں پر اس لئے نہیں اکسایا کہ رمضان بعد نیکیوں کا دفتر بند کر دیا جائے۔ رمضان نے نیکی کی رغبت پیدا کی، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ رغبت کو عادت بنالیں ۔ رغبت عادت بن گئی تو جلد ہی مزاج بن جائیگی اور اگر نیکی کا مزاج بن گیا اسے سعادت دارین سمجھنا غلط نہیں ۔ تب نامۂ اعمال کا، بہ شرط قبولیت، سیدھے ہاتھ میں ملنا یقینی ہوگا، ان شاء اللہ۔