• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش کمار کیخلاف کارروائی فی الفور ہو!

Updated: September 29, 2026, 2:09 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

بدھ کو معاصر انگریزی اخبار ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ کی بیک وقت پانچ تفتیشی رپورٹوں نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس رپورٹ کے انکشافات اب تک کے انکشافات (بالخصوص وہ جو راہل گاندھی نے کئے تھے) کے علاوہ ہیں۔

Gyanesh Kumar. Picture: INN
گیانیش کمار۔ تصویر: آئی این این

بدھ کو معاصر انگریزی اخبار ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ کی بیک وقت پانچ تفتیشی رپورٹوں نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس رپورٹ کے انکشافات اب تک کے انکشافات (بالخصوص وہ جو راہل گاندھی نے کئے تھے) کے علاوہ ہیں۔ ان میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے طور طریقوں پر سنگین اور تشویشناک سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ یہ انکشافات اس حد تک ٹھوس اور ناقابل تردید ہیں کہ الیکشن کمیشن ان میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں دے پایا۔ اس کی جانب سے وضاحت تو منظر عام پر آئی ہے مگر لنگڑی لو‘لی وضاحت مدلل انکشافات کے سامنے ٹھہر پانے میں بُری طرح ناکام ہے۔ معلوم ہوا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں ملک بھر میں جو پریشانی لاحق ہوئی اور ہو رہی ہے اور جس طرح لاکھوں ووٹروں کو انتخابی فہرست سے باہر کردیا گیا، وہ اپنی جگہ ہے، اس پر اپوزیشن پارٹیوں کا ردعمل اور احتجاج بھی اپنی جگہ ہے، خود الیکشن کمشنروں میں سخت اختلاف تھا، باقی دو کمشنروں نے کئی اقدامات کو غیر قانونی اور غیر آئینی بتایا (مثلاً فارم ۶؍ جس میں ترمیم و تبدیلی کا حق کمیشن کو نہیں صرف پارلیمنٹ کو ہے) مگر چیف الیکشن کمشنر چشم پوشی کرتے رہے۔ تو کیا شری گیانیش کمار نے خود کو آئین سے بڑا تصور کرلیا تھا کہ ساتھی کمشنروں تک کو اعتماد میں لینے کے روادار نہیں تھے؟ جو معاملات مذکورہ رپورٹ کے ذریعہ سامنے لائے گئے ہیں اُن سے واضح ہوچکا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ’’مفصل اور جامع نظر ثانی‘‘ نہیں بلکہ کچھ اور ہے جس کا پہلے دن سے شک تھا۔

یہ بھی پڑھئے:کون لڑا رہا ہے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل چاہنے والوں کو؟

جو کام انڈین ایکسپریس نے بدھ، ۲۳؍ ستمبر ۲۶ء کے شمارہ کے ذریعہ کیا وہی کام قسطوں میں دیگر میڈیا ہاؤس بھی کرسکتے تھے جن کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ ان اداروں نے اگر اپنا فرض منصبی چھوڑ کر حکمراں طبقے کی جی حضوری شروع نہ کی ہوتی تو ممکن ہی نہیں تھا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کسی کو خاطر میں نہ لانے، کسی بات کا جواب نہ دینے اور خود کو ہر قانون اور روایت سے بلند تر سمجھنے کے اپنے طریق کار پر قائم رہتے۔ افسوس کہ عدلیہ بھی گیانیش کمار کی حد سے بڑھی ہوئی دھاندلی کو لگام دینے میں ناکام رہا جبکہ ایس آئی آر کے بارے میں بنیادی اعتراض یہ کیا گیا تھا کہ یہ کسی علاقے کیلئے ہوتا ہے، پورے ملک کیلئے نہیں ہوتا۔ چلئے، آپ نے پورے ملک میں شروع کردیا مگر بار بار فیصلے بدلنا، نئے نئے ضابطے جاری کرنا اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز کرنا صاف بتا رہا تھا کہ ایس آئی آر کی آڑ میں ایسا کھیل جاری ہے جو ’’اپوزیشن مُکت بھارت‘‘ کے حکمراں طبقے کے خواب کو پورا کرسکے۔ گیانیش کمار کے خلاف نہ صرف یہ کہ فی الفور کارروائی ہونی چاہئے بلکہ اُن پر مقدمہ چلنا چاہئے کہ آخر اُنہوں نے حقیقی ووٹروں کے نام کاٹنے کی جرأت کیسے کی جو جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور جن کے ذریعہ حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ گیانیش کمار پر ملک کو دھوکے میں رکھنے، دھوکہ دینے، جہاں الیکشن ہوئے وہاں کے ہزاروں تا لاکھوں حقدار ووٹروں کو ووٹ سے محروم کرنے، اُن کا جمہوری حق چھیننے، انتخابات پر اثر انداز ہونے، الیکشن کمیشن جیسے ادارہ کی ساکھ برباد کرنے اور آئینی تقاضو ںکو بالائے طاق رکھنے کے ’’جرم‘‘ میں طے شدہ مدت میں مقدمہ چلے اور سزا دی جائے۔ کم از کم اتنا تو ہونا ہی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK