کہیں ایسا تو نہیں کہ تاریخ میں پہلے جو ہوچکا ہے یا باغی اپنا کھیل کھیل چکے ہیں وہی دوہرایا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 2:05 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai
کہیں ایسا تو نہیں کہ تاریخ میں پہلے جو ہوچکا ہے یا باغی اپنا کھیل کھیل چکے ہیں وہی دوہرایا جا رہا ہے۔
دہلی میں ابھی جو برکس کانفرنس ہوئی ہے اس میں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یعنی وہ ممالک بھی شامل تھے جو ایک دوسرے کی آنکھ سے آنکھ نہیں ملاتے۔ اس کے باوجود مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔ یہ کس کی جیت تھی؟ اس سوال کا صاف اور سیدھا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی سفارتکاری کی۔ ’’نئی دہلی اعلامیہ ۲۰۲۶ء‘‘ میں دہشت گردی کی مذمت اور غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کی گئی ہے۔ وہ ۱۱؍ گروپ جنہوں نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لئے ۱۹۶۷ء کے نقشے کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی وکالت کی وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ وہ دُنیا کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چونکہ اختلافات بہت شدید تھے اس لئے کئی بار بات ہوئی۔ بھارت نے یہ کوشش کی کہ اختلافات بات چیت پر حاوی نہ ہوں۔ اس کوشش کی کامیابی ہی کا نتیجہ تھا کہ مشترکہ اعلامیہ تیار اور جاری ہوا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ نسلی تفریق، نکسل واد اور ان سے تعلق رکھنے والے مسائل کے خلاف مہم میں زور پیدا کیا جائے تاکہ ان کا خاتمہ ہوسکے۔ برکس کے تضادات یا وہ تضادات جو برکس کی فکر اور عمل میں چھپے ہوئے ہیں سب کے لئے تشویش کا باعث ہیں مگر نئی دہلی کانفرنس میں یہ تضادات کسی کی راہ کا روڑا نہیں بنے یہ خوشی کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نوجوانوں کے مسائل کو کب سمجھا جائیگا؟
مغربی ایشیاء میں حالات اچھے نہیں ہیں۔ یمن سے ایک گروہ سعودی عرب پر حملے کر رہا ہے۔ یہی نہیں اس حملے میں شدت بھی پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات میں گفتگو شروع ہوگئی ہے یعنی وہ گفتگو کی میز پر آگئے ہیں۔ برکس کی پچھلی میٹنگ جس میں اس کے رکن ملکوں کے وزراء خارجہ شریک تھے نہ تو اس بات پر ہوئی تھی نہ آئندہ کیلئے کوئی لائحۂ عمل تیار ہوا تھا مگر اس کانفرنس سے اتحاد کا جو پیغام دیا گیا اس سے کانفرنس کو نئی معنویت حاصل ہوئی۔ عالمی حالات سب سے زیادہ پریشان کن یا متاثر کرنے والے ہیں گلوبل ساؤتھ کیلئے مگر فیصلہ کرنے کے عمل میں سب سے زیادہ بے اثر ہوتا ہے یہی ’گلوبل ساؤتھ‘۔ وزیراعظم نریندر مودی کا موقف تھا کہ ’گلوبل ساؤتھ‘ کو فیصلہ تسلیم کرنے والوں کی صف سے نکال کر فیصلہ کرنے والوں کی صف میں لایا جانا چاہئے اور جب ایسا ہوا تبھی کشیدگی کم ہوئی۔ اب باری ہے یو این ایس سی یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کی اور اس ضرورت کو ٹالا بھی نہیں جاسکتا۔ گزشتہ چند برسوں میں گلوبل سپلائی جس طرح رکاوٹ کا شکار ہوتی رہی ہے اس نے ہر ملک کو اس احساس میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ محفوظ نہیں ہے۔ اب اگر ٹیکنالوجی اور کریٹیکل منرلس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بات اور زیادہ بگڑے گی۔
برکس کی بات نکلتی ہے تو یہ سوال ضرور پوچھا جاتا ہے کہ وہ مغرب کو چیلنج کرسکتا ہے یا نہیں؟ مگر ہندوستان کی کوششوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ہندوستان سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین کرتا ہے۔ یہی آج کی ضرورت بھی ہے۔ یہی طرزِ عمل اس کے طریقۂ کار میں بہتری پیدا کرے گا۔ اس کے آثار ابھی سے دکھائی بھی دے رہے ہیں، چین جو اگلی برکس کانفرنس کی صدارت کرنے والا ہے اس کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ہندوستان اور چین ایک دوسرے کے رقیب نہیں، رفیق ہیں۔ یہ خوش کن بیان ضرور ہے مگر اس کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ تناؤ کے دوران بھی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت جاری رہی ہے اس کے باوجود ایسے بیانات کا اصل امتحان تو زمین یا خاص حالات میں ہی ہوگا۔ ویسے شی جن پنگ کا عشائیہ میں نہ شریک ہونا ایک سوال تو ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک سنگین سوال یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے جیسا کہ وہ اصرار کر رہے ہیں سعودی عرب کے مقامات مقدسہ پر میزائیل نہیں داغے تو کس نے داغے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تاریخ میں پہلے جو ہوچکا ہے یا باغی اپنا کھیل کھیل چکے ہیں وہی دوہرایا جا رہا ہے۔ ویسے یہ بات بیشتر کے علم میں ہے کہ ایران کے پس پشت چین و روس اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے پس پشت امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ ممالک کسی کا آلۂ کار بننے کے بجائے اپنے اختلافات آپس میں طے کریں اور متحدہ طاقت بن کر ابھریں۔ مکّہ معاہدہ شاید اسی جانب ایک قدم ہے۔ جو ممالک اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں وہ بھی شمولیت اختیار کریں مگر اس انداز سے کہ مذہب کی بنیاد پر یا اس کے ردّعمل میں صف بندی کرنے والوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع نہ ملے۔
یہ بھی پڑھئے:بہار میں قانون، سماج اور سیاست کا امتحان!
یہاں اس بات کی یاددہانی ضروری ہے کہ حوثیوں نے جن جزائر یا آبی شاہراہوں پر قبضہ کیا ہے اس سے پہلے یعنی ۲۰۲۳ء تک وہاں سے ۹۳؍ لاکھ بیرل پیٹرول اور پیٹرول سے متعلقہ اشیاء گزاری جاتی تھیں مگر یہ مقدار ۲۰۲۵ء میں گھٹ کر ۴۶؍ لاکھ بیرل ہی رہ گئی۔ ایران نے ۲۰۲۶ء میں آبنائے ہرمز بند کیا تو سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائنوں سے بحیرۂ احمر میں پیٹرول بھیجنا شروع کر دیا اور حوثیوں نے اس کے نتیجے میں سعودی شہروں اور ریفائنریز کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ سعودی عرب نے پیٹرول پیدا کرنا روک دیا ہے جس سے پیٹرول سپلائی اور قیمت دونوں کیلئے دُنیا تشویش اور اندیشوں میں مبتلا ہے۔
ایران نے جب غزہ اور فلسطین کے لوگوں کے حق میں جنگ چھیڑی تھی یا مسلط کی ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹا تھا تو ایسا لگنے لگا تھا کہ دو مملکتی حل قریب ہے اور بالآخر امریکہ و اسرائیل مسئلۂ فلسطین کے حل کے لئے دو مملکتی حل پر رضا مند ہوجائیں گے مگر پہلے تو ٹرمپ نے سنہرا خواب دکھایا اور پھر حوثیوں نے نادان کی دوستی کا مظاہرہ کیا۔ ہماری خواہش اور دعا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران اور دوسرے ممالک کسی کا آلۂ کار بننے کے بجائے مل کر بیٹھیں اور طے کریں کہ ان کے حق میں اچھا کیا ہے؟ اس کے بعد یہ کوشش کریں کہ ان کے خواب کو تعبیر عطا ہو۔ ان کا کسی کا آلۂ کار بن کر آپس میں لڑنا مسئلہ فلسطین کے دو مملکتی حل میں رخنہ ڈالنا ہے۔