• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی دہلی میں اے آئی سمٹ

Updated: February 17, 2026, 1:45 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

راجدھانی میں کل جس اے آئی سمٹ کا افتتاح ہوا ہے، وہ موضوعی اعتبار سے کتنی اہم ہے، اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس میں کون کون شریک ہے، کتنے ملکوں کے مندوبین اس میں ہیں اور اتنا بڑا مجمع کیا کررہا ہے۔

INN
آئی این این
  راجدھانی میں   کل جس اے آئی سمٹ کا افتتاح ہوا ہے، وہ موضوعی اعتبار سے کتنی اہم ہے، اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس میں   کون کون شریک ہے، کتنے ملکوں   کے مندوبین اس میں   ہیں   اور اتنا بڑا مجمع کیا کررہا ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ اس سمٹ (چوٹی کانفرنس) میں   ۱۰۰؍ سے زائد ملکوں   کے مندوبین، ۲۰؍ سے زائد ملکوں   کے ٹیکنیکل ایکسپرٹس  اور کم و بیش ۲؍ لاکھ شرکاء ہیں   جنہوں   نے آن لائن رجسٹریشن کروایا ہے۔ یہ باتیں   مختلف رپورٹس میں   موجود ہیں  ۔ 
اس کے ساتھ ہی بھارت منڈپم میں  ، جہاں   یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے، اے آئی اِمپیکٹ ایکسپو بھی جاری ہے جس کا افتتاح گزشتہ روز وزیر اعظم مودی نے کیا۔ بیرونی ملکوں   کی کئی قدآور شخصیات یا اُن کے نمائندے بھی شریک ہوئے  ہیں   مثلاً فرانس، برازیل، اسپین اور سوئزر لینڈ کے صدر اوررمتحدہ عرب امارات کے ولی عہد۔ اس سے قبل ایسی کانفرنس برطانیہ اور جنوبی کوریا میں   ہوچکی ہیں   مگر وہ وسعت کے اعتبار سے اتنی بڑی نہیں   تھیں  ۔ یہ نہ صرف عظیم کانفرنس ہے بلکہ ہندوستان میں   اس کے انعقاد کی اپنی اہمیت ہے۔ ہندوستان جنوبی ایشیاء کا پہلا ملک ہے جس نے ایسی کانفرنس کے انعقاد کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ 
امریکہ اور چین اے آئی میں   بڑی دسترس رکھنے والے ملکوں   میں   سر فہرست ہیں   مگر اس کانفرنس کے ذریعہ ہندوستان نے یہ پیغام دینے کی بھرپور کوشش کی اور ہمارے خیال میں   یہ کامیاب قرار پائیگی کہ ہم اے آئی سے متعلق اُمور میں   قائدانہ کردار کیلئے کمربستہ ہیں  ۔ اس کانفرنس میں   عالمی لیڈروں   اور ماہرین کا یکجا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی دعوت اور اس کے عزائم کو دُنیا سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہ اس لئے ہورہا ہے کہ دُنیا کو علم ہے کہ ہندوستان اپنی بہت بڑی آبادی، بہت بڑے ڈیٹا اور آئی ٹی میں   مہارت کی وجہ سے اے آئی میں   بہت کچھ کرسکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ ورلڈ لیڈروں   میں   شمار ہو چنانچہ سوال یہ ہے کہ کانفرنس کے بعد ہمارا منصوبہ کیا ہے اور کس طرح ہم اے آئی کی دُنیا میں   اپنا نقش قائم کرنے کی تیاری کررہے ہیں  ۔ سچ پوچھئے تو ہندوستان نے اس کانفرنس کے ذریعہ دُنیا کی توقعات بڑھا دی ہیں  ۔ اب ہمیں   ایک ایسے ملک کی طرح دیکھا جائیگا جو اے آئی کا محض صارف نہیں   ہے بلکہ اے آئی کے فروغ میں   اضافے کا محرک بھی ہے اور اس کے مثبت استعمال کی مثالیں   پیش کرکے اُن خدشات کو دور کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جو اے آئی اور اس کے صارفین کے تعلق سے لاحق ہیں  ۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اے آئی نوکریوں   کو ختم کردے گا۔ ہندوستان کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ اے آئی نوکریوں   کو ختم نہیں   کررہا ہے بلکہ اُن کی نوعیت بدلنے جارہا ہے۔ اب جو شخص جدید تکنیکوں   سے واقف ہوگا اُس کیلئے نوکری پانا مشکل نہیں   ہوگا مگر جو اس سے ناواقف رہے گا اُسے اپنا ٹھور ٹھکانہ تلاش کرنا پڑیگا۔
اس لئے اب اُن لوگوں   کو بھی جو برسرکار ہیں   اے آئی سے جڑنا ہوگا اور جو ابھی اسکولوں   اور کالجوں   میں   اُنہیں   بھی اے آئی کے مستقبل سے اپنے مستقبل کو وابستہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔حکومت ِ ہند کو اے آئی اور اس سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں   کی سرپرستی  کرتے ہوئے  نئی صلاحیتو ں  کو اس جانب متوجہ کرنے کیلئے خصوصی پروگرام جاری کرنا چاہئے۔ اے آئی کا دور ہندوستان کا دور ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK