• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: طارق رحمان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا

Updated: February 17, 2026, 6:08 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش میں ۲۰۲۴ء کی پُرتشدد بغاوت کے بعد پہلی منتخب حکومت قائم ہو گئی ہے۔ بی این پی لیڈر طارق رحمان نے وزیر اعظم کا حلف لے کر اقتدار سنبھال لیا۔ انہیں اب بنگلہ دیش میں سلامتی کی بحالی، سیاسی تقسیم کو کم کرنے اور معیشت کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

Tariq Rehman during the swearing-in ceremony of the Prime Minister. Photo: PTI
طارق رحمان وزیر اعظم کی حلف برداری کے دوران۔ تصویر: پی ٹی آئی

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل اور طویل عبوری دور کے بعد نئی منتخب حکومت نے باقاعدہ طور پر اقتدار سنبھال لیا ہے۔ بی این پی کے لیڈر طارق رحمان نے منگل، ۱۷؍ روری کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ یہ پیش رفت ۲۰۲۴ء کی پرتشدد بغاوت کے بعد ملک میں جمہوری عمل کی بحالی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ ۶۰؍ سالہ لیڈر نے ۱۷۰؍ ملین آبادی والے ملک کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی ہے جب بنگلہ دیش کو شدید سیاسی تقسیم، کمزور معیشت اور امن و امان کے مسائل کا سامنا ہے۔ حلف برداری کی تقریب پارلیمنٹ کے باہر منعقد ہوئی اور سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی گئی۔ صدر محمد شہاب الدین نے انہیں عہدے کا حلف دلایا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے امام کو ایک ہفتےکیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا

اپنے خطاب میں طارق رحمان نے قانون کی بالادستی برقرار رکھنے اور آئینی ذمہ داریوں کو وفاداری سے نبھانے کا عہد کیا۔ انہوں نے ۱۲؍  فروری کے انتخابات میں اپنی جماعت کی بھاری اکثریت کو جمہوریت کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ کامیابی ان شہریوں کی ہے جنہوں نے سیاسی استحکام اور جمہوری نظام کے لیے جدوجہد کی۔ طارق رحمان ایک عبوری انتظامیہ کی جگہ لے رہے ہیں، جس نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد تقریباً ۱۸؍ ماہ تک حکومت کی۔ اس عرصے میں ملک شدید سیاسی کشمکش اور احتجاجی مظاہروں سے گزرا، جس نے معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا۔ بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے پارلیمنٹ میں ۲۱۲؍ نشستیں حاصل کیں، جو جماعت اسلامی کے زیر قیادت بلاک کی ۷۷؍ نشستوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ جماعت اسلامی نے ۳۲؍ حلقوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے، تاہم اس کے رہنما شفیق الرحمان نے اعلان کیا کہ وہ ایک ذمہ دار اور پرامن اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: خاموش رہنا غیرجانبداری نہیں ہے: فرانسیسی نژاد فلسطینی اداکارہ ہیام عباس

طارق رحمان کی اقتدار میں واپسی ایک ڈرامائی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ۱۷؍ سالہ جلاوطنی کے بعد حال ہی میں برطانیہ سے وطن واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی اور انتخابی کامیابی کو ان کے حامی ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ناقدین معیشت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے ان کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو اس انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا۔ حسینہ، جو اس وقت ہندوستان میں مقیم ہیں، نے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ دوسری جانب بھارت نے بی این پی کی فیصلہ کن کامیابی کا خیرمقدم کیا، جسے دو طرفہ تعلقات میں ممکنہ بہتری کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
خواتین کی نمائندگی محدود رہی۔ براہ راست انتخاب میں صرف سات خواتین کامیاب ہوئیں، تاہم ۵۰؍ مخصوص نشستیں جماعتوں کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔ اقلیتی برادریوں کے چار نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچے، جن میں دو ہندو اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی تناؤ نمایاں تھا، لیکن ووٹنگ کا دن بڑی حد تک پرامن رہا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب سب سے بڑا چیلنج معاشی بحالی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کنندہ ملک ہے، مگر حالیہ بدامنی نے اس شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ طارق رحمان نے اپنی تقریر میں قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ برسوں کی آمرانہ طرز حکمرانی نے اداروں کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت استحکام، معاشی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دے گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK