Updated: February 17, 2026, 6:08 PM IST
| Islamabad
سابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران کی جیل میں صحت سے متعلق خبروں پر عالمی کرکٹ برادری متحرک ہو گئی ہے اور متعدد سابق کپتانوں نے ان کیلئے بہتر طبی سہولیات اور انسانی سلوک کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجی گئی اپیل میں عمران خان کو مناسب علاج، خاندان سے ملاقات اور شفاف قانونی عمل کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔
سنیل گاوسکر اور عمران خان۔ تصویر: آئی این این
سابق پاکستانی کپتان عمران خان کی کرکٹ برادری نے منگل کو وزیرِاعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ سابق وزیرِاعظم کے ساتھ جیل میں بہتر سلوک کیا جائے۔ یہ درخواست سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کی جس پر سنیل گواسکر، کپل دیو، ایلن بارڈر، اسٹیو وا، ایان چیپل، مائیک آتھرٹن، ناصر حسین، مائیک بریرلی، ڈیوڈ گوور، کلائیو لائیڈ اور جان رائٹ سمیت کئی سابق کپتانوں نے دستخط کئے۔ پانچ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے چودہ سابق کپتانوں نے اس درخواست کی حمایت کی ہے۔
عمران خان اگست۲۰۲۳ء سے کرپشن کے الزامات کے سلسلے میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور تقریباً ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں۔ ۷۴؍ سالہ سابق وزیراعظم کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ ان کی دائیں آنکھ کی۸۵؍ فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کی صحت کے بارے میں بار بار افواہیں سامنے آ رہی ہیں، جن میں ان کی وفات کی بے بنیاد خبریں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے امام کو ایک ہفتےکیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا
چودہ سابق کپتانوں کی حمایت
سابق کپتانوں نے خط میں لکھا:’’حالیہ رپورٹس، خاص طور پر حراست کے دوران ان کی بینائی میں تشویشناک حد تک کمی اور گزشتہ ڈھائی سال کے دوران قید کی صورتحال، ہمیں شدید تشویش میں مبتلا کرتی ہیں۔ بطور کرکٹر ہم کھیل کے ان اصولوں کو سمجھتے ہیں جو منصفانہ کھیل، عزت اور احترام پر مبنی ہیں۔ ہماری رائے میں عمران خان جیسے قد آور لیڈر اور عالمی اسپورٹس آئیکون کے ساتھ وقار اور بنیادی انسانی ہمدردی کے مطابق سلوک کیا جانا چاہئے۔ ‘‘انہوں نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، اور انہیں اپنی مرضی کے مستند ماہر ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔ سابق کرکٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عالمی معیار کے مطابق ’’انسانی اور باوقار حالات‘‘ فراہم کئے جائیں، جن میں قریبی خاندان کے افراد سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت شامل ہو، اور قانونی عمل تک شفاف اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: یوکے، ہندوستان میں منکی پاکس کی نئی قسم، ڈبلیو ایچ او کی نگرانی کی ہدایت
سنیل گواسکر کا بیان
سنیل گواسکر نے، جو میدان میں عمران خان کے حریف رہے، کہا:’’ان کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ہماری دوستی اُس وقت سے ہے جب وہ وورسٹرشائر کیلئے بطور اوورسیز کھلاڑی کوالیفائی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم صرف میدان کے حریف نہیں بلکہ دوست بھی رہے ہیں۔ ‘‘یاد رہے کہ ۲۰۲۲ءمیں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کو متعدد مقدمات کا سامنا ہے، جن میں سرکاری تحائف اور غیر قانونی شادی سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ کچھ سزائیں معطل یا کالعدم ہو چکی ہیں جبکہ اپیلیں زیرِ التوا ہیں۔ عمران خان ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنیوا میں ایران سے سمجھداری کی امید: ڈونالڈوٹرمپ
بیٹوں اور خاندان کا مؤقف
پیرکو عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان، نے اپنے والد کی بگڑتی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ملاقات کی اجازت مانگی۔ لندن میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ویزا کیلئے درخواست دی تھی لیکن تاحال جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے۱۲؍ فروری کو ستمبر کے بعد پہلی بار اپنے والد سے بات کی۔ ان کے مطابق عمران خان عام طور پر اپنی صحت پر بات نہیں کرتے، لیکن اس بار انہوں نے شکوہ کیا کہ کئی ماہ سے آنکھ کے علاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ قاسم نے مطالبہ کیا کہ انہیں کسی مناسب طبی مرکز منتقل کیا جائے اور نجی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔ انہوں نے کہا:’’شاید اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ اگر ہم جا کر ان سے ملیں گے تو زیادہ توجہ اور شور پیدا ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: نئی دستاویز میں ۳۰۵؍ بااثر اور مشہور شخصیات کے نام شامل، فہرست جاری
حکومتی مؤقف اور عدالتی پیش رفت
پاکستانی سفارتخانے لندن اور وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ۷۳؍ سالہ عمران خان اگست۲۰۲۳ء سے توشہ خانہ کرپشن کیس میں سزا کے بعد جیل میں ہیں۔ حال ہی میں ان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی صرف۱۵؍ فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ ان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور سوجن میں کمی آئی ہے جبکہ بینائی میں بہتری ہوئی ہے۔ تاہم عمران خان کے خاندان اور پارٹی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے اس عمل کو شفاف قرار نہیں دیا۔ ان کی بہن علیمہ خانم نے کہا:’’ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی کے بغیر کسی میڈیکل بورڈ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو ذاتی ڈاکٹروں اور خاندان کی موجودگی سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے؟ کیا کچھ چھپایا جا رہا ہے؟‘‘ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ طبی اقدامات جاری ہیں اور اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے ان کے علاج کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔