معلوم ہوا کہ آج بھی ایسے عاقبت نا اندیش لوگ موجود ہیں جو نہ تو حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں نہ ہی ان حالات میں اپنی اور اپنے حوالے سے قوم کی ساکھ، وقار، عزت اور شبیہ کی حفاظت کیلئے دانشمندانہ اسلوب اپنانا ضروری سمجھتے ہیں ۔
معلوم ہوا کہ آج بھی ایسے عاقبت نا اندیش لوگ موجود ہیں جو نہ تو حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں نہ ہی ان حالات میں اپنی اور اپنے حوالے سے قوم کی ساکھ، وقار، عزت اور شبیہ کی حفاظت کیلئے دانشمندانہ اسلوب اپنانا ضروری سمجھتے ہیں ۔ گنگوہ پولیس اسٹیشن (سہارنپور) کی عملداری میں آنے والے ایک مدرسہ کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے ہم اس کی تصدیق نہیں کر پائے تاہم اگر حقیقت ِواقعہ وہی ہے جو ویڈیو میں دکھائی دے رہی ہے تو یہ نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔
متعلقہ مدرسہ میں ایک دس سالہ طالب علم کو جس بے دردی سے پیٹا گیا ہے اس کی مذمت ہر خاص و عام کو کرنا چاہئے بالخصوص مدارس دینیہ کے ذمہ داروں کو۔ انہیں بیک زبان کہنا چاہئے کہ یہ بدترین شقی القلبی اور سفاکیت ہے جس کا مظاہرہ مدرسہ کے ان دو معلموں نے کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ زیر بحث مدرسہ (دارالعلوم زکریا) کس معیار کا ہے اور اس کی حیثیت باقاعدہ مدرسہ کی ہے یا یہ مکتب ہے۔ جو بھی ہو، وہاں دو معلموں کا ایک کمسن طالب علم کو اس طرح پیٹنا کسی بھی زاویئے سے قابل قبول نہیں ہے۔ ایسی پٹائی نہ تو گھر میں ہوسکتی ہے نہ ہی چوراہے پر، نہ تو اسکول میں نہ ہی مدرسہ میں ۔ اسکول اور مدرسہ میں تو خاص طور پر اس کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ طالب علموں کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک کیا جائے۔ کیا اس طالب علم نے شرارت کی تھی؟ ہو سکتا ہے کی ہو۔ کیا اس نے سبق یاد نہیں کیا تھا؟ ممکن ہے نہ کیا ہو۔ کیا اس نے کوئی ایسی حرکت کی تھی جو لائق ِ سزا ہو؟ ہو سکتا ہے کی ہو۔ ہم نہیں جانتے کہ طالب علم کا قصور کیا تھا اور معلم نے کس بات پر سزا دی مگر دکھ اس بات کا ہے کہ طالب علم کو سزا دینے کے طریقوں سے جو لوگ واقف نہیں ہیں انہیں مدرسوں میں پڑھانے کیلئے مامور کر دیا جاتا ہے۔ کیا تقرری کے وقت اساتذہ کے مزاج کو پرکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی؟
ویڈیو میں دو معلم ہیں ۔ ایک وہ جس نے طالب علم کو پکڑ رکھا ہے اور دوسرا وہ جو اس کی کمر پر بید سے مسلسل مار رہا ہے اور طالب علم کے درد سے چیخنے کے باوجود اپنا ہاتھ روکنے اور بید زنی سے باز آنے کو تیار نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ ویڈیو میں طالب علم تڑپ رہا ہے مگر دونوں معلم پُرسکون ہیں ۔ اُن کے پُرسکون ہونے کا معنی ہماری سمجھ میں یہ آیا کہ انہوں نے کسی بات پر مشتعل ہوکر سزا دینا شروع نہیں کیا، یا، غصہ میں آکر آپا نہیں کھو دیا۔ اُن کے پُرسکون ہونے سے یہ سوچا سمجھا معاملہ لگتا ہے۔ اگر یہ ایسا ہی ہے جیسا سمجھ میں آ رہا ہے یا ایسا نہیں ہے تب بھی قابل مذمت ہے۔ یہ تشدد ہے اور اسلام تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ بچے شرارت کرتے ہی ہیں ، کوئی ایسی حرکت بھی کرسکتے ہیں جس کے خلاف تنبیہ کرنا ضروری ہو مگر تنبیہ اور تشدد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تنبیہ کا طریقہ حکمت اور تدبر کا تقاضا کرتا ہے، ایسا لگتا ہے دونوں مولانا (جیسا کہ انہیں قومی میڈیا کہہ رہا ہے) اس سے نابلد ہیں ۔ جب اتنا بھی شعور نہیں ہے تو انہیں یہ احساس کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ حرکت مدارس دینیہ کی بدنامی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری قوم کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
اگر ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں معلم ماتحتوں میں سے ہیں تو صدر مدرس اور انتظامیہ کو مدرسہ سے اُن کی برخاستگی کا اعلان کرنا چاہئے۔ اگر وہ خود ہی مدرسہ کے ذمہ دار ہیں تو قوم کو ایسے ذمہ داروں کو چندہ دینے سے مکمل گریز کرنا چاہئے۔