Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتح کا نشہ بمقابلہ جیت کی پیاس: کیا گجرات دہلی کا راستہ روک پائے گا؟

Updated: April 07, 2026, 5:01 PM IST | Ahmedabad

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ۲۰۲۶ء کے بدھ کو ہونے والے معرکے میں دہلی کیپیٹلز کا مقابلہ گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔ دہلی کی ٹیم اپنے ابتدائی دونوں میچ جیت کر پُراعتماد ہے، جبکہ گجرات ٹائٹنز کو اب بھی ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔

Gujarat Team.Photo:X
گجرات کی ٹیم ۔ تصویر:ایکس

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ۲۰۲۶ء کے بدھ کو ہونے والے معرکے میں دہلی کیپیٹلز کا مقابلہ گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔ دہلی کی ٹیم اپنے ابتدائی دونوں میچ جیت کر پُراعتماد ہے، جبکہ گجرات ٹائٹنز کو اب بھی ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔ اگرچہ موجودہ فارم دہلی کے حق میں ہے، لیکن ماضی کے ریکارڈز گجرات کی برتری کی کہانی سناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: ایک نہیں، کے کے آر کے سامنے کئی مشکلات


 دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک ۷؍میچز ہوئے ہیں، جن میں گجرات نے ۴؍ اور دہلی نے ۳؍جیتے ہیں۔ دہلی میں کھیلے گئے ۳؍میچوں میں بھی گجرات ۱۔۲؍ سے آگے ہے۔ گزشتہ سیزن کے دونوں مقابلوں میں گجرات نے دہلی کو شکست دی تھی۔گجرات کے کپتان کے ایل راہل کے لیے سیزن کا آغاز مایوس کن رہا ہے۔ دہلی کے تیز گیند باز کگیسو ربادا اور پرسدھ کرشنا ان کے لیے ڈراونا خواب ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں گیند باز راہل کو ۳۔۳؍ بار آؤٹ کر چکے ہیں۔ مزید برآں، مڈل اوورز میں راشد خان بھی راہل کو ۳؍ بار پویلین بھیج چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جیلر۲: رجنی کانت کی ’’جیلر ۲‘‘ کے لیے شاہ رخ خان کی بڑی تیاری


ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ سے بہترین فارم میں موجود دہلی کے لونگی اینگیڈی گجرات کے ٹاپ آرڈر کے لیے مشکل کھڑی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے شبھ من گل کو ۴؍ اننگز میں ۲؍ بار آؤٹ کیا ہے، جبکہ بٹلر بھی ان کے خلاف ۳؍ بار وکٹ گنوا چکے ہیں۔ گجرات کے جارح مزاج بلے باز بٹلر کو دہلی کی تجربہ کار اسپن جوڑی اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ یہ دونوں اسپنرز بٹلر کو ۲۔۲؍ بار آؤٹ کر چکے ہیں اور ان کے خلاف بٹلر کا اسٹرائیک ریٹ بھی کم رہتا ہے۔
دہلی کے فنشر ڈیوڈ ملر کے لیے راشد خان ایک بڑا چیلنج ہوں گے، جنہوں نے ملر کو۴؍ بار آؤٹ کیا ہے۔ دوسری طرف، گجرات کے گلین فلپس کی اسپن کے خلاف کمزوری دہلی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ کلدیپ اور اکشر، فلپس کو ۵؍اننگز میں ۴۔۴؍ بار آؤٹ کر کے تقریباً پرفیکٹ ریکارڈ  رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK