Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرماگیڈن اور ایران جنگ

Updated: March 20, 2026, 3:17 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

آرماگیڈن کیا ہے؟ یہ بائبل کا نظریہ ہے کہ دنیا کے خاتمہ سے قبل ایک نہایت خونریز جنگ ہوگی جو حق و باطل کے درمیان آخری معرکہ قرار پائیگی۔ ا

INN
آئی این این
آرماگیڈن کیا ہے؟ یہ بائبل کا نظریہ ہے کہ دنیا کے خاتمہ سے قبل ایک نہایت خونریز جنگ ہوگی جو حق و باطل کے درمیان آخری معرکہ قرار پائیگی۔ اس کالم میں  اس کا تذکرہ کیوں ؟ اس کے جواب سے قبل چند باتیں  ملاحظہ فرمائیں :
جب امریکہ، سوویت یونین کو توڑنے میں  کامیاب ہوگیا تب امریکی اقتدار کے سامنے سوال تھا کہ ایک دشمن کو زیر کرنے کے بعد اب نیا دشمن کون ہوگا؟ تب ہی طے کیا گیا تھا کہ اب اسلام (اور مسلمانوں ) دشمن ہوگا۔ اس کے بعد ہی سے اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف ریشہ دوانیاں  شروع ہوئیں ، کئی مسلم ملکوں  کے خلاف کارروائیاں  شروع ہوئیں  اور اسلاموفوبیا پیدا کیا گیا۔ ایران پر امریکہ کی معاشی پابندیوں  کو، جو کئی سال سے جاری ہیں ، اسی پس منظر میں  دیکھنا چاہئے۔ اس پر بھی اکتفا نہیں  کیا گیا اور اب اُس کے خلاف باقاعدہ جنگ جاری ہے۔ مختصر یہ کہ سامراجی طاقتوں  کو ہمیشہ ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کا نام لے کر یا چہرا دکھا کر یا اسے خوفناک بتا کر یا عالم انسانیت کیلئے خطرہ قرار دے کر سیاسی دکانیں  چمکائی جائیں ، اسلحہ فروخت کیا جائے، جنگ چھیڑ کر نسبتاً کمزور ملکوں  کے وسائل پر قبضہ کیا جائے یا ان ملکوں  میں  جمہوریت کے نام پر ایسے افراد کو اقتدار میں  لایا جائے جو ان کے مفادات کیلئے آلہ کار بن سکیں ۔ یہ کھیل نیا نہیں  ہے مگر اب بار بار کھیلا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان اور وعدہ کیا تھا کہ کسی ملک پر نہ تو خود حملہ کرینگے نہ ہی دوسروں  کی چھیڑی ہوئی جنگ کا حصہ بنیں  گے مگر وہ اتنی آسانی سے ایران کے خلاف صف آرا ہو گئے کہ ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کے حامی اب تک حیران ہیں  کہ وہ تو امریکہ کو مستحکم کرنے چلے تھے، امریکی وسائل کو اتلاف سے روکنے کا ذہن لے کر آئے تھے، تارکین وطن کو روکنا چاہتے تھے تاکہ امریکی وسائل امریکہ ہی کی دسترس میں  رہیں  اور امریکہ دُنیا کا واحد سپر پاور بنے، دنیا یک قطبی (یونی پولر) رہے اور کثیر قطبی (ملٹی پولر) نہ بننے پائے وغیرہ، مگر ٹرمپ راستہ بھٹک گئے اور اب ایران جنگ میں  پھنسے ہوئے ہیں  جس سے اُن کیلئے نئی مشکلات پیدا ہورہی ہیں ۔ انہی مشکلات کے سبب ان پر ہمہ وقت بوکھلاہٹ طاری رہتی ہے جو ان کے اقدامات سے بھی جھلکتی ہے اور بیانات سے بھی۔ ٹرمپ جنہیں  نیتن یاہو کو پاگل پن سے روکنا چاہئے تھا خود بھی پاگل پن پر اتر آئے اور اب دو پاگل پوری دنیا کو پاگل پن کا تماشا دیکھنے پر مجبور کررہے ہیں ۔
کہتے ہیں  کہ آدمی خود ہی پاگل پن کی راہ پر نہیں  جاتا، لوگ بھی دھکیلتے ہیں  لہٰذا امریکہ میں  اسرائیل نوازوں  کا ایک طبقہ ایسا یہ سمجھتا ہے اور لوگوں  حتیٰ کہ امریکی فوجیوں  کو سمجھا رہا ہے کہ ٹرمپ آرماگیڈن کی قیادت کررہے ہیں  اور ایران کے خلاف جاری جنگ ہی حق و باطل کے درمیان وہ آخری معرکہ ہے جس کی پیش گوئی بائبل میں  کی گئی ہے۔ یہ طبقہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ ٹرمپ خدا کے منصوبے کو پورا کرنے کیلئے سرگرداں  ہیں ، اس کام کیلئے خدا نے ان کا انتخاب کیا ہے۔ ہمارا عقیدہ مختلف ہے مگر اسی عقیدہ کے حوالے سے ٹرمپ کو خدائی فوجدار بتانے والوں  سے پوچھنا چاہئے کہ اگر وہ خدا کا انتخاب ہیں  اور خدا کی جنگ لڑ رہے ہیں  تو بال کیوں  نوچ رہے ہیں ، بوکھلائے ہوئے کیوں  ہیں  اور اہل امریکہ کی بڑی تعداد یہ کیوں  سمجھ رہی ہے کہ سارا کھیل ایپسٹین فائلز سے بچنے کیلئے کھیلا جارہا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK