Inquilab Logo Happiest Places to Work

حسد:جب انسان بھول جاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ کی حکمت کے مطابق ہے

Updated: March 20, 2026, 4:26 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حسد دراصل انسان کی اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں وہ دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ نہ صرف اس نعمت پر جلن محسوس کرتا ہے بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس شخص سے چھن جائے۔

In terms of psychological treatment, the most important thing to overcome jealousy is mental awareness. A person should be aware that he is only seeing the superficial aspects of others` lives. Photo: INN
نفسیاتی علاج کے اعتبار سے حسد کے ازالے کیلئے سب سے اہم چیز ذہنی آگہی ہے۔ انسان کو یہ شعور ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کی زندگی کے صرف ظاہری پہلو دیکھ رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی شخصیت کا سب سے پیچیدہ پہلو اس کا باطن ہے۔ ظاہری اعمال اور سماجی رویوں کے پیچھے دراصل وہی داخلی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں جو انسان کے دل اور ذہن میں جنم لیتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے انسانی نفس کے ان پوشیدہ پہلوؤں کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے اور انسان کو یہ شعور دیا ہے کہ وہ جانے کہ اس کے اندر ایسی کئی کمزوریاں موجود ہیں جو اگر بے قابو ہو جائیں تو فرد اور معاشرہ دونوں کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ انہی خطرناک باطنی بیماریوں میں سے ایک حسد ہے۔ حسد بظاہر ایک معمولی جذبہ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسانی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دینے والی آگ ہے۔ یہ دل میں پیدا ہوتی ہے، ذہن کو متاثر کرتی ہے اور پھر معاشرتی تعلقات کو مسموم کر دیتی ہے۔
قرآنِ مجید نے انسانی نفسیات کے اس پہلو کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حسد دراصل انسان کی اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں وہ دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ نہ صرف اس نعمت پر جلن محسوس کرتا ہے بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس شخص سے چھن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے حسد کو ایک شر قرار دیا اور مؤمن کو اس سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’( پناہی چاہتا ہوں) حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ (الفلق:۵)

یہ بھی پڑھئے: موجودہ حالات میں ہمیں سیرت نبویؐ سے کون کون سی رہنمائی ملتی ہے!

قرآن کے یہ الفاظ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حسد محض ایک داخلی احساس نہیں بلکہ ایک ایسا شر ہے جس کے اثرات انسان کے رویوں اور معاشرتی تعلقات میں ظاہر ہوتے ہیں۔ حسد کرنے والا شخص دوسروں کے خلاف بدگمانی، بدگوئی اور سازشوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ یوں حسد دل کی ایسی بیماری ہے جو سماج کے امن و سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔
علمِ نفسیات کے ماہرین حسد کو ایک پیچیدہ جذباتی کیفیت قرار دیتے ہیں جس میں موازنہ، احساسِ محرومی اور ناراضی تینوں عناصر شامل ہوتے ہیں۔ جدید نفسیات کے مطابق انسان اپنی زندگی کا مسلسل دوسروں سے موازنہ کرتا رہتا ہے۔ اس رجحان کو Social Comparison Theory کہا جاتا ہے جسے ماہر ِ نفسیات لیون فیسٹنگر نے بیان کیا۔ اس نظریے کے مطابق انسان اپنی قدر اور کامیابی کو دوسروں سے تقابل کے ذریعے جانچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب یہ تقابل منفی ہو جائے اور انسان یہ محسوس کرے کہ دوسرے لوگ اس سے زیادہ کامیاب یا خوشحال ہیں تو اس کے اندر حسد پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اسی نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ ‘‘ (النساء:۵۴)
حسد کا اصل سبب اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا غلط انداز میں موازنہ کرنا ہے۔ جب انسان یہ بھول جاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ کی حکمت کے مطابق ہے تو اس کے دل میں جلن پیدا ہوتی ہے۔ انسانی تاریخ میں حسد کی پہلی جھلک قرآن نے حضرت آدمؑ کے دو بیٹوں کے واقعے میں بیان کی ہے۔ جب ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو حسد نے اس کے دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ قرآن کہتا ہے:’’ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ (المائدہ:۳۰)۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ حسد کس طرح ایک نفسیاتی کیفیت سے بڑھ کر عملی جرم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ نفسیات میں اس کیفیت کو Emotional Hijacking کہا جاتا ہے، یعنی جذبات انسان کی عقل پر غالب آ جاتے ہیں اور اس صورتحال میں وہ نقصاندہ بلکہ تباہ کن فیصلے کر بیٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ربّ کی معرفت کا ذریعہ

اسی طرح قرآنِ مجید میں حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کا واقعہ بھی حسد کے نفسیاتی اثرات کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کی محبت کو دیکھ کر اپنے دلوں میں حسد کو جگہ دی اور نتیجتاً اپنے بھائی کے خلاف سازش کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی حسد میں اندھے ہوگئے تھے اور سازش میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ قرآن نے یوں نقشہ کھنچا ہے:’’جب یوسفؑکے بھائیوں نے کہا کہ واقعی یوسف ؑاور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم (دس افراد پر مشتمل) زیادہ قوی جماعت ہیں۔ بیشک ہمارے والد (ان کی محبت کی) کھلی وارفتگی میں گم ہیں۔‘‘ (سورہ یوسف:۸)۔ یہاں حسد نے ان کے ذہن میں حقیقت کو مسخ کر دیا۔ نفسیات میں اسے Cognitive Distortion کہتے ہیں یعنی ذہن حقیقت کو صحیح انداز میں نہیں بلکہ تعصب اور جذبات کے زیرِ اثر غلط انداز میںدیکھتا سمجھتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں حسد کو روحانی بیماری قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کے دل کو اللہ کے ذریعہ کی گئی نعمتوں کی تقسیم پر راضی نہ ہونے کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ قرآن انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں اللہ کی حکمت سے تقسیم ہوتی ہیں۔ سورہ الزخرف آیت ۳۲؍ میں ہے:
’’کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم اِن کے درمیان دنیوی زندگی میں ان کے (اسبابِ) معیشت کو تقسیم کرتے ہیں اور ہم ہی ان میں سے بعض کو بعض پر (وسائل و دولت میں) درجات کی فوقیت دیتے ہیں۔‘‘
یہ آیت دراصل انسان کے ذہن کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اللہ کی حکمت پر اعتماد کرے۔ اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کے دل میں حسد کے بجائے قناعت اور شکر پیدا ہو سکتا ہے۔
اسلامی اخلاقیات میں حسد کے مقابلے میں ایک مثبت جذبے کا ذکر بھی ملتا ہے جسے غبطہ کہا جاتا ہے۔ غبطہ (Rishk) کا مطلب ہے کسی دوسرے کی خوبی، نعمت یا نیکی دیکھ کر بغیر اس نعمت کے زوال کی خواہش کئے، خود بھی ویسا بننے کی تمنا کرنا۔ یہ ایک مثبت جذبہ ہے جو حسد سے بالکل مختلف ہے، اس میں جلن یا دشمنی نہیں ہوتی بلکہ ترقی کی مثبت خواہش ہوتی ہے۔ اسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:
’’ دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں اسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری )

یہ بھی پڑھئے: آئیے! پھر ایک بار ہم رمضان کا سبق تازہ کریں!

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی رشک یا غبطہ صرف دو چیزوں میں ہونا چاہئے: ایک اس شخص پر جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، اور دوسرے اس شخص پر جسے اللہ نے علم و حکمت عطا کی اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو حسد کے بجائے مثبت مسابقت اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ دیتا ہے۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے غبطہ دراصل Positive Motivation کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب انسان دوسروں کی کامیابی کو دیکھ کر جلنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اندر ترقی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جدید نفسیات میں اسے Healthy Competition کہا جاتا ہے جو انسان کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر آمادہ کرتا ہے۔ حسد کا ایک بڑا سبب احساسِ کمتری بھی ہے۔ اسلام اس احساسِ کمتری کا علاج انسان کو یہ شعور دے کر کرتا ہے کہ ہر انسان اللہ کے نزدیک اپنی انفرادی قدر رکھتا ہے اور ہر کسی کو مختلف صلاحیت عطا کی گئی ہے۔
حسد کا اثر صرف روحانی زندگی پر نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی پڑتا ہے۔ نفسیاتی تحقیقات بتاتی ہیں کہ مسلسل حسد کی کیفیت انسان کو اضطراب، غصہ اور ڈپریشن کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ایسے افراد اکثر اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتے اور دوسروں کی کامیابی کو دیکھ کر مزید بے چین ہو جاتے ہیں۔ نیورو سائنس کے بعض ماہرین کے نزدیک مستقل حسد Jealousy کے سبب سمجھنے کی قوت مفقود ہو جاتی ہیں۔ سوچنے کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے اور عمل کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر اپنی راہ پر کم دوسروں کی راہ پر زیادہ ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اس ذہنی پریشانی سے بچانے کے لئے شکر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔
روحانی اعتبار سے حسد کے علاج کا پہلا قدم شکر (رب العالمین کے تئیں اظہار تشکر) ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے دل میں قناعت پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’ اگر تم شکر گزاری کروگے تو اللہ اور نوازے گا۔‘‘ شکر ادا کرنا یا شکر گزاری ایسا عمل ہے کہ جو روحانی سکون کا ذریعہ بھی بنتا ہے اور نعمتوں میں اضافے کا سبب بھی۔ 
روحانی علاج کا دوسرا اہم اصول دعا اور ذکر ہے۔ جب انسان اللہ سے اپنے دل کی اصلاح کی دعا کرتا ہے اور مسلسل ذکر کے ذریعے اپنے باطن کو پاک کرتا ہے تو اس کے اندر منفی جذبات کم ہونے لگتے ہیں اور اس سے یقینی فائدہ ہوتا ہے۔
نفسیاتی علاج کے اعتبار سے حسد کے ازالے کیلئے سب سے اہم چیز ذہنی آگہی ہے۔ انسان کو یہ شعور ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کی زندگی کے صرف ظاہری پہلو دیکھ رہا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں مشکلات اور آزمائشیں ہوتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔ اسی طرح ماہرین ِنفسیات حسد کے علاج کیلئے Gratitude Practice یعنی شکر گزاری کی عادت کو مؤثر قرار دیتے ہیں۔ جب انسان روزانہ اپنی زندگی کی مثبت چیزوں پر غور کرتا ہے تو اس کے ذہن میں محرومی کے بجائے اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور مؤثر نفسیاتی طریقہ خود پر توجہ دینا اور خوبیوں کو پہچاننا ہے۔ اسے انگریزی میں Self Improvement Focus کہتے ہیں جس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان اپنی توجہ دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر مرکوز کرے۔ جب انسان اپنی ترقی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے اندر حسد کے بجائے خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی شفاعت کرنے والے قرآن اور رمضان ہوں گے

معاشرتی سطح پر بھی حسد کا علاج ضروری ہے۔ جب معاشرے میں تعاون، خیر خواہی اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو تو حسد کے جذبات کم ہو جاتے ہیں۔ اسلام نے اسی مقصد کیلئے اخوت، ایثار اور باہمی محبت کی تعلیم دی ہے۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حسد انسانی باطن کی ایک ایسی آگ ہے جو دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اس آگ سے بچنے کی راہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ایمان، شکر، توکل اور خیر خواہی سے منور کرے۔ وہ جب یقین پیدا کر لیتا ہے کہ اللہ کے ذریعہ نعمتوں کی تقسیم حکمت پر مبنی ہے اور ہر شخص کو وہی عطا کیا گیا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے تو حسد کی تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور سکون، اطمینان اور روحانی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ باطنی اصلاح ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے دی ہے اور جس کی تائید جدید علمِ نفسیات (ماڈرن سائیکالوجی) بھی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK