Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملازمت: امانت کا عہداور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے

Updated: March 20, 2026, 4:39 PM IST | Abdulbari Bin Ewazulsabiti | Mumbai

یہ انتظامی معاہدہ نہیں کہ جسم کے حاضر ہونے اور وقت کے ختم ہوجانے سے ختم ہو جاتی ہے،ہر ملازم کو جاننا چاہئے کہ ملازمت کی زندگی چند ایام نہیں کہ گزر گئے اور بھلا دیئے گئے، بلکہ یہ رقم کئے گئے صحیفے اور لکھے گئے رجسٹر ہیں جو ملازم کے انتظار میں ہیں، اس دن جب وہ اللہ سے ملیں گے۔

Duty time is a trust, its hours are a trust, interaction with people is a trust, their secrets are a trust, and their needs are a trust. Photo: INN
ڈیوٹی کا وقت امانت ہے، اس کے گھنٹے امانت ہیں، لوگوں سے تعامل امانت ہے، ان کے راز امانت ہیں اور ان کی ضرورتیں امانت ہیں۔ تصویر: آئی این این

ملازمت ایک مسلسل عمل ہے۔ ملازم اس عمل کے سائے میں عمر کا ایک حصہ گزارتا ہے۔ ہر صبح جاتا ہے اور ہر شام کو لوٹتا ہے اور یہ ملازمت گزرتے دنوں کے ساتھ بار بار ہونے والا ایک روٹین بن جاتی ہے جس میں کبھی کبھار ملازم کو اکتاہٹ بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ سستی کا بھی شکار ہوتا ہے۔

لیکن اسلام کی میزان میں ملازمت کی ایک دوسری ہی شان ہے۔ جب ملازم اپنے گھر سے یہ ذہن میں رکھتے ہوئے نکلتا ہے کہ وہ عبادت کے محراب کی طرف جا رہا ہے، تب کام کا وقت لطف میں بدل جاتا ہے، اس کی حصول یابیاں سعادت بن جاتی ہیں،  صرف کی گئی کوشش عبادت بن جاتی ہے، اس کے گھنٹے سرمایۂ ثواب بن جاتے ہیں اور وہ ملازم مہارت کے ساتھ بندگی کے مدارج طے کرتا جاتا ہے۔ پھر اس کا دل خوش ہوجاتا ہے، اس کی ہمت بڑھ جاتی ہے، اور اپنی بہترین صلاحیتیں لگاتا ہے اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں ایسی لذت پاتا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں۔ کیونکہ وہ قبل اس کے کہ لوگوں کےلئے کام کرے، اللہ کے لئے کام کرتا ہے۔ اور جو اپنے کاموں میں اللہ سے ڈرے گا اس کا اثر بلند ہوگا اور اس کی کوشش میں برکت ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: عیدالفطر: انسان سازی کے ہمہ گیر نظام کا عملی مظہر

تمام ملازمتیں خواہ وہ لوگوں کی نظر میں جتنی بڑی یا چھوٹی ہوں، یہ وطن و امت کے ڈھانچے میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ داعی اپنے منبر و محراب میں، استاد اپنی کلاس میں، ڈاکٹر اپنے مطب میں، انجینئر اپنی عمارت میں، سیکورٹی انچارج اپنے مقام پر، اور انتظامی امور سنبھالنے والے اپنے انتظام و انصرام میں، یا اور دوسرے تمام کے تمام ایک کردار کے حامل ہیں اور ایک پیغام ادا کرتے ہیں۔ ان سے سماج آگے بڑھتا ہے، ترقی ہوتی ہے، عمارت مضبوط ہوتی ہے اور زندگی مستحکم ہوتی ہے۔

ملازمت انتظامی معاہدہ نہیں کہ جسم کے حاضر ہونے اور وقت کے ختم ہوجانے سے ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ امانت کا عہد ہے اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے۔ قیامت کے دن ملازم سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ ڈیوٹی کا وقت امانت ہے، اس کے گھنٹے امانت ہیں، لوگوں سے تعامل امانت ہے، ان کے راز امانت ہیں اور ان کی ضرورتیں امانت ہیں۔ اور جسے اس امانت کی عظمت اور اس ذمہ داری کی سنگینی کا احساس ہوگا وہ لوگوں کے مفادات معطل نہیں کرے گا، ان کی خدمت میں ٹال مٹول سے کام نہیں لے گا اور نہ حق ان کے کام کو پورا کرنے میں تاخیر نہیں کرے گا بلکہ اس کا زندہ ضمیر اور اللہ کا ڈر اسے اس بات پر آمادہ کرے گا کہ وہ سچائی کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرے اور ہر حقدار کو اس کا حق دے۔

ملازمت حقیقت میں لوگوں کی خدمت ہے اور ایسا نفع ہے جو دوسروں تک پہنچتا ہے اور یہ عظیم شرف ہے بلکہ یہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین اعمال میں سے ہے۔ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی طرف آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسولؐ! سب سے محبوب شخص اللہ تعالیٰ کو کون ہے اور سب سے محبوب عمل اللہ کو کون سا ہے؟ تو آپ ؐنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا شخص وہ ہے جو لوگوں کو بہت زیادہ نفع پہنچائے۔‘‘ (طبرانی) 

اجر بڑا ہوتا ہے اور میزان بھاری ہوتی ہے جب انسان ایسے نفع بخش مقام پر ہو جس کا نفع اس کی ذات سے نکل کر ایک بڑے میدان تک پہنچ رہا ہو۔ چنانچہ استاد جب کہ وہ بچوں کو پڑھاتا ہے، نسلیں بناتا ہے، انجینئر جس وقت عمارت کو ترقی دیتا ہے، زندگی کو آسان کرتا ہے، ڈاکٹر جب کہ وہ زخمیوں کا علاج کرتا ہے، امیدیں جگاتا اور درد کم کرتا ہے، اور منتظم جب وہ لوگوں کے معاملات آسان کرتا ہے، ان سے مشقت کو دور کرتا ہے، اور سیکورٹی اہلکار اپنی جگہ پر ملک کی حفاظت کرتا اور لوگوں کی پہرے داری کرتا ہے۔ ہر وہ لمحہ جس میں تم کسی انسان کی مدد کرتے ہو اور ہر وہ کوشش جو تم لوگوں کی ضرورت پوری کرنے میں صرف کرتے ہو، وہ پوشیدہ عبادت ہے جو تمہارے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور آخرت کی میزان میں تمہارے لئے رکھی جاتی ہے، اور وہاں کوئی بھلائی ضائع نہیں جاتی، کوئی کوشش مخفی نہیں رہتی اور کوئی احسان بھلایا نہیں جاتا۔

یہ بھی پڑھئے: حسد:جب انسان بھول جاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ کی حکمت کے مطابق ہے

اللہ کی جاری سنتوں میں سے جو کبھی بدلتی نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ ویسا معاملہ کرتا ہے جیسا وہ لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اور جزا عمل کی جنس سے ہے۔ چنانچہ جو لوگوں کے لئے آسانیاں کرے گا اللہ اس کے لئے اس کا کام آسان کردے گا، جو کسی ضرورت مند کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد کرے گا، جو کسی کمزور اور پریشان حال پر رحم کرے گا اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اور ہرچند کہ بڑا اجر تو آخرت کے لیے مؤخر کیا جاتا ہے لیکن اس کی بشارتیں دنیا ہی میں مل جاتی ہیں، دل کو اطمینان ملتا ہے، اولاد و صحت میں برکت ہوتی ہے، کوشش میں توفیق ملتی ہے اور موت کے وقت حسنِ خاتمہ ہوتا ہے۔اور اس برکت کے مخصوص ترین اور لوگوں کی روزمرہ کی زندگی سے قریب ترین مظاہر میں سے پاکیزہ کھانا اور رزق میں بڑھوتری ہے۔

وہ ملازم جو اپنی ڈیوٹی کے وقت حلال روزی تلاش کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ لقمہ جو وہ اپنے اہل و عیال کے لئے پیش کر رہا ہے اس میں اس کے اخلاص کا پسینہ شامل ہے جو اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا سبب بنا ہے۔ اور جس طرح عمل عبادت ہے اسی طرح اسے حرام یا کوتاہی کے شائبے سے بچانا اس عبادت کا تکملہ ہے۔ اسی سے زندگی خوشگوار ہوتی ہے، دعا سنی جاتی ہے اور زیادہ سے پہلے کم میں ہی قناعت مل جاتی ہے۔

اس کے بالمقابل جس نے لوگوں کے معاملات معطل کرکے انہیں مشقت میں ڈالا یا ان کے کام نپٹانے میں ان پر سختی کی، اللہ اس پر سختی کرے گا۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ کی سنتیں کسی کی رو رعایت نہیں کرتیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو فرمایا:

’’اے اللہ! جسے میری امت کی کوئی ذمہ داری دی گئی اور اس نے ان پر سختی کی تو تُو اس پر سختی کر، اور جسے میری امت کی کوئی ذمہ داری دی گئی اور اس نے ان پر شفقت برتی، تُو اس پر رحم فرما۔‘‘ (صحیح مسلم)

ملازم جب یہ احساس رکھتا ہے کہ وہ عبادت میں ہے تو وہ صبر جمیل سے آراستہ ہوتا ہے اور لوگوں کی ضرورتوں کے لیے اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے۔ وہ اس نرمی سے مزین ہوتا ہے جو کام کو خوبصورت بناتی اور اس کی اصلاح کرتی ہے، اور وہ ہے چہرے کی بشاشت، اچھی بات، اچھی طرح سننا، کام کو آسان کرنا، بزرگ، محتاج اور تنگی میں پھنسے انسان کی حالات کی رعایت کرنا۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔‘‘ 

(صحیح مسلم )

اس کے بعد تواضع کا نمبر ہے، یہ حقیقی بلندی اور بلند قدری ہے جسے دل میں محسوس کیا جاتا ہے قبل اس کے کہ وہ نگاہوں میں دکھے۔ تواضع اختیار کرنے والا ملازم منصب کو لوگوں کی خدمت کا ذریعہ سمجھتا ہے، اسے برتری کا اسٹیج نہیں سمجھتا۔ وہ بڑے چھوٹے میں فرق نہیں کرتا، نہ جاہ و حشمت والے اور عام لوگوں میں فرق کرتا ہے۔ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا جو سب سے بلند مقام کے حامل اور سب سے نرم دل والے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: موجودہ حالات میں ہمیں سیرت نبویؐ سے کون کون سی رہنمائی ملتی ہے!

اللہ کا فرمان ہے:

’’اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔‘‘ (الفرقان:۶۳)

جو باتیں گزریں ان کی بنیاد پر ہر ملازم کو جاننا چاہئے کہ ملازمت کی زندگی چند ایام نہیں کہ گزر گئے اور بھلا دیئے گئے، بلکہ یہ رقم کئے گئے صحیفے اور لکھے گئے رجسٹر ہیں جو ملازم کے انتظار میں ہیں اس دن جب وہ اللہ سے ملیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK