Inquilab Logo Happiest Places to Work

موجودہ حالات میں ہمیں سیرت نبویؐ سے کون کون سی رہنمائی ملتی ہے!

Updated: March 20, 2026, 4:20 PM IST | Waliullah Saeedi Falahi | Mumbai

سخت حالات میں اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنایا جائے، اتحاد ملت کی فکر کی جائے، دعوتی کام جاری رہے، اپنوں اور غیروں سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں اور ہمارے اندر مجتہدانہ شان پائی جائے۔ یہ اور ایسے کام نہایت ضروری ہیں۔

Any important work in the life of the Prophet Muhammad (PBUH) necessarily consisted of three things: one: meticulous planning, second: provision of resources, and third: selection of the best people. Photo: INN
آپؐکی حیات ِ مبارکہ کا کوئی اہم کام تین چیزوں سے لازماً عبارت ہوتا تھا: ایک: باریک بینی کے ساتھ منصوبہ بندی، دوسرا: وسائل کی فراہمی اور تیسرا: بہترین افراد کا انتخاب۔ تصویر: آئی این این

اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کیلئے انبیاء بھیجے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے بندگانِ خدا کو آگاہ کیا اور اس کے پیغام کو بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچایا۔ نبی اسی لئے مبعوث کیے جاتے تھے کہ ان کی بات مانی جائے اور ان کی سیرت پر عمل کیا جائے۔ فرمایا گیا:

’’ہم نے رسول اسی لئے بھیجے کہ اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے۔‘‘ (النساء :  ۶۴)

نبی اکرم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی لئے بھیجا کہ آپؐ کی بات مانی جائے اور آپؐ کی سیرت پر عمل کیا جائے:

’’ رسولؐ تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ ‘‘ ( الحشر: ۷)

اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نبیؐ اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کہتے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ وحی الٰہی ہوتی ہے، وہ اللہ کا حکم ہے جو نبیؐ کی زبان مبارک پر آیا:

’’وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے، بلکہ وہ آپ کو وحی کی جاتی ہے۔‘‘(النجم: ۳۔۴)

یہ بھی پڑھئے: ربّ کی معرفت کا ذریعہ

 آپؐ کی شخصیت اور آپؐ کی سیرت کی اہمیت ان آیات سے واضح ہو جاتی ہے کہ آپ ؐ کی سیرت پر عمل کئے بغیر ہدایت ناممکن ہے اور اس کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمؐ کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’ جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو روگردانی کرے تو ہم نے آپ کو اس پر نگراں نہیں بنایا ہے۔‘‘ (النساء: ۸۰)

نبیؐ اکرم کی سیرت جامع کمالات ہے۔ آپ ؐ کی پوری زندگی وحی کی تعلیمات سے عبارت ہے۔ آپؐ کی سیرت کی روشنی میں زندگی گزارنے اور اسی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنے میں دین اور دنیاکی کامیابی ہے۔ آپؐ کی سیرت کی اہمیت اور اس کی معنویت ہر دور کے لئے ہے۔ دور صحابہؓ، دورِ تابعین،دور تبع تابعین اور بعد کے ادوار میں ہر وقت سیرت رسولؐ کی تعلیمات جگ مگ جگ مگ کرتی رہیں اور جب بھی لوگوں نے نبیؐ اکرم کی سیرت پر عمل کیا اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کیا وہ کامیاب و کامران رہے اور جب جب لوگوں نے سیرت رسولؐ سے منہ پھیرا وہ ذلیل و رسوا ہوئے۔

نبیؐ اکرم نے اسی اہمیت کے پیش نظر فرمایا تھا کہ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اور جب تک ان کو پکڑے رکھو گے بھٹکو گے نہیں : وہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبیؐ کی سنت ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم) 

دشمنانِ اسلام یہ تنقید کرتے ہیں کہ مسلمان ۱۴؍ سو سال پیچھے کی بات کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو رجعت پسند ی اور بنیادپرستی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ وہ حقیقت سے بے خبر ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز قرآن مجید اور نبی اکرمؐ کی سیرت میں ہے۔ آپؐ چوں کہ رہتی دنیا تک کیلئے پیغمبر ہیںاسی لئے پوری دنیا بالخصوص مسلمانوں کی کامیابی کا راز سیرت رسولؐ میں ہے۔ ۱۴؍ سو سال قبل جس طرح انہیں کامیابی ملی، اسی طرح آج بھی کامیابی ملے گی۔ حضرت امام مالکؒ کا مشہور قول ہے: ’’امت کے اندر بعد میں آنے والے لوگوں کی اصلاح اسی طریقے سے ممکن ہے، جس طریقے سے پہلے کے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آئیے! پھر ایک بار ہم رمضان کا سبق تازہ کریں!

کسی بھی قابل ذکر کام کو انجام دینے کے لئے حکمت عملی کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ حکمت عملی کی بنیاد عمیق غور و فکر اور دانشمندانہ منصوبے کی تشکیل پر ہے۔ نبی اکرمؐ کی حیات ِ طیبہ بہترین حکمت عملی سے معمور ہے۔ آپؐکی حیات ِ مبارکہ کا کوئی اہم کام تین چیزوں سے لازماً عبارت ہوتا تھا:  ایک: باریک بینی کے ساتھ منصوبہ بندی، دوسرا: وسائل کی فراہمی اور تیسرا: بہترین افراد کا انتخاب۔ اس کے سبب رزلٹ سو فیصد نکلتا تھا۔ آج کے اس دور میں حالات کے بہترین تجزیہ کے بعد ایک عمدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کی رہ نمائی ہمیں نبیؐ اکرم کی سیرت پاک سے ملتی ہے۔

جب آپؐ نبی بنائے گئے تو آپؐ نے دعوتی حکمت عملی مرتب فرمائی۔ آپ ؐ نے شروع میں دعوت کو علی الاعلان رکھنے کے بجائے خفیہ رکھا۔ یہ آپ ؐ کی بہترین حکمت عملی کا شاہکار نمونہ تھا۔ اسی طرح شدائد اور آزمائش کے ماحول میں بدلہ لینے اور جذبات میں آنے کے بجائے صبر واستقامت اور صبر و شکر کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا۔آپ ؐ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر تھے۔ دعا کر دیتے تو کفر و شرک شکست فاش سے دوچار ہو جاتے مگر آپؐ نے جو حکمت عملی اپنائی وہ آزمائشوں سے گزرنے، وسائل و اسباب تلاش کرنے اور آنے والوں کے لئے بہترین نمونہ چھوڑنے کی حکمت عملی تھی۔

سفر ہجرت پورا کا پورا منصوبہ بند تھا اور آپ ؐ کی بہترین حکمت عملی کا شاہکار تھا۔ راستہ تھا شمال کی طرف اور آپ ؐ نکلے جنوب کی طرف۔ سفر فوراً شروع نہیں کیا، بلکہ توقف کیا۔ غارِثور میں کھانے کا انتظام، مشرکین مکہ کی مجلسوں میں کیا ہو رہا ہے؟ اس سے باخبر رہنے کا بہترین انتظام اور خالص دینی سفر میں ایک ماہر مشرک کی خدمات کا حصول وغیرہ۔

نبیؐ اکرم کی زندگی میں نئی نئی چیزوں کی دریافت اور غلبۂ دین کے راستے میں ان کے استعمال کا بھی جگہ جگہ نمونہ ملتا ہے۔ کوہِ صفا سے آپ ؐ کا آواز بلند کرنا اور مکہ کے مشہور بازاروں میں تبلیغ کے لئے جانا، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

آپؐ کی ایک حکمت عملی یہ بھی تھی کہ دعوت کا کام حکمت و دانائی کے ساتھ کیا جائے۔ آپ ؐ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ آپ ؐ کہہ سکتے تھے کہ میں رسول خدا ہوتے ہوئے خانہ کعبہ میں بتوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ پہلے وہ ہٹانے چاہئیں۔ لیکن آپ ؐ کی حکمت اور منصوبہ بندی کا تقاضا تھا کہ بتوں کی موجودگی میں نماز پڑھی جائے۔ پہلے دل بدلے جائیں، اس کے بعد بت ہٹائے جائیں۔

اتحاد و اتفاق کی حکمت ِ عملی بھی غیر معمولی تھی۔ آپ ؐ نے سب کو ایک بنا دیا۔ اوس و خزرج ایک ہو گئے۔ جنگیں ختم ہو گئیں۔ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًا (اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے) کا منظر سب نے اپنی انکھوں سے دیکھا۔ ایک دوسرے کے دشمن ایک دوسرے کے جگری دوست بن گئے۔

نبی اکرمؐ کی حکمت عملی کا ایک نمونہ معاہدات ہیں۔ آپ ؐ نے بہت سے معاہدے کئے، ان کا مقصد اسلامی کاز کا مفاد تھا۔ اسی لئے آپؐ نے دشمنوں سے بھی معاہدات کئے۔ صلح حدیبیہ اس کا شاہکار نمونہ ہے۔ جنگی حکمت ِ عملی نبی اکرمؐ کی سیرت کا ایک زریں باب ہے۔ امن،صلح اور جنگ ہر مرحلے میں آپؐ نے بہترین حکمت عملی مرتب کی اور اس کے نتائج بھی غیر معمولی برآمد ہوئے۔

عصر حاضر میں ہمیں سیرت رسولؐ سے رہ نمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے حالات سے ہر شخص واقف ہے۔ ملک میں وہاں نفرتیں بڑھ رہی ہیں، مذہب کے نام پر دوریاں ہو رہی ہیں، مسلم پرسنل لا کا مسئلہ، حجاب کا مسئلہ، مسلم خواتین کے حقوق کے مسائل، مساجد اور مدارس کا مسئلہ، اوقاف کا مسئلہ اور مسلمانوں کے وجود اور تشخص کا مسئلہ روزانہ زیر بحث رہتا ہے۔ ان حالات میں نبی اکرمؐ کی سیرت سے ہم کو کیا رہنمائی ملتی ہے؟ ملاحظہ کیجئے:

۱۔ سخت ترین حالات میں آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے حددرجہ مضبوط ہوجاتا تھا۔

آج کے حالات میں ہمارے لئے سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم اپنا تعلق اپنے رب سے مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو۔ وہ تمہارا مولا ہے، پس کتنا بہترین مولا ہے اور کتنا بہترین مددگار۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہولناک دن کی کیفیات،غفلت کا علاج، ابرہہ کا انجام اور شر سے پناہ کی دُعا سنئے

۲۔ موجودہ حالات میں نبی اکرمؐ کی سیرت سے ہمیں دوسری رہنمائی یہ ملتی ہے کہ ہماری صفوں میں اتحاد ہونا چاہئے۔ اگر ہم متحد ہونے کے بجائے منتشر ہوںگے تو ہماری حالت اور خراب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ لڑو۔ پس تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ َ(الانفال:۴۶)

۳۔ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، ہم دعوتِ دین کا کام کرتے رہیں۔ آپؐ کے زمانے میں حالات بہت سخت تھے۔ مشرکینِ مکہ صحابہ کرام ؓ کی جان کے پیاسے تھے۔ لیکن اس وقت بھی آپ اور آپؐ کے صحابہ ؓکو یہی حکم ہوا کہ دعوت کا کام جاری رکھیں:

’’اور اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔(فصلت: ۳۳)

۴۔ آپؐ کی سیرت سے ہمیں چوتھی رہنمائی یہ ملتی ہے کہ اپنوں اور غیروں کے ساتھ ہمارے اخلاق بہت اچھے ہوں۔ نبی کریم ؐ بہترین اخلاق پر فائز تھے۔ قرآن مجید نے اس کی گواہی دی ہے۔ جن لوگوں نے آپؐ کو گالی دی، آپؐ نے ان کو دعائیں دیں، جنہوں نے آپؐ کے قتل کی سازش کی آپؐ نے ان کو معاف کر دیا۔ آپ ؐ کا دعوت دینے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے روابط قائم فرماتے، گھریلو حالات سے آگاہ ہوتے اور اگر مخاطب کسی پریشانی میں ہوتا تو آپؐ اس کی پریشانی دور کرنے کی فکر فرماتے۔ پہلے لوگوں کے کام آتے، جب دل کی دنیا نرم ہو جاتی تب دعوت دیتے۔ ہمیں بھی یہی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں ازلی دشمن بھی جگری دوست بن جاتا ہے، مفہوم فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے۔ برائی کا جواب اچھائی سے دیجیے تو آپ اور جن کے درمیان دشمنی ہے ختم ہوجائیگی اور جگری دوستی میں بدل جائے گی۔‘‘ (فصلت: ۳۴)

۵۔ سیرت ِ نبویؐ سے پانچویں رہنمائی یہ ملتی ہے کہ ہمارے اندر مجتہدانہ شان پیدا ہونی چاہئے۔ نئے نئے حالات کے پیش نظر کتاب و سنت کی روشنی میں اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہئے۔ آپؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے، اُنہیں یمن بھیجتے وقت سوال کیا تھا:  اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جس میں قرآن مجید اور میری زندگی میں براہِ راست رہ نمائی نہ ملتی ہو تو کیا کرو گے؟ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے جواب دیا تھا: ’’ میں قرآن مجید اور آپ کی سیرت کی روح کی روشنی میں اجتہاد کروں گا۔‘‘ موجودہ حالات میں ہمیں بہت سارے امور و مسائل میں اجتہاد کرنا ہوگا۔ کتاب و سنت میں بصیرت پیدا کرنا ہم میں سے ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔ اسی بصیرت کے نتیجے میں مجتہدانہ شان پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان کے آخری ایام دراصل خود احتسابی کے دن ہوتے ہیں

خلاصہ کلام یہ ہے کہ عصر حاضر میں سیرت کی رہ نمائی کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ سیرتِ رسولؐ کی رہ نمائی اور آپ ؐ کی زندگی کے مطالعے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔ نبی اکرمؐ ہمارے رہبر و رہ نما ہیں۔ آپ کی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ سیرت کا تسلسل کے ساتھ مطالعہ ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بنے گا، ان شاء اللہ

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK